Ulmae Karam Khamosh Kion | Ansar Abbasi

20
Ansar Abbasi Latest Column in Jang Akhbar
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اُس معاملہ میں پاکستان کے جید علمائے کرام کو سب کی رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ جو معاملہ انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں سے شروع ہوا وہ ایک ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ مخصوص مذہبی شخصیات کے سامنے پیش ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کروائیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے ویڈیو پیغام دیا، دھرنا دینے والوں کے نمائندوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں کھائیں، حج و عمرہ کی تصویریں سوشل میڈیا میں ڈال دیں، ختم نبوت پر اپنے ایمان کا یقین دلایا اور اپنے استعفیٰ میں ایک بار پھر لکھا کہ وہ اور اُن کے آبائو اجداد پکے مسلمان ہیں۔ ابھی تک انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں (جن کو درست کیا جا چکا ہے) کے معاملے پرکسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران راجہ ظفر الحق صاحب اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر کے اپنے پارٹی رہنما کو دے دیں گے جس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا جو ہوا وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ غلطی کا نتیجہ تھا یا اس معاملہ میں کسی سازش کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ لیکن یہاں نتیجہ سے پہلے ہی زاہد حامد سے استعفیٰ لے کر اُنہیں نہ صرف ’’مجرم‘‘ بنا دیا گیا بلکہ اُن کے ایمان پر بھی سوال اُٹھا دیئے گئے۔ اب رانا ثنا اللہ کے استعفے کی بات ہو رہی ہے اور اُن سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی خاص مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہوں جو وزیر قانون پنجاب کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لیا جائے یا اُن کے مسلمان ہونے پر یقین کر لیا جائے۔ راجہ ظفر الحق رپورٹ آنے کے بعد نجانے کتنے اور لوگوں کو اسی طرح اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی نہ کسی مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہو کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑے گا۔ میڈیا میں ان معاملات پر بہت باتیں ہو رہی ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو کہیں رکنے کا نام لے گا۔ عدالت اور میڈیا میں یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا گزشتہ دنوں اسلام کے نام پر جس انداز میں احتجاج کیے گئے، جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح قومی ونجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُس کا کسی بھی طرح اسلام سے کوئی تعلق ہے؟؟؟پاکستان کے جید علمائےکرام سے میری گزارش ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ان معاملات پر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں اور عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔
ویسے آج کل عدالتیں، میڈیا، سیاستدان اور حکمران اسلام کی تعلیمات کا کافی حوالہ دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہو چکے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا، ہمارا آئین اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی ضمانت دیتا ہے لیکن کسی نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کئے؟؟ جب ریاست اسلام کے نفاذ سے ہاتھ کھینچ لے گی اور مذہبی معاملات کو دوسروں پر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر یہی حال ہو گا جو آج پاکستان کا ہے جہاں مسجدیں فرقوں او رمسلکوں کے لحاظ سے پہچانی جاتی ہیں، فرقے اور مسلک اسلام سے آگے ہو گئے،جس کا دل چاہے جو فرقہ بنا لے کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہے کسی دوسرے کو کافر کا فتویٰ لگادے۔ آج ہماری یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا قتل کر رہا ہے۔ ان حالات کو ٹھیک کرنا ہے تو ریاست کو اپنی ذمہ دار ی پوری کرنی پڑے گی، قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنی ہوں گی، ہر تعلیمی ادارے میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ پڑھانا ہو گا، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی اقدار، روایات اور اصولوں کے مطابق کرنی ہو گی۔ حضرت محمد ﷺ سے کسی مسلمان کی محبت پر کسی دوسرے کو سوال کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں سے اس بات کی توقع ضرور ہے کہ اس محبت کی خاطر وہ اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں جو سپریم کورٹ کے معزز جج قاضی عیسیٰ نے کہا وہ غور طلب ہے۔ چند دن قبل فیض آباد دھرنے کا سو موٹو کیس سنتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کیوں فتنہ پھیلا رہا ہے؟ کیا میڈیا کا کام صرف پگڑیاں اچھالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس چینل نے اسلام کی بات کی؟ قاضی عیسیٰ نے کہا کہ نہ سرکاری ادارے نہ میڈیا اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام میڈیا چینلز کی انتظامیہ کو قرآن پاک، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی کاپیاں بھجوائی جائیں۔ انہوں نے اس با ت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس کے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے قرآن و حدیث کے جو حوالے دیے گئے انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے میڈیا کو چاہیے کہ اپنی بگڑتی حالت کو دیکھے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔