Tahir ul Qadri Kay Tissue Papers | Ata ul Haq Qasmi

33

senior journalist Latest Episode of Ata ul Haq Qasmi Latest Column in Jang newspaper-

گزشتہ روز اسلام آباد سے راولپنڈی تک آدھے گھنٹے کا فاصلہ نواز شریف کی ریلی نے بارہ گھنٹے میں طے کیا۔ عوام کا ایک ہجوم تھا جو اپنے رہنما کے استقبال کے لئے سخت گرمی اور حبس کے موسم میں اپنے گھروں سے نکل آئے تھے۔ وہ انتہائی پرجوش تھے اتنا پرجوش مجمع بہت کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔میں لوگوں کے تمتماتے چہرے دیکھ رہا تھا اور اس دوران میرے ذہن میں دو باتیں آئیں، ایک تو یہ کہ گزشتہ چار برس سے پندرہ بیس اینکر مسلسل محمد نواز شریف کی کردار کشی میں مشغول تھےاور یوں میں اس نتیجے پر پہنچا کہ عوام کی اپنی بھی ایک رائے ہوتی ہے اور زہریلے سے زہریلا پروپیگنڈہ بھی رائے عامہ پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ دوسری بات جو میں نے محسوس کی وہ عمران خان کی جماعت کے حوالے سے اس تاثر کو زائل کرنے والی تھی کہ نوجوان نسل عمران خان کے ساتھ ہے، کیونکہ نواز شریف کا استقبال کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں ہی کی تھی۔ وہ اپنے رہنما کی گاڑی کو چوم رہے تھے اور مسلسل پرجوش نعرے لگارہے تھے۔ یہ سارا عمل سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدم اتفاق کا ایک بین ثبوت تھا۔
میں نہیں جانتا جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے اس وقت عوام کا یہ قافلہ کہاں پہنچاہوگا، مگر اس دوران ایک خبر نے مجھے بہت محظوظ کیا اور وہ کینیڈا کے ’’وزیٹنگ پروفیسر‘‘علامہ طاہر القادری کا صرف ایک’’کال‘‘ پر پاکستان پہنچنا تھا۔ طاہر القادری صاحب بہت تابعدار قسم کے’’رہنما‘‘ ہیں، جنہیں آواز دے کر طلب کیا جاسکتا ہے۔ وہ حکم ملنے پر ’’چلے آتے‘‘ ہیں اور حکم ملنے پر واپس اپنے وطن کینیڈا چلے جاتے ہیں۔ وہ آتے ہیں اور ماڈل ٹائون میں جاں بحق ہونے والے اپنے کارکنوں کا قصاص طلب کرتے ہیں اور غالباً قصاص کی رقم وصول کرکے واپس چلے جاتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو تو انہوں نے گزشتہ دھرنے کے دوران اپنی چیختی چلاتی تقریر میں کہا تھا کہ اگر کوئی دھرنا چھوڑے اسے قتل کردو اور اگر میں بھی چھوڑوں تو مجھے بھی شہید کردو، مگر الحمد للہ بخیر و عافیت دھرنا چھوڑ کر وہ واپس کینیڈا تشریف لے گئے۔ ہمارے یہ وزیٹنگ پروفیسر اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے ایک بار پھر پاکستان تشریف لائے ہیں اور لگتا ہے ’’قصاص‘‘لے کر واپس چلے جائیں گے۔
قارئین کو شاید علم نہ ہو، سوشل میڈیا پر طاہر القادری صاحب کی ایک ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں وہ بھرائی ہوئی آواز میں بتارہے ہیں کہ عالم رئویامیں ایک دفعہ ان کی ملاقات حضور نبی اکرم ﷺ سے ہوئی جہاں بہت سے دوسرے علماء بھی موجود تھے۔ حضور اکرم ؐ فرمارہے تھے کہ وہ اہل پاکستان سے مایوس ہو کر واپس مدینہ جارہے ہیںاور تمام علماء ان کی منت سماجت کرتے ہیں کہ آپؐ ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں، مگر حضور ﷺفرماتے ہیں کہ میں اہل پاکستان سے بہت مایوس ہوں، میں ا ب یہاں نہیں رکوں گا۔ اس پر طاہر القادری صاحب آگے بڑھتے ہیں اور حضورﷺ کے قدموں پر اپنا سر رکھ کر ا ور آہ و زاری کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ یہ سن کر بقول طاہر القادری حضورﷺ فرماتے ہیں اچھا طاہر القادری تم کہتے ہو تو رک جاتا ہوں مگر میری دو شرائط ہیں، طاہر القادری کے شرائط پوچھنے پر حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک یہ کہ جتنا عرصہ میں پاکستان میں رہوں گا (نعوذ باللہ) میرے معقول قیام و طعام کا انتظام تم کروگے اور دوسرا یہ کہ (نعوذ باللہ) میں جب بھی پاکستان آیا کروں گا، مدینے سے پاکستان تک کا پی آئی اے کا ٹکٹ تمہارے ذمہ ہوگا۔ انا للہ وانا الہ راجعون،اگر میں نےیہ ویڈیو خود نہ دیکھی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا کہ کوئی عالم دین کہلانے والا شخص اس بدترین توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوسکتا ہے، مگر ان کے سامنے بیٹھے ہوئے اندھی عقیدت کے حامل مجمع نے حضور نبی کریمؐ کے قیام و طعام اور مدینہ پاکستان سفر کے لئے پی آئی اے کی ٹکٹوں کے اخراجات کے لئے کروڑوں روپے اس شخص پر نچھاور کردئیے ہوں گے اب وہ قصاص کے نام پر رقم جمع کرنے پاکستان تشریف لائے ہیں یا انہیں آرڈر پر بلایا گیا ہے۔
آپ کو شاید علم ہوگا کہ ایک بار انہوں نے پنجاب حکومت پر الزام لگایا کہ ان کے گھر پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور دیوار پر کچھ خون کے چھینٹے بھی دکھائے گئے۔ معاملہ ہائیکورٹ میں گیا تو پتا چلا کہ خون کے چھینٹے بکرے کے خون کے تھے۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ طاہر القادری ایک جھوٹا اور مکار شخص ہے، موصوف کے اس طرح کے کارناموں کی تفصیل پڑھنا ہو تو میرے کالم نگار دوست ہارون الرشید کا وہ کتابچہ پڑھ لیں جس میں اس شخص کے کارہائے نمایاں کا دلچسپ اور عبرتناک تذکرہ موجود ہے۔ یہ شخص اپنے مریدوں سے سجدے کراتا ہے اور اپنی ناک پونچھ کر ٹشو پیپر ان کی طرف اچھال دیتا ہے جو اس ٹشو پیپر کو چوم چاٹ کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
ان بچاروں کو کیا علم کہ یہ صاحب اپنے مریدوں کو بھی ٹشو پیپر ہی کی طرح استعمال کرکے کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیتے ہیں۔
پس نوشت، گزشتہ ہفتے’’کٹاکٹی‘‘ کرنے والے ایک غلیظ شخص نے اپنے اندر کی غلاظت کے چھینٹے مجھ پر بھی اڑائے تھے۔ یہ پتا نہیں کن لوگوں کا’’گجا‘‘ ہوا ہے، اسے شاید ’’پٹھان کی چونی‘‘ والا واقعہ یاد نہیں، کسی آئندہ کالم میں میں اس کی’’کٹاکٹی‘‘ نکال دوں گا۔