Teen Khushiyaan Aik Sath – Dr Ramesh Kumar

35

دنیا بھر میں ربیع الاول کے مبارک مہینے میں دنیا کی اس عظیم ہستی کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے جسے خوداللہ نے رحمت العالمین قرار دیا، جنہوں نے اپنی حیات مبارکہ میں دکھی انسانیت کی خدمت کا درس دیا، جنہوں نے اپنے عمل سے دشمن کو معاف کرکے پائیدار امن کی راہ ہموار کی، جنکے نرم رویے نے دنیا بھر کے انسانوں کے دل جیت لئے، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں عقیدت کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں غیرمسلموں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، آج کی نئی نسل کیلئے یہ معلومات حیران کن ہوگی کہ مشہور نعت ــ’’شاہ ِ مدینہ، سارے نبی تیرے در کے سوالی‘‘کو جے سی آنند نامی پاکستانی ہندو فلم پروڈیوسر نے اپنی فلم نورِ اسلام میں فلمانے کاشرف حاصل کیا ہے، آنجہانی جے سی آنند اپنے زمانے کے سب سے بڑے فلم تقسیم کار تھے لیکن ہمیشہ غریبوں کی مدد کیلئے پیش پیش رہتے۔ میری نظر میں دنیا کی ہر عبادت گاہ مقدس اور قابل احترام ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے گزشتہ 72برسوںسےویران پڑے کرتارپور گردوارے کو آباد کرنے کے عزم کو آخرکار عملی جامہ پہنا دیا ہے اور ایک سال کی قلیل مدت میں کرتارپور روشنیوں سے چکمتا دمکتا زندگی سے بھرپور آباد ہوگیا ہے، باباگورونانک کے ماننے والے پاکستان، انڈیا سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، بالخصوص صوبہ سندھ میں نانک نام لیواؤں کی بڑی تعداد بستی ہے،بابا گورو نانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام کرتارپور میں گزارے تھے اور انکی آخری رسومات بھی وہیں ادا کی گئیں، ان کے 550ویں یوم ِ پیدائش کی مناسبت سے دنیا کے اس عظیم الشان منصوبے کے باضابطہ افتتاح کیلئے 9نومبر کی تاریخ منتخب کی گئی جو شاعر مشرق اور پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کی سالگرہ کا دن بھی ہے، علامہ اقبال کا شمار بھی بابا گورونانک کے عقیدت مندوں میں کیا جاسکتا ہے جنہوں نے ایک پوری نظم بابا گورونانک کی شان میں لکھ ڈالی، ان عظیم شخصیات کا مقصد حیات ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت تھا، اسی وجہ سے دنیا کے تمام بڑے اپنے پیغام کو نسل در نسل آگے پہنچانے کی تلقین کرتے ہیں۔علامہ اقبال سے عزت اور احترام کا جذبہ رکھنے والے بھی پاکستان، جرمنی،انڈیا، ایران سمیت دنیا کے ہر کونے میں پائے جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بین المذاہب ہم آہنگی فروغ دینے کے لئے سکھ یاتریوں کی کرتارپور یاترہ ویزہ فری بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ یاتریوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی،اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے بابا گرونانک کی 550ویںجنم دن کے حوالے سے پچاس روپے کا یادگاری سکہ اور ڈاک ٹکٹ کے اجراء سمیت متعدد احسن اقدامات اٹھائے ہیں، مختلف ادارے سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کئی سہولتوں کا اعلان کررہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ان اقدامات نے عالمی برادری کے سامنے نہ صرف ملک کا امیج ایک مثبت انداز میں پیش کیا ہے بلکہ کافی حد تک ا س پروپیگنڈے کو زائل کرنے میں مدد ملی ہےکہ پاکستان میں غیر مسلم برادریوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ دنوں مجھے پاکستان کی ایک ٹاپ کلاس تعلیمی درسگاہ میں لیکچر دینے کے حوالے سے لاہور مدعو کیا گیا، دورانِ سفر مجھے کثیر تعداد میں اپنے سکھ یاتری بھائی نظر آئے جو بابا گرونانک کے جنم دن اور کرتارپور راہداری کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات کی نہایت پرجوش انداز میںتعریف کررہے تھے،مجھے ہمیشہ اپنے پیارے وطن پاکستان کا ذکردوسروں سے اچھے الفاظ میں سن کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے ہر معاشرے میں چند فیصد عناصر شدت پسندی کی راہ پر گامزن ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے امن پسند شہریوں کی اکثریت کو آگے بڑھ کر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ، کرتار پور گوردوارے کی بحالی ایک پیغام ہے کہ ہماری نظر میں دنیا کے تمام مذاہب قابل احترام ہیں او ر بالخصوص کسی بھی ملک میں جو اقلیتوںمیں کم تعداد میں لوگ بستے ہیں ، ان کا خیال رکھنا مہذب معاشرے کی ایک اہم نشانی ہوتی ہے۔ اس کی بہترین مثال پیغمبر اسلام ﷺ نے مدینہ میں دنیاکی پہلی فلاحی ریاست قائم کرکے پیش کی،انہوں نے غیرمسلم شہریوں کے ساتھ میثاقِ مدینہ کے تحت پرامن سماجی تعلقات کو فروغ دیا، اللہ کے آخری پیغمبر اسلام نے پوری دنیا میں رحمت کا پیغام عام کیا ، انہوں نے اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والوں کو معاف کیا ، انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر دشمنوں کو معاف کر کے امن کی راہ ہموار کی۔ میرے آج کے اس کالم کا لب لباب یہ ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت وہ جذبہ ہے، وہ عبادت ہے، جس پر عمل کرنے والے ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں۔ آج ہمارے ارگرد جو تقاریب ہو رہی ہیں ،وہ اپنے اپنے طور پر یہی پیغام دیتی ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا کارنامہ انسانیت کی خدمت ہے ،آج ہمیں اپنی زندگیوں میںہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر اور تمام تعصبات کو خیرباد کہہ کر امن کا پیغام عام کرنا چاہئے، آج جو ایک کرتار پور راہداری کھولی جارہی ہے، امید کرنی چاہئے کہ یہ مستقبل میں ایسی بے شمار راہداریاں کھولنے کا باعث بنے گی۔ آج ہمیںدنیا میں امن اورخطے میں خوشحالی لانے کے لئےایک دوسر ے کو سمجھنا چاہئے ،ایک دوسرے کا احترام یقینی بنانا چاہئے۔ میری وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب سے بطور خاص گزارش ہے کہ عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میثاقِ مدینہ اور آخری حج کے خطبے کو اپنی ریاستی پالیسی کا محور بنائیں۔