Tujhy Parai Kia pari | Imtiaz Alam

80

Imtiaz Alam Senior Analyst and Columnist latest column in Jang the leading newspaper of pakistan

وزیراعظم نواز شریف اتنے پانامہ لیکس پہ پریشان نہیں تھے، جتنے کہ وہ سعودی عرب اور قطر کے مابین جاری سفارتی جنگ پر متفکر۔ ایک گہرے مخمصے نے اُنہیں آن گھیرا تھا۔ کریں تو کیا اور وہ بھی کیسے۔ بادشاہ سلامت کا پیغام ہی کچھ ایسا تھا۔ ہمارے (سعودی عرب کے) ساتھ ہو یا اُس کے (قطر کے) ساتھ؟ قازقستان کے دورے کے دورانِ سفر اُنہوں نے کئی گھنٹے صحافیوں سے اس بارےمیں استفسار جاری رکھا کہ شاید اس مخمصے سے بچ نکلنے کی کوئی قابلِ عمل راہ سوجھے۔ غالباً اُنھوں نے کچھ نہ کچھ ذہن تو بنا لیا تھا، لیکن بتایا کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ترکی کے صدر اردوان، کویت اور خلیج کے شیخوں سے رابطے میں تھے اور کوئی نامہ و پیام بھی جاری تھا۔ اُن کا مخمصہ اس لئے بھی گمبھیر تھا کہ سعودیوں سے پاکستان کے انتہائی دیرینہ تعلقات ہیں جبکہ قطریوں کی گیس کے ذریعہ ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے جتن کیے جا رہے ہیں اور پھر قطری خط بھی تو بیچ میں آ نکلا تھا۔ آستانہ سے واپسی پر اگلے ہی روز وہ شاہ سلمان سے ملنے چلے گئے۔ جانے وہاں کیا بات ہوئی، البتہ اُنہیں معلوم تھا کہ ہمارے برادر اتنے طیش میں ہیں کہ پاکستان کی معاشی امداد، لیبر اور حجاج کا کوٹہ کم کر سکتے ہیں۔ سرکاری اور باخبر ذرائع سے جو خبریں ملیں اُن سے لگا کہ میاں نواز شریف کسی دباؤ میں آئے نہ اُنہوں نے سعودیوں کو ناراض کیا۔ اور یہی موقف رکھا کہ مسلم ممالک میں اتفاق رہے اور حرمین شریفین اور سعودیہ کی سلامتی پہ کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور نہ پاکستان کسی بھی برادر اسلامی ملک کے خلاف لڑائی کا حصہ بنے گا۔ اگر بلا ٹلی نہیں تو کم از کم گلے نہیں پڑ پائی۔
پاکستان نے ابھی تک قطر سے سفارتی تعلقات نہیں توڑے، جیسا کہ سعودیوں کے اصرار پر متحدہ عرب امارات، مصر، بحرین، ماریطانیہ، مالدیو، لیبیا، ڈیجی بوٹی اور ماریشش نے کیا ہے۔ نہ ہی پاکستان نے اُردن، چاڈ، سینیگال، نائیجر اور کیمرون کی طرح قطر سے سفارتی تعلقات کو محدود کرتے ہوئے اپنے سفیر کو واپس بلایا ہے۔ پاکستان سمیت الجیریا، مراکش، تیونیشیا اور سوڈان نے بات چیت کے ذریعے خلیجی ملکوں کے باہم مناقشے کو حل کرنے کی صلاح دی ہے۔ اور وزیراعظم نے کویت کی صلح جوئی کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ وہ سعودی دباؤ میں نہیں آئے، اس کے باوجود کہ اُن کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سعودی اتحادی فوج کے سپہ سالار ہیں۔ ایسے میں قائد حزبِ اختلاف سیّد خورشید شاہ کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ وزیراعظم اس خلیجی بحران میں پاکستان کے ممکنہ کردارکے بارے میںپارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔ اس صائب تجویز کے ساتھ خورشید شاہ نے (یہ جانتے ہوئے کہ بیچارے سویلینز کے پاس رکھا ہی کیا ہے) ایک چُٹکی سی بھری ہے کہ حکومت ہمیں یہ بھی بتائے کہ بھلا اُس نے جنرل راحیل شریف کو کس برتے پر اور کس ’’کارِ خیر‘‘ کے لئے اجازت نامہ (NOC) دیا تھا۔ بادشاہ کو جرنیل پسند آیا اور جرنیل کو نئی کمان، ایسے میں وزیراعظم کون ہوتے ہیں بیچ میں ٹانگ اڑانے والے(؟)
سعودیوں اور خلیجیوں کا قطریوں سے پُرانا علاقائی اور نظریاتی جھگڑا چل رہا ہے اور کاروباری رقابتیں بھی کچھ زیادہ ہی بڑھ چلی ہیں۔ یہ سب شیخ عبدالوہاب اور ابنِ تیمیہ کے پیروکار ہیں، لیکن ان کی اپنی اپنی علیحدہ علیحدہ تشریحات ہیں اور کاروباری رقابتوں اور علاقائی سرداری کے لئے یہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے کارندوں (Proxies) کے ذریعے باہم برسرِپیکار ہیں۔ سعودی قطری جھگڑے سے وہ ’’اسلامی اتحاد‘‘ جو صدر ٹرمپ کی سرپرستی میں ایران اور اُس سے وابستہ ملیشیاز کی بیخ کنی کے لئے ریاض میں وجود میں آیا تھا، وہ عربوں ہی کی آپسی لڑائیوں کی نذر ہو چلا ہے۔ جونہی قطر کے خلاف دہشت گردوں اور مذہبی انتہاپسندوں کی مالی و حربی معاونت کے الزام میں سعودی عرب اور اُس کے اتحادیوں نے قطر کی ناکہ بندی کرنے اور سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا، صدر ٹرمپ نے بھی ویسے ہی الزامات لگا کر قطر کو مطعون کیا اور راہِ راست پر آنے کی دھمکی دے ڈالی۔ حالانکہ قطر ہی میں خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا بحری اڈہ ہے۔ امریکہ کو فوجی اڈہ موجودہ قطری امیر کے والد نے دیا تھا۔ بقول جید صحافی رابرٹ فسک جب اُس نے امیرِ قطر سے پوچھا کہ تم امریکیوں کو کیوں نکال باہر نہیں کرتے، تو اُس نے کہا کہ اس لئے کہ برادر مسلم عرب قابض نہ ہو جائیں۔ حیران مت ہوں کہ امریکی فوجی چھتری کے باوجود، قطر مصر کی اخوان المسلمین، فلسطینی حماص، شامی النصرہ اور لیبیا کی اخوان المسلمین کی زبردست پشت پناہی کرتا ہے اور الجزیرہ ٹیلی وژن نے تو میڈیا کے میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جب اخوان المسلمین پر جنرل السیسی کی آمریت نے مصر کی زمین تنگ کر دی اور غازہ کی ناکہ بندی ہوئی تو اُن کے رہنماؤں کو دوحہ ہی میں سیاسی پناہ ملی۔ اسی بنا پر مصر کے مردِ آہن قطر کی ناکہ بندی میں شامل ہو گئے ہیں اور مصری اخوانوں اور غازہ کے فلسطینیوں کا ناطقہ بند کئے ہیں۔
سعودیوں/ خلیجیوں اور قطریوں کے درمیان تصادم کی ایک اور بڑی وجہ قطر کا ایران بارے افہام و تفہیم کا رویہ ہے، جبکہ شام اور لیبیا کی خانہ جنگیوں میں یہ مختلف شدت پسند گروہوں کے مابین جاری غارت گری میں اپنے اپنے بغل بچوں کی حمایت میں صف آرا ہیں۔ اصل وجہ تنازع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کون بڑا جغادری ہے اور کون قدرتی ذرائع کتنے ہتھیاتا ہے۔ اس خانہ جنگی میں بڑا کھلاڑی آخرکار امریکہ ہی ہے۔دوسری طرف سعودی عرب میں خود سعودی اخوان داعش والوں کے ساتھ مل کر بادشاہت کی جگہ خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اور ایران کے یمن، عراق، شام اور لبنان تک پھیلتے اثر و رسوخ سے خانوادہ السعود بہت پریشان ہے۔ حالانکہ سعودی عرب میں شیخ عبدالوہاب ہی کا مکتب حاوی ہے، سعودی حکمران کو داعش اور اخوان طرز کی جنگجوئیت اور اسلاف والی خلافت کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لہٰذا، اب نظریاتی طور پر اسلامی یونیورسٹی آف مدینہ کے سابق ڈین شیخ المدخلی کے ترمیم پسند وہابی خیالات وہ ہتھیار ہیں جن سے سعودی عرب اپنی تکفیر کرنے کے خیالوں کو شکست دینا چاہتا ہے۔ شیخ المدخلی ایک اعلیٰ پائے کے قدامت پسند مفکر ہیں جو سعودی حکمرانوں کی اعانت کو شریعت کے عین مطابق سمجھتے ہیں اور اُنہیں ہی ہم بہت سے پاکستانیوں کی طرح خادمین الحرمین الشریفین (Custodian) سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سعودی اور قطری ایک ہی مکتب کی مختلف پرتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور فکری جدت پسندی کے مخالف ہیں اور امریکہ سے بھی دیرینہ وابستگی رکھتے ہیں۔
پھر بھی ان میں نہ ختم ہونے والے جھگڑے ہیں۔ یہ داعش اور القاعدہ کے خلاف تو ہیں، لیکن اُن کے لئے فکری زمین ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں باہمی تفرقے کے باعث تقویت بھی پہنچا رہے ہیں۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ شیخ عبدالوہاب کے رسائل القاعدہ، داعش اور النصرہ جیسی تنظیموں کے مکتبوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور خود سعودی عرب اور قطریوں نے انہی رسائل کو مسلم دُنیا میں پھیلایا تھا۔ عربی و عجمی تاریخی کشمکش کے علاوہ لیبیا اور شام کی خانہ جنگیوں میں علاقہ گیری کی مہم نے انہیں اور بھی مخاصمانہ انتہاؤں کی جانب دھکیل دیا ہے۔
جب قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو شمالی افریقہ کے تیل کی دولت سے مالامال ملک میں قبضہ گیری کی مہم چل نکلی۔ لیبیا کے جنرل خلیفہ بالقاسم حفطار نے شیخ مدخلی کے پیروکاروں کو ساتھ ملا کر سعودی اور خلیجی پشت پناہی سے ’’قومی اتفاق کی حکومت‘‘ میں سبقت لے لی۔ وہ لیبیا کے اخوان المسلمین اور بنغازی ڈیفنس بریگیڈ جن کی قطر پشت پناہی کر رہا ہے سے نبرد آزما ہے۔ عرب حکمرانوں کے مابین جاری اس علاقائی سرکشی کا فائدہ اگر مل رہا ہے تو القاعدہ، انصار الشریعہ اور داعش یا پھر امریکہ کو۔ شام میں تو اس خوفناک جنگ میں تمام دُنیا شامل ہے۔ امریکیوں، ترکوں، اردنیوں، سعودیوں اور خلیجیوں نے بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لئے ہر طرح کے عناصر کو کمک پہنچائی اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ اور داعش ایک بڑی قوت بن کر اُبھری۔ جبکہ صدر بشار الاسد کی حمایت میں ایران، عراق اور لبنان کی حزب اللہ ڈٹ کر میدان میں اُترے اور اب روسی بھی میدان میں ہیں۔ قطر نے نہ صرف النصرہ سے رابطہ کیا بلکہ حافظ الاسد سے بھی خفیہ نامہ و پیام جاری رکھا۔ قطر چاہتا ہے کہ اسے گیس کی ترسیل کے لئے شام سے یورپ ایک نیا راستہ مل جائے اور شام میں اُس کے لئے جگہ بن جائے۔ ترکی بھی اس میں پیچھے نہیں اور قطری اور ترک اخوان المسلمین کی حمایت میں صدر مرسی کے ساتھ رہے اور ابھی بھی فوجی آمر السیسی کے خلاف اخوان کی حمایت کر رہے ہیں۔ جب مرسی کا تختہ اُلٹا گیا اور جنرل السیسی حکومت میں آئے تو مرحوم شاہ عبداللہ نقاہت کے باوجود مصر پہنچے اور اپنے طیارے میں ہی السیسی سے ملاقات کی اور اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ لیکن مصر نے پھر بھی یمن میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے انکار کر دیا۔ اصل میں عرب بادشاہتیں، سیاسی اسلام کے اُبھار سے نالاں نظر آتی ہیں اور جھگڑا مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ میں قیادت اور ذرائع کے بٹوارے کا ہے۔ عربی عجمی، شیعہ سنی جھگڑے کے ساتھ ساتھ سنی مکتب کے حامی عربوں میں بھی باہم خلفشار ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔
ایسے میں سیّد خورشید شاہ کے مشورے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور جس طرح پاکستان یمن میں جاری جنگ سے باہر رہا، اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ہم پرائی لڑائیوں سے باہر رہیں اور مسلم دُنیا کے اتحاد کے لئے دُعاگو!! تجھے پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو!!