Zindagi Kay Teen Asool | Yasir Pirzada

81

Yasir Pirzada latest column in Jang Akhbar

کسی زمانے میں زندگی گزارنے کے اصول جوگی، فلسفی یاصوفی قسم کے لوگ بتایا کرتے تھے، قدیم دانش اُن کے سینوں میں دفن ہوتی تھی، برسہا برس کی ریاضت یہ لوگ کرتے تھے جس کے بعد اُ ن پر زندگی کی مشکلات آشکار ہوتیں جنہیں وہ تجربے کی مدد سے کوزے میں بند کرتے اور پھر ایک کیپسول سا بنا کر لوگوں کی رہنمائی کیلئے پیش کردیتے۔ قدیم روایتیں، زندگی کی تدبیریں، دانش پر مبنی اقوال، سبق آموز واقعات ….. جنہیں پڑھ کر ہم سر دھنتے ہیں پر عمل نہیں کرتے ….. ہمیں ایسے ہی حکما، فلاسفر اور روحانی پیشواؤں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوئے ہیں۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، اب وہ دانش ور رہے نہ حکیم، جوگی رہے نہ فلسفی، زندگی البتہ ویسی ہی کٹھن ہے بلکہ مزید پیچیدہ ہو چکی ہے، سو اِن حالات میں آپ کو مجھ ایسے فقیر پر ہی گزارا کرنا پڑے گا کہ اِس حقیر پر تقصیر نے بھی زندگی گزارنے کے تین اصول تلاش کئے ہیں، اِن اصولو ں کو اگرگلے سے لگا لو تو زندگی میں کافی حد تک افاقہ ہو جاتا ہے ۔
پہلا اصول، یہ دنیا نا انصافی پہ کھڑی ہے، جتنی جلدی ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں اتنا ہمیں سکون ملے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق ہم روزانہ اپنے سے نالائق مگر بظاہر خوشحال لوگوں کو دیکھ کر تقریباً ستاون مرتبہ دل جلاتے ہیں اور اجڈ لوگوں کو عیاشی کرتے دیکھ کر تقریبا اڑتالیس مرتبہ خون جلاتے ہیں، یہ بات تا حال کسی تحقیقی جریدے میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ یہ ابھی کالم لکھتے لکھتے مجھ پر القا ہوئی ہے، اب چونکہ میں نے یہ بات لکھ دی ہے اور اخبا ر میں شائع ہونے کے بعد آپ اسے پڑھ بھی رہے ہیں تو آنکھیں بند کرکے اِس پر ایمان لے آئیں اور بلا کھٹکے ہر جگہ حوالہ دیں، کوئی سند نہیں پوچھے گا۔ زندگی کے اصول کی طرف واپس آتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں لوگ ہم اپنے اردگرد ایسے دیکھتے ہیں جن میں نالائقی کوٹ کوٹ کر بھری ہے مگر وہ نہ صرف اچھی بھلی ملازمت کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے بے شمار تو اعلی عہدوں پر بھی فائز نظر آتے ہیں، کروڑ پتیوںکا بھی یہی حال ہے ، بظاہر کوئی خاص صلاحیت اُن میں نظر نہیں آتی بلکہ اکثر تو اچھے خاصے اجڈ اور ڈنگر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود کروڑوں میں کھیلتے ہیں۔ آج کل عید کی گہما گہمی ہے، کسی بھی شاپنگ مال میں چند منٹ گزاریں اور صرف یہ دیکھیں کہ کس قسم کے لوگ مہنگی خریداری کرنے آتے ہیں، طبیعت یہ دیکھ کر نہال ہو جائے گی کہ لینڈ کروزر سے ایک ’’چپینگا‘‘ (یہ لفظ ادا کرنے سے ہی اس کا مطلب واضح ہوگا) قسم کا شخص اترے گا، پہلو میں کوئی حور ہو گی اور وہ کھڑے کھڑے اُس سیلز مین سے ہزاروں لاکھوں روپو ںکی خریداری کرلے گا جو اُس چپینگے کے مقابلے میں ہیرو لگ رہا ہوگا۔ سرکاری دفتر میں چلے جائیں اور کسی افسر سے پانچ منٹ گفتگو کرکے دیکھ لیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ جس شخص کو کلرک کی ملازمت ملنی چاہئے تھی وہ ڈویژن کا انچارج بنا بیٹھا، جو شخص فیکٹر ی میں سپر وائزر بننے کا اہل نہیں تھا وہ اپنے ابا جی سے ورثے میں ملنے والی دس فیکٹریوں کا مالک ہے اور جس کو ڈھنگ سے بولنا نہیں آتا اس کے پاس ہزاروں مربعے اراضی اس لئے ہے کہ وہ ایک جاگیر دار کے گھر پیدا ہوگیا۔ ناانصافی کے اس اصول کو تسلیم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم زندگی میں جدو جہد کرنا چھوڑ دیں یا یہ سوچ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں کہ جب مقدر میں ہی نا انصافی لکھ دی گئی ہے تو پھرکسی بھی قسم کی کوشش کا کیا فائدہ۔ اس اصول کو اپنانے کا مقصد صرف اپنی زندگی کو پر سکون بنانا ہے کیونکہ اگر ہم اپنی صلاحیت کا خود سے تعین کرنے کے بعد اپنے مقام کا بھی تعین کرنے بیٹھ جائیں گے اور اِس ضمن میں اپنے ارد گرد اُن لوگوں کو پیمانہ بنائیں گے جو بظاہر ناکارہ نظر آتے ہیں تو پھر ہم روزانہ ستاون مرتبہ اپنا دل اور اڑتالیس مرتبہ خون ہی جلائیں گے۔
دوسرا اصول۔ زندگی کے مسائل کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ ایک دریا کے پار اترنے کے بعد ہمیشہ ایک اور دریا کا سامنا کرنے پڑے گا۔ زندگی کے مسائل صرف موت کے ساتھ ہی ختم ہوں گے۔ جس وقت ہم کسی گمبھیر مسئلے میں الجھے ہوتے ہیں تو یہ سوچتے ہیں کہ بس کسی طرح یہ مسئلہ حل ہو جائے تو زندگی میں سکون ہی سکون ہے۔ کالج میں سوچتے ہیں کہ نمبر اچھے آگئے تو لائف بن جائے گی، نمبر اچھے آجائیں تو سوچتے ہیں کہ نوکر ی مل جائے تو مسئلہ حل، نوکری ملے تو سوچتے ہیں شادی اچھی جگہ ہو جائے، شادی ہو جائے تو سوچتے ہیں زیادہ پیسے کمائے جائیں….. یہ مسئلے قبر تک ختم نہیں ہوتے۔ آج سے چھ ماہ پہلے جس مسئلے کو ہم نے اپنی زندگی کی ٹینشن بنایا ہوا تھا آ ج ذہن پر زور دینے کے باوجود بھی شاید یاد نہ آئے۔ آج جس مسئلے میں ہم الجھے ہوئے ہیں اسے حل کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح یہ امید بندھ چلی ہے کہ اب زندگی میں سکون آجائے گا۔ سکون یہ مسئلہ حل کرنے سے نہیں ملے گا، سکون اِس بات سے ملے گا کہ ِاس کے بعد بھی زندگی میں ایسے ہی مسائل آتے رہیں گے اور اُن سے بھی نمٹ لیا جائے گا، بس خدا مسائل سے نمٹنے کی ہمت اور تدبیر دے۔ سو زندگی سے یہ امید نہ رکھیں کہ اس کا کوئی فارمولہ ایسا بھی ہے جسے لگانے سے انسان کی زندگی سے مسائل ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتے ہیں، ایک کے بعد ایک مسئلہ سر اٹھاتا رہے گا، جب تک اس سفاک دنیا میں ہم زندہ ہیں، اس گھن چکر سے نجات ممکن نہیں، اس اصول کو پلے سے باندھ لیں، زندگی قدرے سکون میں آ جائے گی۔
تیسرا اصول۔ خوف سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔ اندیکھے مستقبل کا خوف، زندگی کی آسائشیں چھن جانے کا خوف۔ یہ خوف انسان کی زندگی اجیر ن بنا دیتا ہے، خاص طور سے اُن لوگو ں کے لئے جو اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں یا بے پناہ دولت کے مالک۔جوں جوں آپ زندگی میں طاقت، دولت اور اقتدار حاصل کرتے ہیں توں تو ںیہ خوف بڑھتا چلا جاتا ہے، آج کا جدید ذہن کا انسان سائنس کی پیدا وار ہے، وہ پیروں، فقیروں اور درباروں پہ جانا پسند نہیں کرتا، چنانچہ وہ اِس خوف سے چھٹکارا پانے کے لئے ماڈرن صوفیوں کے در پہ جاتا ہے۔ جرنیلوں سے لے کر بیوروکریٹ اور سیاست دانوں سے لے کر ارب پتیوں تک ہر شخص کا اپنا ایک ماڈرن سوٹڈ بوٹڈ کلین شیوڈ پیر ہے، یہ لوگ اس پیر کے پاس جا کر مستقبل کے خوف سے چھٹکارا پانے کا طریقہ پوچھتے ہیں ….. کہیں دولت تو نہیں چھن جائے گی ، پوسٹنگ تو نہیں چلی جائے گی ، اقتدار ختم تو نہیں ہو جائے گا….. ماڈرن بابوں کو اِن کے خوف کا مکمل ادراک ہے، یہ انہیں مختلف طریقوں سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انسان کا یہ خوف ازلی ہے اور ابد تک رہے گا۔ جتنی جلدی ہم یہ اصول جان لیں کہ مستقبل کا علم سوائے خدا کی ذات کے اور کسی کو نہیں اور مستقبل کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ کہ زندگی میں مستقبل کے حوالے سے جو اندیشے ہمارے دماغ میں پلتے ہیں ان میں سے اسّی فیصد کبھی حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتے، اتنا ہم سکون میں رہیں گے۔ دوسری صورت میں جرنیل یا فیڈرل سیکریٹری بننے کے بعد بھی کسی ماڈرن بابے کی محتاجی رہے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔