Taliban aur America main (mak maka) By Nusrat Javed

33

ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے میں جبلی طورپر ہماری زندگی کے مالک ہوئے طاقت ور افراد کے بیانات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ان کی جانب سے ہوئے دعوے شک وشبے کی چھلنی سے گزارنے کو مجبور محسوس کرتا ہوں۔بے پناہ رسائی کے حامل بی بی سی اور سی این این جیسے ادارے گزشتہ کئی دنوں سے جس انداز میں کابل ایئر پورٹ کے گرد جمع ہوئے افغانوں کی اذیت پر توجہ مرکوز کئے ہوتے تھے اس نے امریکہ اور یورپ کے کئی سیاستدانوں کو انسان دوستی کے ناٹک رچانے کو مجبور کردیا۔ان کی دہائی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل تنظیم G-7کا ہنگامی اجلاس بلانے کا سبب ہوئی۔امید باندھی جارہی تھی کہ مذکورہ تنظیم طالبان کو اجتماعی طورپر قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ امریکی افواج کی ان کے ملک میں موجودگی کو چند دنوں تک بڑھانے کی اجازت دی جائے۔اس کی بدولت افغانستان سے ان تمام شہریوں کا انخلاء نسبتاََ آسانی سے مکمل ہوجائے گا جو طالبان کے اقتدار میں لوٹنے کے بعد اس ملک میں رہنا نہیں چاہتے۔

امریکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے تاہم منگل کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے میں یہ دعویٰ کربیٹھا کہ صدر بائیڈن دل سے افغانستان سے اس وقت کابل ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالے فوجیوں کو 31اگست گزرجانے کے بعد وہاں تعینات نہیں رکھنا چاہ رہا۔یہ لکھتے ہوئے ہرگز فخر محسوس نہیں کررہا ہے کہ میں بالآخر درست ثابت ہوا۔مزید دکھ اس وجہ سے بھی ہورہا ہے کہ منگل کی رات بتیاں بجھانے کے بعد سونے کی کوشش کررہا تھا۔فون دیکھنے کی علت مگر ٹویٹر اکائونٹ پر لے گئی۔وائٹ ہائوس کی جانب سے وہاں اعلان ہورہا تھا کہ چند ہی لمحوں بعد امریکی صدر صحافیوں کے روبرو آکر ایک اہم بیان دے گا۔صحافیانہ تجسس نے نیند کو دور بھگادیا۔

بائیڈن مائیک کے روبرو آیا تو اپنے خطاب کے ابتدائی 5منٹ اس امر کے بارے میں اطمینان کے اظہارکی نذرکردئیے کہ امریکی پارلیمان نے وہ بجٹ منظور کردیا ہے جس کے ذریعے وہ کرونا کی وجہ سے بدحال ہوئی معیشت کو بحال کرنا چاہ رہا ہے۔کم آمدنی والوں کو سستے مکانات فراہم کرنا بھی مذکورہ بجٹ کا اہم ترین ہدف ہے۔اس کے علاوہ جدید سڑکوں پر پلوں کی تعمیر بھی درکار ہے اور دیہات میں انٹرنیٹ کو پھیلانا اور تیز تر بنانا بھی پاس ہوئے بجٹ کی وجہ سے ممکن ہوگا۔امریکہ کے مقامی مگر ٹھوس معاملات پر اپنے ابتدائی کلمات میں بھرپور توجہ دیتے ہوئے بائیڈن جیسے کائیاں اور تجربہ کار سیاستدان نے نہایت مہارت سے یہ پیغام اجاگر کیا کہ اس کی اولیں ترجیح امریکہ کو خوش حال اور توانا تر بنانا ہے۔دنیا میں کیا ہورہا ہے یہ اس کا درد سر نہیں۔

اپنے ابتدائی کلمات کے ذریعے مذکورہ پیغام اجاگر کرنے کے بعد بائیڈن نے افغانستان کا رُخ کیا۔ اعتراف کیا کہ بہت سے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ امریکہ کابل ایئرپورٹ پر اپنے فوجیوں کو مزید کچھ دن تعینات رکھے۔ وہ مگر اس کے لئے رضا مند نہیں۔ نہایت سکون سے بائیڈن یہ دعویٰ دہراتا رہا کہ افغانستان سے انخلاء کے واقعتا حق دار افراد اپنے کنبوں سمیت 31اگست تک وہاں سے باہر نکل آئیں گے۔امریکی افواج کو لہٰذا 31اگست کے بعد کابل ایئرپورٹ پر تعینات رہنے کی ضرورت نہیں۔کابل سے اپنی فوج نکالنے کے لئے اس نے یہ جواز بھی پیش کیا کہ افغانستان میں داعش کی خراسان کے حوالے سے بنی شاخ مؤثر انداز میں موجود ہے۔ امریکی فوجی اگر 31اگست کے بعد بھی کابل ایئرپورٹ پر موجود رہے اور افغانستان چھوڑنے کو بے چین شہری ہجوم کی صورت اسے گھیرے میں لیتے رہے تو مذکورہ تنظیم کی جانب سے تخریبی کارروائیاں شروع ہوجائیں گی۔و ہ مصر رہا کہ داعش کی خراسان کے حوالے سے بنائی ہوئی تنظیم امریکہ ہی نہیں طالبان کو بھی اپنا دشمن گردانتی ہے۔ مذکورہ دعویٰ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو امریکی صدر یہ پیغام دے رہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کو داعش کے حوالے سے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام تر اختلافات کے باوجود طالبان اور امریکہ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کے اتحادی بھی ہوسکتے ہیں۔

مستقبل میں امریکہ اور طالبان کا ’’بھائی-بھائی‘‘ بن جانا یہ کالم پڑھنے اور سننے والوں کو احمقانہ یاوہ گوئی محسوس ہوگی۔ مریضانہ نظر آتی ڈھٹائی سے لیکن میں اصرار کروں گا کہ طالبان اور امریکہ کے مابین ’’مک مکا‘‘ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ میری دانست میں اس کا حقیقی آغاز دوحہ مذاکرات کے دوران ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے آخری ایام میں امریکہ نے طالبان نامی گروہ سے نہیں بلکہ ’’امارات اسلامی افغانستان‘‘ سے ایک تحریری معاہدہ کیا تھا۔اس معاہدے کے بین السطور پر غور کریں تو وہ اشرف غنی کے تحت چلائے بندوبست کے اختتام کا اعلان بھی تھا۔اس کے بعد جو بھی ہوا محض تاریخی تفصیلات ہیں۔

منگل کے روز G-7کا جو اجلاس ہوا ہے اس سے ایک روز قبل سی آئی اے کا سربراہ اچانک افغانستان پہنچ گیا۔ وہاں اس نے ملاغنی برادر سے ایک تفصیلی ملاقات کی۔اس ملاقات کی خبر ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے جاری کی تھی۔ اس کی تردید نہیں ہوئی۔پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات دو بجے کے قریب ٹی وی سکرینوں پر رونما ہوئی بائیڈن کی گفتگو سے قبل منگل ہی کی سہ پہر طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس کے دوران امریکہ کو واضح پیغام دیا گیا کہ اس کی فوج کو 31اگست کے بعد کابل ایئرپورٹ پر موجود رہنے کی اجازت میسر نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ اہم ترین اعلان مگر یہ بھی تھا کہ افغان شہریوں کو اب کابل ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فقط وہ شہری ہی وہاں جاسکتے ہیں جن کے پاس امریکی پاسپورٹ یا وہاں قیام کا گرین کارڈ ہے۔اس فیصلے کا جواز یہ بتایا گیا کہ افغانستان سے پڑھے لکھے اور کئی شعبوں کے ہنر مند افراد کی وسیع پیمانے پر ہجرت مستحکم اور خوشحال افغانستان تعمیر کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔

یہ جوازبھی امریکہ کی آسانی کے لئے تراشا گیا ہے۔طالبان کے کابل لوٹنے کے بعد یہ ہورہا تھا کہ ہزاروں افراد جنہوں نے گزشتہ 20برسوں کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کسی نہ کسی انداز میں خدمات یا تعاون فراہم کی تھیںبیوی بچوں کے ہمراہ سیلاب کی صورت کابل ایئرپورٹ کا رخ کرنا شروع ہوگئی۔ان کی کثیر تعداد کے پاس کسی بھی نوعیت کی سفری دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔ ان کی بے چینی اور پریشانیوں کو بی بی سی اور CNNجیسے اداروں نے دل دہلا دینے والے انداز میں سکرینوں پر اجاگر کیا۔ اس کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ پر دبائو بڑھناشروع ہوا کہ اپنے ’’دوستوں‘‘ کو دغا نہ دے۔ انہیں طالبان کے رحم وکرم پر نہ چھوڑے۔بائیڈن مگر ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب وہ کمال مہارت ومکاری سے 31اگست کا منتظر ہے۔اس کے بعد طالبان جانیں اور ان کا افغانستان۔