Talibaan Ki Wapsi – Saad Rasool

14

طالبان کے کابل پر قبضے کو مغربی میڈیا نے ”سقوطِ کابل‘‘ قرار دیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے شاید یہ اصطلاح معنی خیز ہو‘ لیکن حقیقت میں ”سقوط کابل‘‘ غیرملکی قابض افواج کے ہاتھوں 2001 میں ہوا تھا۔ دو ہفتے قبل جو کچھ ہوا وہ کابل کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ ہم ممکن ہے طالبان کو پسند نہ کریں۔ ہم شاید ان کے فلسفے سے بھی متفق نہ ہوں۔ ہم ان کے ماضی کے حوالے سے خدشات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے مستقبل کے معاملات سے خوفزدہ بھی‘ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طالبان افغانستان کے مقامی لوگ ہیں‘ اور ان سے زیادہ‘ جنہیں ہم نیٹو افواج کہتے ہیں یا اشرف غنی جیسے افراد‘ جو مغرب کی کٹھ پتلی ہیں اور جو یہاں قائم کی گئی حکومت کو جواز بخشنے کیلئے مقرر کئے گئے تھے۔ اس طرح، کابل، جو بیس سال پہلے امریکیوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا، افغانوں نے اسے دوبارہ حاصل کر لیا ہے‘ اور ان تمام لوگوں کیلئے جو دنیا بھر کے لبرل دارالحکومتوں میں ‘سیلف گورنمنٹ کے حق‘ پر یقین رکھتے ہیں، یہ جشن منانے کا نہ سہی لیکن ان معاملات کو قبول کرنے کا موقع ضرور ہونا چاہیے۔پچھلے چند ہفتوں کے دوران کابل کا دوبارہ حصول تین حوالوں سے حیران کن رہا ہے: (1) وہ طریقہ اور رفتار جس سے طالبان آگے بڑھے۔ (2) اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کا طرز عمل۔ (3) امریکی افواج کا افراتفری میں انخلا، اور ان کا وہ غیرانسانی رویہ جس کے تحت وہ ان مقامی لوگوں کو روندتے ہوئے نکل گئے جو انکی یہاں مدد کرتے رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نکتے پر ایک الگ گہرے تجزیے کی ضرورت ہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا کے انداز یا پاگل پن، جو امریکہ کے اتحادیوں اور امریکی اسٹیبلشمنٹ میں بھی بہت سے لوگوں کیلئے حیران کن تھا، نے امریکی طاقت کے افسانے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ جس انداز سے امریکہ نے افغانستان سے انخلا (اسے بھاگنا بھی کہا جا سکتا ہے) کیا، اس نے امریکی سامراج کی صدی کو ختم کر دیا ہے۔ وہ صدی جو پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر شروع ہوئی (1920 میں)، اور سرد جنگ کے اتار چڑھاؤ کے دوران وقت گزرتا رہا، حتیٰ کہ طالبان نے کابل میں طاقتور سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔ سائگون (1975) میں جو کچھ ہوا تھا‘ وہ افغانستان (2021) کے مقابلے میں عزت دارانہ انخلا لگتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی سیاسی اور انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ نے طالبان جنگجوؤں کی رفتار اور طاقت کا مکمل طور پر غلط اندازہ لگایا تھا۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ اشرف غنی کی حکومت کی لڑنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی بالکل غلط تھے۔ انہوں نے نہ صرف اے این ڈی ایس ایف کی طالبان کے خلاف (کچھ) مزاحمت کرنے کی تکنیکی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، بلکہ (اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ) انہوں نے طالبان کے خلاف لڑنے کے حوالے سے افغان فورسز کے عزم اور جذبے کا بھی غلط اندازہ لگایا۔ انہوں نے امراللہ صالح اور حمداللہ محب کی بات سنی جو زمینی حقائق سے پوری طرح ناواقف تھے۔ افغانستان کا دفاع، اپنی پوری تاریخ کے دوران، مرکزی فوج کے بجائے جنگجو دھڑوں کے تعاون سے ہوا۔ اے این ڈی ایس ایف کے سپاہی کسی اور چیز سے پہلے خود کو قبائلی سمجھتے ہیں‘ اور جیسے ہی اشرف غنی اینڈ کمپنی فرار ہوئے، ان سپاہیوں نے بیرون ملک سے درآمد کی گئی ایک سیاسی قوت کیلئے لڑنے کے بجائے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے قبائل میں واپس چلے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ نے یہ سب غلطیاں کیسے کیں؟ کیا ان کے پاس مطلوبہ انٹیلی جنس نہیں تھی؟ کیا انہوں نے قبائلی ثقافت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا تھا؟ کیا انہوں نے اشرف غنی کی حکومت اور عوام کے مابین رابطے کا فقدان نہیں دیکھا تھا؟ یا، (جس کا زیادہ امکان ہے) کیا امریکیوں نے کسی چیز کی پروا ہی نہیں کی؟

اقتدار میں آنے کے بعد، طالبان نے اپنے بدترین ناقدین کو بھی حیران کردیا ہے۔ افغانستان کی سڑکوں پر بڑے پیمانے پر قتل عام نہیں ہو رہا‘ نہ ہی کوئی خوف پایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر، کسی جنگ میں، فاتح فوجیں مخالفین کے دارالحکومت پر بے تحاشا خونریزی کے ساتھ قبضہ کرتی ہیں۔ یاد کریں روسیوں نے کتنے لوگوں کو قتل کیا، جب انہوں نے کابل پر قبضہ کیا تھا؟ ڈیزی کٹرز کی زد میں آ کر کتنے لوگ مارے گئے تھے، جب امریکیوں نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا؟ 25 سال پہلے جب طالبان نے کابل میں اقتدار سنبھالا تھا تو کتنے لوگ مارے گئے تھے؟ لیکن (نئے) طالبان نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ 20 سال جنگ کے باوجود، اور رشید دوستم اور امراللہ صالح جیسے لوگوں کے ہاتھوں اپنے ساتھیوں کے قتل عام کے باوجود، طالبان نے ان تمام لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جو ہتھیار پھینک دیں۔ فی الحال انہوں نے آزاد صحافت اور خواتین کے حقوق (شریعت کی حدود میں) کی پاسداری کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اتنا نہیں ہو سکتا جتنا دنیا چاہتی ہے، لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم میں سے کسی نے بھی طالبان سے توقع کی تھی‘ اور اس عاجزی اور عام معافی کے خیال نے کئی عالمی دارالحکومتوں کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنے پر آمادہ کیا ہو گا‘ لیکن شاید اس ناقابل یقین کہانی کا سب سے حیران کن اور غیرانسانی حصہ وہ بے رحمی ہے جو امریکیوں نے ان افغانوںکے بارے میں دکھائی‘ جنہیں امریکی افواج کی مدد کے عوض پناہ کی توقع تھی۔ ہوائی جہاز بے بس لوگوں کے اوپر سے دوڑتے جا رہے ہیں، اور نوجوان افغان جہاز کے پروں سے چمٹے رہنے کے بعد موت کے منہ میں جا رہے ہیں، یہ تصاویر آنے والے زمانے میں دہائیوں تک امریکہ کی بین الاقوامی میراث کو پریشان کرتی رہیں گی۔ ریکارڈ کیلئے بتاتا چلوں کہ اس (بدنام زمانہ) فوٹیج میں، طیارہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے چیمپئنوں کا تھا‘ اور لوگ جو اس پر سے گر کر موت سے ہمکنار ہوئے‘ وہ تھے جن کو سپر پاور ‘آزاد‘ کرانے آئی تھی۔ جیسا کہ بعد میں پتا چلا، جو کابل ہوائی اڈے پر امریکی طیارے میں سوار ہونے کیلئے جمع ہوئے تھے، عام لوگ نہیں تھے‘ وہ تھے امریکیوں نے جنہیں اپنے ہاں پناہ دینے کے وعدے کئے تھے‘ یہ کہہ کرکہ اگر وہ طالبان کے خلاف ان کی مدد کریں تو وہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ وہ اس وعدے کے پورا ہونے کی خواہش میں ہوائی اڈے پر آئے تھے، اور پھر اسی خواہش کے تحت ہوائی جہاز سے لپٹ گئے تھے۔

کون مستقبل قریب میں، امریکہ پر دوبارہ اعتماد کرے گا؟ خاص طور پر، ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے تائیوان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کی حمایت کی ہے؟ شام، لبنان اور عراق میں امریکی اتحادیوں کا کیا بنے گا؟ اگر ضرورت کی گھڑی میں امریکہ افغانستان میں اپنے اتحادیوں کی مدد کیلئے نہیں آیا تو کیا وہ واقعی دنیا کے دور دراز علاقوں میں امریکی ‘اثاثوں‘کے دفاع کیلئے آئے گا؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خطے میں بھارتی دعووں کا کیا ہوگا؟ انڈیا کا مقصد اس خطے میں ‘چین کے سدِباب کی پالیسی کے تحت‘ چین کے مقابل کے طور پر کام کرنا تھا، اور بدلے میں بھارت کو مالی، فوجی، انٹیلی جنس اور اقتصادی مدد کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کیا یہ وعدے برقرار رہیں گے؟ اگر امریکہ اشرف غنی اینڈ کمپنی کا دفاع نہیں کرسکا تو کیا وہ چین کے ساتھ تنازع کی صورت میں واقعی مودی اور اسکے فاشسٹ ساتھیوں کا دفاع کرے گا؟ کیا امریکی افواج آئیں گی اور لداخ کے علاقوں کو آزاد کرائیں گی ، جن پر بھارت کا دعویٰ ہے اور جن پر اس وقت چین کا قبضہ ہے؟

افغان طالبان کی جانب سے کابل پر دوبارہ قبضہ امریکی اور عالمی جیوپولیٹکس میں ایک اہم لمحہ ہے۔ ہم نے دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی اور جدید ترین فوجی طاقت دیکھی ہے، جسے ملاؤں کے ایک گروپ نے موٹرسائیکل پر نصب AK-47s کے ساتھ گھٹنوں کے بل گرا دیا ہے۔ اگر یہ سب آپ کو رکنے اور سیاسی اور فوجی تسلط کے عالمی نظریات پر نظرثانی پر مجبور نہیں کرتا تو پھر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

SOURCEDunya News