Waba Politics Yan MaAshi Hamla By Dr Babar Awan

90

Dr Babar Awan Latest Article in dunya Akhbar..

وبا عالمِ انسانیت کے لیے ناگہانی بلا ہوتی ہے اور نظر نہ آنے والی آفت بھی۔ آدم سمتھ نے اِکنامکس کی دنیا میں ایک تہلکہ خیز ڈاکٹرائن پیش کی تھی جسے Natural Checks on Population کے نظریے کا نام دیا گیا۔ انسانی آبادی کی افزائش پر جنگ کی تباہ کاریاں، وبا کی ہلاکت خیزی اور قدرتی آفات کے Disasters اس نظریے میں شامل کیے گئے۔
COVID-19 کی وبا المعروف کورونا وائرس پھیلنے کی ایسی ایسی وجوہ بیان کی جا رہی ہیں‘ جن کے بطن سے 3 عدد مباحث یا سازشی تھیوریاں ساری دنیا میں مقبول ہو رہی ہیں۔ آئیے زمینی حقیقتوں کی روشنی میں کورونا وائرس ڈیبیٹ کا جائزہ لیں۔
پہلا پہلو: اب اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ کورونا وائرس وبائی بیماری ہے‘ جس نے نیشن سٹیٹس کی سرحدوں کو پامال کرکے رکھ دیا۔ اسی لیے کرہ ارض پر آج وہ وہ کام ہو رہے ہیں جو فرسٹ ورلڈ وار اور دوسری جنگِ عظیم میں بھی نہ ہوئے ہوں گے‘ حالانکہ ان جنگوں میں مختلف براعظموں کے کروڑوں لوگ آگ اور خون میں جھلس کر مارے گئے تھے۔ سُپر طاقتوں کے زمانے میں کبھی کوئی یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ بہادر، برطانیہ اور یورپ سے اُڑنے والے ہوائی جہازوں، بحری راستے سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنے بارڈر لاک ڈائون کر سکتا ہے۔ کینیڈا علیحدہ سے ایک منفرد بّرِ اعظم ہے‘ جس کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی شریکۂ حیات، خاتونِ اوّل صوفی ٹروڈو کا ٹیسٹ کورونا پازیٹیو نکل آیا۔ ہیتھرو، پیرس، روم، سپین جیسے دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹ خالی پڑے ہیں‘ جہاں ہر 90 سیکنڈ کے بعد کسی نہ کسی ملک کی فلائٹ اترا کرتی تھی۔ یہ ابھی چند ہفتے پہلے کی ہی تو بات ہے‘ جب کورونا وائرس نے‘ جس کا سائنسی نام COVID-19 ہے‘ تنِ تنہا ایک نئی عالمی جنگ چھیڑنے کے لیے چین کے شہر ووہان سے اُڑان بھری۔ ہر مذہب کی عبادت گاہیں اور تقدیس کے مراکز بھی اس وبا سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے انسانوں سے بھرے ہوئے ڈیپارٹمنٹل سٹورز، ملٹی سٹوری شاپنگ مالز، ماڈرن سینماز، پَب، کلب، ڈانسنگ فلورز پر تالے پڑ گئے۔ وائرس کو نہ نظر آنے والا چھوٹا سا کیڑا سمجھ لیں‘ جس کی عالمگیر دہشت اور خوف ایٹم بموں سے بھی زیادہ ہے۔
ایسا بھی پہلی بار ہوا کہ ایک مغربی ملک کا سیاحتی بحری جہاز Diamond Princess ہزاروں مسافر لیے کئی ہفتوں سے بندرگاہ پر پابند ہے مگر کورونا وائرس کے خوف سے مسافروں کو کروز سے نیچے آنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ بحری جہاز کے اندر ہزاروں بے گناہ لوگ کس حال میں ہیں اس بارے میں مہذب دنیا میں نہ تو کوئی خبر پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی کوریج۔
غازی سلطان حضرت صلاح الدین ایوبیؒ پر اپنے وقت کی نیٹو نما عالمی طاقتوں نے صلیب کے نام پر کروسیڈ کیے۔ اس سے پہلے ہیلن آف ٹرائے کی خوبصورتی کی وجہ سے ٹروجن ہارس برانڈ 1000 سالہ جنگ لڑی گئی۔ پھر مہا بھارت اور نپولین وارز برپا ہوئیں مگر ان سب جنگوں کے حملہ آور دکھائی دیتے تھے۔ کورونا انسانیت کا ایک گھوسٹ دشمن ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے منظم سماج، بے پناہ مالی وسائل اور ہمہ گیر آگاہی مہم برپا کر کے نہ دکھائی دینے والے اس خوفناک دشمن کو زیر کر لیا۔ جمعرات کا دن‘ جب وکالت نامہ لکھا جا رہا تھا‘ چین کی جدید تاریخ کا ایک ”بڑا دن‘‘ ثابت ہوا۔ اس روز چین میں کورونا وائرس کا ڈسا ہوا کوئی مریض سامنے نہ آیا۔ تازہ ترین دستیاب مصدقہ معلومات کے مطابق کورونا کا دوسرا Hub اِٹلی نکلا‘ جہاں اس وقت 35,713 مریض کورونا پازیٹیو ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایران ہے جہاں سے صرف سرکاری خبریں ہی باہر آ سکتی ہیں۔ اس وقت ایران میں کورونا وائرس پازیٹیو مریضوں کی رپورٹ شدہ تعداد 17,361 ہے۔
دوسرا پہلو: COVID-19 کورونا کی گود میں سے جنم لینے والی سیاست بھی عجیب ہے۔ پاکستان میں تو کورونا سیاست خاصی مضحکہ خیز ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر سب سے بڑے ماہرِ امورِ کرپشن، جن کے ڈنکے بے نامی اکائونٹس کرپشن کے دفاع کی وجہ سے چہار دانگ عالم میں بج رہے ہیں، بیچ کورونا سیاست کے ”میں سیاست دان ہوں لہٰذا میں نے سیاست ہی کرنی ہے۔ میں تو مسجد میں بھی سیاست کرنے جاتا ہوں۔ ہم تو کورونا پر بھی ڈٹ کر سیاست کریں گے۔ جس نے کورونا ایشو پر سیاست نہیں کرنی وہ جا کر کوئی اور کام تلاش کر لے‘‘۔ ایسے ہی ایک اور Wizard نے کورونا کا ڈی این اے تک نکال باہر کیا۔ اپنے وائرل شدہ تازہ ویڈیو پیغام میں یہ عالی دماغ کورونا وبا کی شناخت یوں بیان فرماتے ہیں۔ موصوف نے پنجابی اور انگریزی مِکس لغت میں فرمایا ”یہ جو کورونا ہے ناں؟ یہ بدلہ لینے آیا ہے۔ اور یہ جو لوگ ہیں ناں۔ انہوں نے جو ڈینگی مار دی ہے ناں۔ یہ ڈینگی کورونا کی گھر والی تھی۔ اب کورونا اپنی بیوی ڈینگی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بندے مارتا پھر رہا ہے‘‘ـ That’s All۔ پاکستان میں اس وبا کے تیسرے بڑے ہمدرد ان دنوں مے فیئر لندن سے عوام کو بے راہِ راست، خطابتے ہیں۔ پنجاب کے سابق خادمِ اعلیٰ ہر روز نیا تحقیقاتی کمِیشن بنانے کا مطالبہ کرتے سنائی دیتے ہیں‘ لیکن پاکستانیوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے چند تاریخی مطالبے یوں فلم بند ہوئے ہیں۔ مثلاً سینیٹائزر مہنگا ہونے پر کمیشن بنایا جائے، ماسک غائب ہونے پر کمیشن بنایا جائے، کورونا امپورٹ کرنے پر پی آئی اے کے خلاف کمیشن بنایا جائے، بر وقت کورونا کو تافتان بارڈر پر گرفتار نہ کرنے کا کمیشن بنایا جائے۔ کمیشن بنانے کی اس ریڈیائی اور نشریاتی لہر میں اگر کسی نے کہہ دیا کہ مے فیئر لندن فراری کیمپ ختم کرنے کا کمیشن بنایا جائے‘ عدالتی مفروروں کی واپسی کا کمیشن بنایا جائے اور کِک بیک کھا کر بھاگنے والوں کی گرفتاری کا کمیشن بنایا جائے‘ تو ایسے کمیشن کو امورِ کرپشن کے ماہرِ اوّلین کے فارمولۂ سیاست پر عمل درآمد تصور کیا جائے۔
کورونا پالیٹکس امریکہ کے صدارتی الیکشن پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ انتخابات 2020 عیسوی کے آخر میں منعقد ہوں گے۔ کورونا وائرس پر سیاست کا آغاز عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کرتا دھرتائوں نے کیا‘ جس کا صاف نشانہ چین تھا۔ اگلے روز چین نے کورونا وائرس کے معاملے پر پاکستان کی زبردست تعریف کی۔ چینی ترجمان نے پاکستان کو آہنی دوست کا لقب دیا۔
تیسرا پہلو: چین پر مسلسل معاشی حملے جاری رہتے ہیں۔ کبھی کمیونٹی اور کبھی ٹائے سکینڈل۔ اس کے باوجود چین ہر چیلنج کو قبول کر کے آگے بڑھتا رہا۔ شروع میں یوں لگتا تھا یہ مصیبت صرف چین کے لیے تخلیق ہوئی۔ اللہ خیر رکھے لیکن مغرب کے اپنے اندازے کہتے ہیں امریکہ اور برطانیہ کی 80 فیصد آبادی مصیبت کی زَد میں آ سکتی ہے۔ ساری جنگیں آگ اور خون کے بیوپار سمیت ایک ہی سبق پر ختم ہوئیں، یہی کہ انسان انسانوں کو مار کر انسانیت کا علم بلند نہیں کر سکتے۔ ہر قضیے کا آخری حل رائونڈ ٹیبل ٹالک ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کورونا وائرس موٹاپے کا شکار ہے۔ جہاں بیٹھ جائے، 3 دن وہیں پڑا رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے وائرس آسانی سے لمبے فاصلے طے کر جاتے ہیں۔ جمعرات کی دوپہر وزیر اعظم عمران خان سے 90 منٹ سے زیادہ نشست رہی۔ ان کی گفتگو کا مرکز و محور اور ساری سرگرمیاں کورونا وائرس کو شکست دینے کے ارادوں پر مبنی ہیں۔ اجتماعی شعور، خوف و ہراس یا بے یقینی سے پیدا نہیں ہوتا۔ بے یقینی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ ذراسو چیے اگر یاسیت پرستوں کی مان کر پاکستان میں لاک ڈائون کر دیا جائے تو دہاڑی دار مزدور کھانا کہاں سے کھائیں گے۔ اس لیے جو تماشا گر خوف کو سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں خدا کا خوف ہونا چاہیے۔