U-P Maarka Sar Karne Kay Bad Modi Ki Policy Kia Ho Ge | Nusrat Javed

147

Nusrat Javed latest column In Nawaiwaqt newspaper .

بھارت ہمارا ہمسایہ تو ہے مگر ازلی دشمن بھی مانا جاتا ہے۔اس کی حکمران اشرافیہ کو دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام آج تک ہضم نہیں ہوا ہے۔ ہماری سلامتی اور بقاءکو زک پہنچانے کا لہذا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔
اسی بھارت کا مگر ایک بہت بڑا صوبہ ہے۔یوپی جس کا نام ہے۔کسی زمانے میں ”متحدہ صوبہ جات اودھ“ کہلاتا تھا،ان دنوں ”اترپردیش“ کا مخفف ہے۔ ا ٓبادی اس کی 22کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں میں اپنے لئے ایک جدا وطن حاصل کرنے کی خواہش1905میں تقسیم بنگال سے جڑے سیاسی قضیوں سے قبل،اسی خطے میں ”ہندی-اُردو تنازعہ“ کی وجہ سے ٹھوس صورتوں میں دُنیا کے سامنے آئی تھی۔
سرسید احمد خان نے اس خواہش کو علمی اور ثقافتی بنیادیں فراہم کرنے کے لئے علی گڑھ کو اپنا مرکز بنایا تھا۔اسی صوبے کے سہارن پور کا ایک جھوٹاسا قصبہ دیوبند بھی ہے جہاں قائم ہوا ایک مدرسہ اسلام کو اپنی”اصل صورت“میں برقرار رکھنے کو آج بھی بے چین رہتا ہے۔بریلی بھی اسی صوبے کا ایک بڑا شہر ہے۔1857ءکی جنگِ آزادی کے زیادہ تر مجاہد یہیں سے آئے تھے۔پنجاب اور آج کے خیبرپختونخواہ کے اکثر علاقوں کو سکھ حکمرانی سے جہاد کے ذریعے آزاد کروانے کا خواب بھی بریلی کے سید احمد شاہ نے دیکھا تھا اور بریلی ہی اس مسلک کا اصل مرکز بھی رہا ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کا اکثریتی مسلک سمجھا جاتا ہے۔”کہاں تک سنو گے،کہاں تک سناﺅں“والی اُکتاہٹ کے ساتھ مختصراََ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ نام نہاد”گنگا جمنی تہذیب“ کے قلب مانے اس صوبے سے ہمارے بے تحاشہ تاریخی اور ثقافتی رشتے ابھی تک ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں۔
کئی مہینوں تک پھیلی مہم اور پولنگ کے مراحل ختم ہونے کے بعد ہفتے کی صبح اس صوبے کی ریاستی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخاب کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ یہ نتائج پاکستانیوں سے بہت غور کا تقاضہ کرتے تھے مگر ہماری ٹی وی سکرینوں پر ان کا ذکر ہی نہیں ہورہا تھا۔ہمارے میڈیا کی ”مستعدی“ صرف یہ معلوم کرنے کو خرچ ہورہی تھی کہ وینا ملک نے چار سال قبل بڑی دھوم دھام سے ہوئی شادی کے بعد اپنے شوہرسے خلع کے ذریعے الگ ہونے کا فیصلہ کیوں کیا۔گزشتہ جمعرات کے دن سوات سے تحریک انصاف کے ایک پارہ صفت نوجوان رکن قومی اسمبلی-مراد سعید-نے مسلم لیگ کے جاوید لطیف کو پارلیمان کی راہ داریوں میں ”پھینٹی“لگادی تھی۔مراد سعید کے رویے کو بُرابھلا کہنے کے بعد اچانک دریافت یہ ہوا کہ جاوید لطیف نے اس کے ”گھروالوں“ کے بارے میں ”گندی زبان“استعمال کرکے اسے مشتعل کیا تھا۔ ہمارے اینکر خواتین وحضرات کی اکثریت لہذا جاوید لطیف کو گھیرگھار کر اپنے رویے پر شرمندہ ہونے پر مجبور کرتی رہی۔”صحافیوں“ میں ”سماج سدھار“ کی ایسی تڑپ دنیا میں کہیں شاذہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم نے مگر اپنے لوگوں کو خواتین کا احترام اور مہذب زبان استعمال کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔اس ضمن میں اگرچہ ہمارے سماج سدھار رضاکاروں نے خال ہی کبھی اپنے گریبانوں میں بھی جھانکا ہوگا۔
بہرحال یوپی کے انتخابی نتائج آگئے ہیں۔بھارت میں 25سال کے طویل وقفے کے بعد اب مرکز اور یوپی میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوگی۔BJPاس جماعت کا نام ہے۔سربراہ اس کا نریندرمودی ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ یوپی میں رائے دہندگان کی اکثریت نے BJPکو نہیں نریندرمودی کو ویسی ہی حیران کن پذیرائی بخشی ہے جو حال ہی میں ٹرمپ کو امریکہ میں نصیب ہوئی تھی۔
نریندرمودی کی یوپی میں پذیرائی درحقیقت ہندوقوم پرستی کا والہانہ اثبات ہے۔اس صوبے میں ہندوانتہاءپسند تاریخی حوالوں سے شہروں میں مقیم اونچی جات کے برہمن وغیرہ ہوا کرتے تھے۔ چھوٹے قصبات اور دیہات میں پھیلے جاٹ،گجر اور دیگر نچلی ذاتوں کے اکثریی ووٹرصدیوں سے ان کی محض ”رعیت“ ہوا کرتے تھے۔اس رعیت کو1947ءکے بعد بھی کئی برسوں تک ووٹ کا حق دیتے ہوئے بھی اونچی جات والوں نے اپنا غلام ہی سمجھا۔کشمیر سے آئے ایک پنڈت گھرانے کے جواہرلال نہرو اور اس کی بیٹی-اندراگاندھی-تعلق جن کا الہ آباد سے تھا۔”سیکولرازم“ کے نام پر یوپی کی ”گنگا جمنی تہذیب“ کی ظاہری اور منافقانہ رواداری اور ”غریب پرور“روایات کو زندہ رکھنے کا ڈھونگ رچاتے رہے۔اندرا گاندھی کی لگائی ”ایمرجنسی“نے بالآخر 1975ءکے بعد سے ”’جتنا“ کوبیدار ہونے پر مجبور کردیا۔نچلی ذات کے گجرجنہیں یادیو کہا جاتا ہے مسلمانوں کے ساتھ انتخابی اتحاد بناکر کبھی سب سے کم ذات مانے دلت طبقات کی نمائندہ مایا وتی یا اس کے بغیر اس صوبے پر راج کرتے ہے۔
نریندرمودی نے اب بہت بے رحمی کے ساتھ اس اتحاد کو پاش پاش کردیا ہے۔جمہوری نظام کے بارے میں عمومی تصور یہ ہے کہ سیاسی جاعتیں کسی معاشرے کے تمام طبقات کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں۔برہمن بالادستی کے خلاف بغاوت نے یوپی میں Identity Politicsکو جنم دیا۔یہ سیاست بنیادی طورپر ووٹ بینک کی سیاست ہوتی ہے۔یادوووٹ بینک،مسلم ووٹ بینک کے ساتھ اشتراک سے BJPکو یوپی سے 15سال تک دور رکھے رہا۔
2014ءکے عام انتخابات میں نریندرمودی نے مگر ووٹ بینک ہی کی منطق کو صرف اور صرف ہندو Identityکو اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا۔اس کے پڑھے لکھے حامیوں نے مگر چورن یہ بیچا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طوپر مودی نے درحقیقت کرپشن سے پاک جو گڈگورننس متعارف کروائی تھی۔اس کا اصل ہدف ہندومذہب کی برتری نہیں بلکہ ”ترقیاتی کاموں“پر توجہ دینا ہے۔اس کا اصل مشن معیشت کو بہتر اور خوش حال بنانا ہے۔جس کے فوائد بالآخر معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچتے ہیں۔
403اراکین پر مشتمل یوپی کی صوبائی اسمبلی کے لئے انتخابی مہم شروع ہوئی تو اکثریت کا خیال تھا کہ وزیر اعظم بن جانے کے تین سال بعدبھی نریندرمودی بھارتی معیشت کو بہتر اور خوشحال بنانے کے لئے کوئی جلوہ نہیں دکھاپایا ہے۔چند ماہ پہلے اس نے بلکہ ”نوٹ بندی“جیسا سخت قدم لیا۔مقصد اس کا رشوت اور ٹیکس چوری سے بچاکر چھپائی رقوم کو بے نقاب کرکے راشی اور ٹیکس چوروں کو سزائیں دینا بتایا گیا تھا۔”نوٹ بندی“ نے راشیوں اور ٹیکس چوروں کو ابھی تک بے نقاب تو نہیں کیا ہے۔عام افراد مگر کئی ہفتے سے اپنی روزمرہّ ضرورتوں کو بھی مناسب کیش مہیا نہ ہونے کی بناءپر پورا نہیں کرپارہے ہیں۔
مودی کے مخالفین کو یقین تھا کہ ”نوٹ بندی“کی وجہ سے مودی سرکار کی ”معاشی مہارت“بے نقاب ہوگئی ہے۔یوپی کے مسلمان،نچلی ذاتوں ،غریب اور نچلے متوسط طبقات کے ساتھ اشتراک سے BJPکو پچھاڑدیں گے۔اس کے بعد2019کے عام انتخابات کے ذریعے مودی کا دوبارہ وزیر اعظم بن جانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہوجائے گا۔ہفتے کے روز مگر ثابت ہوگیا کہ آنے والے کئی برسوں تک بھارت کو نریندرمودی کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہوگا۔
صرف ایک کالم کے ذریعے میرے لئے ممکن نہیں کہ ان تمام وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے سکوںجنہوں نے اندراگاندھی کے بعد نریندرمودی کو بھارت کا مقبول اور طاقتور ترین وزیر اعظم بنادیا ہے۔بطور پاکستانی میری ویسے بھی پہلی ترجیح یہ ہے کہ کسی طرح یہ جان پاﺅں کہ یوپی کو انتخابی حوالوں سے ”فتح“ کرنے کے بعد وہ پاکستان کے ساتھ ایک کشادہ ذہن کے ساتھ امن پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا اعتماد حاصل کرپایا ہے یا نہیں۔
ہمارے ریاستی پالیسی بنانے والے اداروں کی اکثریت کو گماں ہے کہ یوپی کا معرکہ سرکرنے کے بعد مودی پاکستان کےساتھ دیرپاامن کے قیام کے لئے پہل کاری کرتا نظر آئے گا۔مجھے ذاتی طورپر ایسی امید نظر نہیں آرہی۔خدشہ بلکہ یہ محسوس ہورہا ہے کہ یوپی کو سرکرنے کے بعد نریندرمودی شاید مقبوضہ کشمیر کا زور زبردستی سے کوئی Final Solutionڈھونڈنے کی طرف راغب ہوگا۔خدا کرے کہ میرے خدشات درست ثابت نہ ہوں کیونکہ Final Solutionحالیہ تاریخ میں سب سے پہلے ہٹلر نے ڈھونڈنا چاہا تھاجس نے صرف یورپ پر ہی نہیں پوری دنیا پر تباہی مسلط کردی تھی۔