Uljhanien Bharti Jaien Ge – Imtiaz Gul

31

دنیا میں مستقل دوست کوئی نہیں ہوتا، صرف اقتصادی مفادات مستقل ہوتے ہیں اور انہی کے تحت معاملات اور تعلقات کو آگے بڑھایا جاتا ہے یا پائوں پیچھے کھینچے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ ہماری ایک اعلیٰ شخصیت نے ترک وزیر اعظم سے پوچھا کہ آپ تو ہمیشہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں، کشمیر اور فلسطینیوں کی آزادی کے بارے میں بولتے ہیں لیکن آپ نے اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم بھی کیا ہوا ہے بلکہ ان کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور یہ تضاد کیوں ہے؟ اس کے جواب میں ترک وزیر اعظم نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں تنہا ہو رہے تھے اور ہم اس تنہائی کو برداشت نہیں کر سکتے تھے یعنی اس کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے‘ اس لیے ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔
اس کے علاوہ چین‘ جو ہمارا بہت قریبی دوست ملک ہے‘ نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے‘ تو کیا چین کی فلسطینیوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے؟ ہمدردی تو ہے لیکن چینی مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پسندیدہ ترین ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنے اقتصادی فائدے کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی لئے چین نے وہاں گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً اٹھارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے جبکہ ترکی کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم تقریباً آٹھ ارب ڈالر ہے۔
مطلب اس ساری تفصیل کا یہ ہے کہ جب تک اقتصادی خود مختاری نہیں ہوتی تب تک سیاسی خود مختاری قائم نہیں ہو سکتی‘ اس لیے ہر ملک کو اور ہر قوم کو اپنے مفادات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے‘ بالکل درست‘ لیکن اس قلعے کو پہلے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا، پہلے اپنے لوگوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا، تعلیم کو عام کرنا ہو گا، فی کس آمدنی بڑھانا ہو گی‘ قرضوں سے نجات پانا ہو گی۔ دنیا میں طاقت ور ممالک کی بات سنی جاتی ہے اور طاقت ور سے مراد وہ ممالک نہیں ہیں جو بڑی حربی قوت ہیں بلکہ وہ ہیں جن کے عوام خوش حال ہیں، جو اقتصادی طور پر مضبوط ہیں‘ جن کا انحصار قرضوں پر نہیں ہوتا۔
دنیا کے تقریباً تمام ممالک اپنی حیثیت اور فائدے کے مطابق پالیسیاں مرتب کرتے ہیں کسی کی محبت یا درد میں نہیں، بہت سارے ایسے ممالک ہیں جن کی مختلف ممالک کے ساتھ نظریاتی وابستگی نہیں ہے‘ نہ ہو سکتی ہے‘ لیکن ان کے آپس میں اقتصادی تعلقات ہیں کیونکہ یہی ان کی معیشت اور فلاح کا تقاضا ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ہماری پالیسیاں مختلف ممالک کے حوالے سے کبھی بھی واضح اور یکسو نہیں رہی ہیں، مثال کے طور پر اگر دیکھا جائے تو افغانستان کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ ہماری اشرافیہ نے ہمیشہ افغانستان کو کمتر سمجھا، ہماری خارجہ پالیسی افغانستان کے بارے میں وہ نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی۔ 9/11 کی تیاری افغانستان میں ہوئی تھی لیکن خمیازہ اور بدنامی ہماری حصے میں آئی جس کے اثرات شاید کافی عرصے تک ہمارے معاشرے کو اپنی گرفت میں رکھیں۔
ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں، ایک طرف ہم مغرب کی ترقی کے گن گاتے ہیں اور دوسری طرف اگر کوئی بندہ مغربی فیشن کا لباس زیب تن کر لیتا ہے تو ہم اس کو طعنے دینے لگ پڑتے ہیں۔ ہماری ایک نو سال کی بچی نے اپنی آواز اور گانے سے مغرب تک لوگوں کو خوش گوار حیرت میں ڈال دیا‘ لیکن ہمارے لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوئے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کا ایک گروہ خالی ٹین کے ڈبوں سے موسیقی کا ایک عجب سماں باندھ دیتا ہے اور شہزاد رائے جیسا نامور گلوکار متاثر ہو کر ان کے لیے موسیقی کے آلات خریدنے کا اعلان کرتا ہے تو ہم شہزاد رائے کو کوسنے لگ جاتے ہیں۔
پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت جب تک اس قسم کی الجھنوں کا شکار رہے گی، یہ الجھنیں عوام میں بھی منتقل ہوتی رہیں گی۔ ہم ہر دنیاوی کام کو ایک الگ عینک سے دیکھتے رہیں گے چاہے وہ لباس ہو، موسیقی ہو، کسی مغربی ممالک سے تعلق ہو یا وہ ممالک ہوں جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔
ہمارے تقریباً تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ، چاہے وہ سیاست دان ہوں یا کوئی عام آدمی، سب مغربی ممالک میں رہنا پسند کرتے ہیں، لیکن پھر بھی معلوم نہیں کیوں‘ مغرب کو ہی مطعون کیا جاتا ہے۔ اب اگر امریکہ سے تعاون کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اڈے دیئے جا رہے ہیں یا اس میں مقتدرہ کا اپنا کوئی مفاد ہو گا۔ پھر جب کھل کر بات ہوتی ہے کہ ہم ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو کہا جاتا ہے کہ کیوں آپ پاکستان کو مغرب سے کاٹنا چاہتے ہیں؟
اس ساری صورت حال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہے کہ اگر پاکستان اپنے تئیں امریکہ سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کر لے اور امریکی بی باون طیاروں‘ جو افغانستان پر بم باری کرتے ہیں‘ کو منع کر دے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے پاس بی باون طیاروں کو روکنے کی یا مار گرانے کی صلاحیت ہے اور اگر صلاحیت ہے تو پاکستان کیا ان طیاروں کو منع کرنے یا مار گرانے کے اس نتیجے سے آگاہ ہے‘ جس میں مختلف عالمی اداروں جیسے سلامتی کونسل، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس وغیرہ کے ذریعے ہمارے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جا سکتا ہے‘ جس کا خمیازہ بہرحال ہماری معیشت اور ہم ہی بھگتتے رہیں گے۔
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک جذبات کا سہارا لے کر اس قوم کو ایک نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں دھکیلتے رہیں گے۔ چین آخر کب تک ہماری اشرافیہ کی جانب سے کی گئی غلطیوں کے باوجود ہمارے ساتھ کھڑا رہے گا۔ روس کی حمایت بھی ان کے اپنے فائدے کے ساتھ مشروط ہے جس کو اگر طویل المیعاد نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ روس کی حمایت ان کے ضروریات کے تحت ہے جو کہ زیادہ عرصہ شاید نہ چلے، کیونکہ یہ کوئی بلینک چیک نہیں ہے بلکہ ایک ہاتھ دو اور ایک ہاتھ لو کے تحت چلنے والی روایت کا حصہ ہے۔
پاکستان کو جو مطعون کیا جا رہا ہے تو اس میں ماضی کی سیاسی اشرافیہ کے غلط فیصلوں کا بڑا ہاتھ ہے‘ لیکن اس وقت ایسا لگتا ہے کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مغرب کی دوغلی پالیسی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی‘ جس کی وجہ سے پاکستان کو ماضی میں افغان جنگوں (سوویت یونین کے خلاف جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ) میں جھونکا گیا، جس کے خوفناک نتائج کا سامنا پاکستان اب بھی کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام کو چاہیے کہ ان تمام معاملات کو اقتصادی نقطہ نظر سے بھی دیکھے، کیونکہ اگر دیکھا جائے تو انڈیا جو کہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے اس کی نمائندگی پوری دنیا میں ہر سطح پر ہے، چاہے وہ میڈیا میں ہو، حکومتوں میں ہو یا بین الاقوامی اداروں میں ہو، اس بڑے پیمانے پر نمائندگی کا براہ راست اثر حکومتوں کے پالیسی سازی پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو فائدہ ہوتا ہے اور اس کا بیانیہ سنا جاتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جو فیصلے ہوتے ہیں، انڈیا کو یہی نمائندگی ان فیصلوں میں براہ راست دخل اندازی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کے پاس ہے اور پچھلے دنوں افغانستان کے حوالے سے جو اجلاس تھا اس میں پاکستان کو مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ جذبات کی عینک اتار کر دنیا کو دنیا کی حیثیت سے دیکھے‘ بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو اپنے پیشِ نظر رکھے اور پہلے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے، تب کہیں جا کرصحیح معنوں میں مسلمانوں کی مدد ہو سکتی ہے