Wazir e Azam Kaun? Shahbaz Sharif Yan Imran khan | Ansar Abbasi

42

Ansar Abbasi Latest Column in Jang Akhbar

گزشتہ ہفتہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں ہمارے سینئر اور محترم افتخار احمد نے قدرے حیران کن انکشاف کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کو میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد یہ ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ ن لیگ توڑ کر ایک ایسا دھڑا بنایا جائے جو نواز شریف کی ٹکرائو کی سیاست کا مخالف ہو۔ افتخار صاحب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار سے جس کام کی توقع تھی وہ ابھی تک وہ کام نہیں کر سکے۔ افتخار صاحب کے مطابق شہباز نثار کے پاس ایک مہینہ کا وقت ہے کہ وہ توقعات کے مطابق نتیجہ دیں لیکن ابھی تک وہ نواز شریف کی کوئی replacement دینے میں ناکام ہوئے ہیں۔ افتخار صاحب کاکہنا تھا کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار نے جس چیز کا وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک تو باہر نہیں آئی۔ جو انکشاف میرے محترم سینئر نے کیا اُس کی تصدیق یا تردید میں نہیں کر سکتا۔ ویسے جس ٹی وی ٹاک شو میں افتخار صاحب نے بات کی اُس میں میں بھی مدعو تھا۔ ان حالات پر میزبان نے مجھ سے آئندہ کے سیاسی حالات کے بارے میں پوچھا تو میں ہنس پڑا کہ ان حالات میں کیا تجزیہ دوں۔ ہم سے تجزیہ کیا لینا اور اس تجزیہ کی کیا اہمیت جب کہ کھیل ایک پلاننگ کے ساتھ کھیلایا جا رہا ہے اور کھیل کھلانے والے نے فیصلہ کرنا ہے کہ اُس نے شطرنج کی اگلی چال کون سی چلنی ہے اور کسے بادشاہ اور کسے ولن کا رول ادا کرنا ہے۔ یہی کچھ تو پاکستان میں ہوتا رہا اور اسی کا تو ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو یہاں بنایا اور بگاڑا جاتا ہے۔ یہاں سیاستدان بنائے جاتے ہیں اور انہیں اشاروں پر چلنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جب کوئی حکم کے مطابق نہ چلے تو اُسے رد کر دیا جاتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو دوسروں کے لیے مثال بھی بنا دیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں توڑ دی جاتی ہیں اور اُن میں سے نئے رہنمائوں کو آگے لایا جاتا ہے۔ یہ تمام حربے وقتی طور پر تو کام کرتے ہیں لیکن پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے تو لوگ اپنی من پسند سیاسی جماعت کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ سب کھیل ہوئے لیکن پی پی پی نے اپنی حیثیت قائم رکھی یہاں تک کہ آصف علی زرداری صاحب آئے انہوں نے گزشتہ آٹھ نو سال کے دوران وہ کام کیا جو کوئی ڈکٹیٹر، کوئی ایجنسی، کوئی دشمن پی پی پی کے ساتھ نہ کر سکا۔ اب دیکھنا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اگر واقعی شہباز شریف اور چوہدری نثار نے کوئی وعدہ کیا اور وہ نواز شریف کے خلاف کسی replacement کو آگے لانے کے پلان پر کام کر رہے ہیں تو پھر دیکھنا پڑے گا کہ ان کی کوششیں کیا رنگ لاتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ میں اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا کہ کیا شہباز نثار واقعی کسی ایسے پلان پر کام کر رہے ہیں لیکن جہاں مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ کیا ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کو بنانے اور بگاڑنے اور حکومتوں کوبنانے گرانے کا یہ کھیل ایسے ہی چلتا رہے گا، وہاں میں یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کھیل کھلانے والے یہ سب کچھ کس کے لیے کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند سال کے دوران تو بات یہ ہوتی رہی کہ تحریک انصاف کو آگے لایا جا رہا ہے۔ بہت سوں کو امید پیدا ہوئی بلکہ عمران خان اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ شہباز شریف اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ شہباز صاحب کے بیٹے خصوصاً سلیمان شہباز کی علیک سلیک تو بہت خاص لوگوں سے ہو چکی ہے۔ کھیل سجانے والے کیا کریں گے اس کی تو مجھے کوئی خبر نہیں۔ عمران خان وزیر اعظم بنیں گے یا شہباز شریف، اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا لیکن اگر سیاسی حالات میں کسی کھیل کا عمل دخل نہ ہو تو مجھے نہیں لگتا کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو ناراض کر کے عوام سے ووٹ لے سکتے ہیں۔ جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے تو میری رائے میں ن لیگ کا ووٹ در اصل نواز شریف کا ووٹ ہے۔ جو نواز شریف کو چھوڑے گا اُسے ن لیگ کے ووٹر بھی چھوڑ دیں گے جس طرح پی پی پی ووٹرز نے تاریخ میں ہمیشہ انہیں رد کیا جنہوں نے پی پی پی سے اختلاف کر کے کوئی نئی پارٹی بنائی۔ میری ذاتی رائے میں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی پالیسی سے سخت اختلاف کے باوجودان سے اپنی راہیں جدا کرنے کی غلطی نہیں کریں گے چاہے کھیل کھلانے والوں نے اُن کے ساتھ کوئی بھی وعدہ کیا ہو۔ شہباز شریف اگر وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے نواز شریف کے ووٹ کی ضرورت ہو گی۔ ممکن ہے کہ نواز شریف اپنی واپسی پر ایک ادارہ (عدلیہ) سے تو ٹکرائو کی پالیسی برقرار رکھیں لیکن دوسرے ادارہ (فوج) کے بارے میں محتاط ہو جائیں اور یہی شریف خاندان کی متفقہ پالیسی ہو۔