Train Kay Third Class Main Aik Poorana Safar | Ata ul Haq Qasmi

44

senior journalist Latest Episode of Ata ul Haq Qasmi Latest Column in Jang newspaper-

خیبر میل فراٹے بھرتی ہوئی جا رہی تھی، میری منزل حیدر آباد تھی اور میں تھرڈ کلاس کے ڈبے میں بیٹھا اپنے سمیت دوسرے مسافروں کی کسمپرسی پر غور کر رہا تھا۔ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ خریدتے ہوئے تو میں ایڈونچر کے موڈ میں تھا مگر اب یہ ایڈونچر میرے لئے وبال جان ثابت ہو رہا تھا، کیونکہ اس ڈبے میں اگر سو مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی تو لاہور سے خانیوال تک کے سفر کے دوران غالباً دو سو مزید مسافر بغیر ریزرویشن کے سوار ہو چکے تھے، سو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ جس نشست پر میں بیٹھا تھا، وہ چار مسافروں کیلئے تھی، مگر اب سات مسافر اس پر براجمان تھے، یہی صورتحال دوسری نشستوں کی بھی تھی مگر اصل تکلیف دہ صورتحال تو ان ’’درویش صفت‘‘ مسافروں کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، جو فرش پر بیٹھے تھے اور کچھ اس طرح ایک دوسرے میں پیوست تھے کہ ان کے درمیان میں سے ایک تنکا گزرنا بھی محال تھا، بوگی کے دونوں دروازے بھی ان فرش نشینوں کی وجہ سے بند ہو چکے تھے اور لیٹرین تک رسائی بھی ممکن نہیں تھی، کیونکہ اس کے سامنے بھی مسافر اکڑوں بیٹھے تھے، سو اب صورتحال یہ تھی کہ باہر سے کوئی مسافر اس ڈبے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا اور ڈبے کا کوئی مسافر باہر نہیں جا سکتا تھا! میں صبح دس بجے سے اس ’’بلیک ہول‘‘ میں بند تھا اور اب شام ہونے کو تھی۔ گاڑی آہستہ آہستہ خانیوال اسٹیشن کے پلیٹ فارم میں داخل ہو رہی تھی اور بالآخر وہ ایک ہلکے سے دھچکے کے ساتھ رک گئی !
پلیٹ فارم پر خوانچہ فروشوں کی آوازوں اور مسافروں کی بھگدڑ نے فضا میں ایک عجیب ’’بحران‘‘ سا پھیلا رکھا تھا، میں نے ٹانگیں سیدھی کرنے کیلئے پلیٹ فارم پر چہل قدمی کا پروگرام بنایا، مگر باہر کو جانے والے تمام راستے بند تھے، بس ایک راستہ کھلا تھا اور یہ کھڑکی کا راستہ تھا، جس سے باہر کودنے کیلئے مطلوبہ ہمت مجھ میں موجود نہیں تھی، کیونکہ پروگرام صرف جانے کا نہیں، واپس آنے کا بھی تھا اور یہ واپسی اسی راستے سے ہونا تھی، تاہم وہ جو کسی نے کہا ہے ’’ہمت مرداں مدد خدا‘‘ تو میں نے بھی ہمت سے کام لیا، پہلے اپنی دونوں ٹانگیں کھڑکی کے راستے باہر نکالیں اور پھر اللہ کا نام لے کر پلیٹ فارم پر کود گیا۔ پیاس سے میری زبان پر چھالے پڑ رہے تھے۔ میں نلکے کی طرف جانے کیلئے بوگیوں کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا کہ پہلے میرے کانوں میں ’’شی شی‘‘ کی نسوانی آواز آئی، اور پھر میرے کپڑے بھیگ سے گئے۔ میں نے ڈبے کی طرف نگاہ ڈالی تو ایک عورت اپنے بچے کو کھڑکی سے باہر کئے ’’شی شی‘‘ کی آوازیں نکال رہی تھی۔ اس وقت بچے کے چہرے پر ایک عجیب شانتی نظر آ رہی تھی۔ لگتا تھا کافی دیر بعد اس کی سنی گئی ہے۔ اگلے ڈبے میں سے ایک صاحب نے پان کی پیک پچکاری کی صورت میں پلیٹ فارم پر پھینکی، مگر ان کا نشانہ خطا گیا کیونکہ میں خطرہ بھانپ کر ان کی زد سے نکل گیا تھا۔ نلکے پر لوگوں کا ایک ہجوم تھا اور پانی تک رسائی نہ ہونے کے باوجود وہ سب پانی میں نہائے ہوئے تھے کیونکہ ٹوٹی ’’لیک‘‘ کر رہی تھی اور اس میں سے پانی پورے پریشر کے ساتھ فوارے کی صورت میں ارد گرد کھڑے لوگوں پر برس رہا تھا، تھوڑے فاصلے پر دو عرب لڑکیاں بوشرٹ اور جینز پہنے اپنے ایک عرب ساتھی کے ساتھ کھڑی تھیں، میں نے بائیں جانب دیکھا تو گاڑیوں کی بوگیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے والے درمیانی حصے میں ریلوے کے دو ملازم پورے اطمینان کے ساتھ بیٹھے لنچ یا ڈنر میں مشغول تھے۔ انہوں نے ایک ہاتھ میں روٹی اور روٹی پر کباب رکھے تھے اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے کام میں جتے ہوئے تھے۔ میں نے نلکے کے ’’ گرد و نواح‘‘ میں اپنی باری کا انتظار کیا اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گیا تو واپس اپنے ڈبے کی طرف جانے کی ٹھانی۔ اس دوران گارڈ نے وسل بھی دے دی تھی، میں نے کوشش کی کہ ڈبے میں دروازے کے راستے داخل ہوں مگر ’’فرش نشین‘‘ مسافروں کی وجہ سے یہ ’’سیل‘‘ ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں نے افراتفری میں اپنا سر کھڑکی میں داخل کیا اور اس سلسلے کے باقی کام اندر بیٹھے ہوئے مسافروں نے انجام دیئے جنہوں نے مجھے ’’دھون‘‘ (گردن) سے پکڑ کر اندر کھینچا اور شکر ہے میں پورے کا پورا اندر داخل ہو گیا ورنہ اس امر کا قوی امکان موجود تھا کہ میری گردن ان کے ہاتھ میں رہ جاتی اور میرا باقی وجود پلیٹ فارم پر کھڑے بے ثباتی دنیا پر غور کرتا رہتا۔۔۔۔
’’دیکھو جی کیسا زمانہ آ گیا ہے‘‘ میرے سامنے بیٹھے ہوئے ایک گہرے گندمی مائل نوجوان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ ’’اوپر والی برتھ میں نے ریزرو کروائی تھی، اب میں اوپر جا کر آرام کرنا چاہتا ہوں مگر یہ شخص لاہور سے براجمان ہے اور اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا‘‘
میں نے برتھ کی طرف نگاہ ڈالی تو ایک خشخشی سی ڈاڑھی والے ادھیڑ عمر شخص کو استراحت فرماتے پایا اس کے چہرے پر ’’چب‘‘ پڑے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ قاتلوں جیسا تھا، میرے لئے ایسے لوگ ناقابل برداشت ہوتے ہیں جو دھونس کے ذریعے دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اوپر سے اس بے آرام سفر نے بھی مجھے بائولا بنا دیا تھا چنانچہ نوجوان کی یہ بات سن کر میں نے اس سے پوچھا ’’کیا تم چاہتے ہو کہ یہ شخص تمہاری برتھ خالی کر دے‘‘ اس نے اثبات میں جواب دیا تو میں نے کہا تم اسے ایک دفعہ میرے سامنے یہ برتھ خالی کرنے کیلئے کہو، نوجوان نے یہ سن کر ڈرتے ڈرتے اس شخص کی پنڈلی کو ہاتھ لگایا اور کہا ’’بھا جی، آپ کی بڑی مہربانی اگر اب آپ مجھے آرام کرنے دیں۔ اس پر قاتلوں جیسے چہرے والا یہ شخص غصے سے لال پیلا ہو کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور چیخ کر بولا ’’کیوں خالی کردوں یہ برتھ میں مفت سفر نہیں کر رہا، میں نے بھی ٹکٹ خرچا ہوا ہے‘‘ اس پر ایک دم سے میرا پارہ چڑھ گیا اور لمحوں میں میں نے اپنا لٹریچر اور پروفیسری طاق پر رکھی اور آستین چڑھا کر کہا ’’تم نیچے اترتے ہو یا آ کر تمہیں اتاروں؟‘‘ اس
پر اس نے گھور کر مجھے دیکھا اور پھر دوسرے ہی لمحے مجھ پر حملہ آور ہونے کے لئے نیچے کی طرف جھکا۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھ پر دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی ہے، میری آنکھیں ابل کر باہر کو آ رہی تھیں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے ساتھ گتھم گتھا ہونے کیلئے اس کی طرف بڑھا مگر دوسرے مسافروں نے آگے بڑھ کر میرا راستہ روک لیا۔ میں شاید اس وقت ان کے روکے سے بھی نہ رکتا، مگر اچانک میری نظر اس نوجوان پر پڑی جس کے حقوق کیلئے میں ’’مسلح جدوجہد‘‘ پر آمادہ ہو رہا تھا وہ آرام سے اپنی نشست پر بیٹھا میری طرف دیکھتا تھا اور مسکراتا جاتا تھا، یہ دیکھ کر میں نے ڈبے کے مسافروں کی رائے کا ’’احترام‘‘ کیا اور دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
’’میں آپ کو پہچان گیا ہوں‘‘ اس نوجوان نے مجھے محبت بھری نظروں سے دیکھتے اور احمقانہ سی مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوئے کہا ’’آپ ’’وارث ‘‘ کے چودھری حشمت ہیں نا! مجھے اس ڈرامے میں بھی آپ کا کام بہت پسند آیا تھا !‘‘
اب ڈبے میں رات پڑ گئی تھی۔ میں نے اپنی برتھ پر بستر بچھا لیا اور سونے کی کوشش میں تھا، مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ مجھے دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اگر بے دھیانی میں میں نے کروٹ بدلی تو اس کا انجام کیا ہو گا کیونکہ اس برتھ کی چوڑائی کروٹ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ ڈبے میں اب مکمل سکوت طاری تھا۔ تمام مسافر اونگھ رہے تھے گاڑی کا شور اب ان کے لئے بے معنی تھا کیونکہ گزشتہ تیرہ گھنٹے کے سفر کے دوران وہ اس کے عادی ہو چکے تھے۔ کچھ لوگ سیٹوں کے اوپر تھے وہ ایک دوسرے کے کاندھوں پر سر رکھ کر یوں سو رہے تھے جیسے برسوں سے ایک دوسرے کے آشنا ہوں۔ فرش پر بیٹھے ہوئے لوگ دونوں ٹانگیں سکیڑ کر اپنے گھٹنوں پر سر رکھے اونگھ رہے تھے۔ ایک مسافر نے چادر کا ایک سرا برتھ اور دوسرا سرا اس کے مقابل سامان رکھنے والی جگہ کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور خود اس میں لیٹا ہوا فضا میں جھول رہا تھا۔ بہت سے مسافر ایک نشست والی سیٹ کی ’’چوٹی‘‘ پر بیٹھے تھے اور انہوں نے اپنے پاوں نشست پر بیٹھے مسافر کی پشت کی طرف لٹکائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ سیٹ کے ساتھ ٹیک نہیں لگا سکتے تھے۔ گاڑی صبح چار بجے کے قریب حیدر آباد پہنچنا تھی اب میری آنکھیں نیند سے ہولے ہولے بند ہو رہی تھیں کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ میں نہیں جانتا، میں کتنی دیر سویا بس اس اثنا میں ایک مسافر نے مجھے پاوں سے پکڑ کر ہلایا اور کہا ’’بائو جی، حیدر آباد آ رہا ہے تیار ہو جائیں‘‘ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا برتھ سے نیچے اترا۔ اپنا سامان سمیٹا اور ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر حیدر آباد کا انتظار کرنے لگا کیونکہ دوسری ٹانگ کے لئے فرش پر کوئی جگہ نہ تھی۔ مجھے حیدر آباد کی آمد کی اطلاع دینے والا مسافر میری برتھ سنبھال چکا تھا، میں قریباً آدھ گھنٹے تک اسی پوزیشن میں کھڑا رہا۔ بالآخر میں نے اس کی طرف رجوع کیا تاکہ اس صورتحال کے بارے میں اس سے استفسار کر سکوں مگر وہ گہری نیند میں تھا اور انتہائی خوفناک قسم کے خراٹے لے رہا تھا۔ میں نے ڈبے کے باقی مسافروں کی طرف نظر ڈالی وہ اونگھتے اونگھتے تھوڑی دیر کیلئے آنکھیں کھولتے جو بے خوابی کی وجہ سے انگارے کی طرح سرخ ہو رہی تھیں۔ حیدر آباد ابھی دور تھا میں بگلے کی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا تھا اور میرے جسم کا یہ حصہ اب بالکل بے جان ہو چکا تھا۔ قریب تھا کہ میری مدافعت دم توڑ دیتی اور میں کھڑے کھڑے کسی پر گر پڑتا کہ ٹرین حیدر آباد کے پلیٹ فارم میں داخل ہو گئی۔ میں کیڑوں مکوڑوں کی طرح فرش پر پڑے ہوئے اشرف المخلوقات کے جسموں پر پاوں رکھتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھا۔ اپنا سامان باہر پلیٹ فارم پر پھینکا اور پھر کھڑکی میں سے باہر پلیٹ فارم پر چھلانگ لگا دی ۔
اسٹیشن سے باہر برآمدے میں لوگ کچے فرش پر بے سدھ پڑے تھے، اس وقت فضا میں خاصی خنکی تھی، مگر ان کے جسموں پر چادر نہیں تھی اور ان کے بازو ہی ان کے سرہانے تھے۔ تھرڈ کلاس کے ڈبے میں میرے ہم سفر اور یہ سب لوگ غالباً میری ہی طرح ’’ایڈونچر‘‘ کے موڈ میں تھے بلکہ مہم جوئی میں مجھ سے کہیں زیادہ تھے کہ میں تو اس روز چند گھنٹوں کے لئے ان کے دکھوں میں شامل ہوا تھا، جبکہ ان کی ساری زندگی اسی طرح بسر ہوتی ہے!

.