Syed Mododi Aur Un Ki Jamaat – Mujeeb Ur Rehman Shami

15

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی سیاست دو ایسے افراد سے محروم ہو گئی، جنہوں نے اس کے وقار اور اعتبار میں اضافہ کیا تھا۔ دونوں کے خیالات اور نظریات میں بعدالمشرقین تھا، لیکن کردار کی پختگی نے دونوں کا قد اونچا رکھا۔ دونوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا، ان سے اختلاف کرنے والے بھی اُن کا احترام کرتے رہے، دونوں مرحومین نے نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ ایم حمزہ اپنے شہر گوجرہ میں ابدی نیند سو گئے، تو سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنے آبائی علاقے وڈھ میں مٹی کی چادر اوڑھ لی۔ ایم حمزہ لدھیانہ کے ممتاز علما گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، مجلسِ احرار اسلام کے شہرہ آفاق صدر مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے بھتیجے تھے، قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے گوجرہ کو اپنا مسکن بنایا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، لیکن لاہور میں رہائش اختیار نہیں کی۔ گوجرہ ہی سے جڑے رہے، اور وہیں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ پاکستان کے انتہائی سینئر ایڈیٹر برادرم جمیل اطہر کہ ان کے والدِ محترم قاضی سراج الدین سرہندی سے ان کا برادرانہ تعلق استوار تھا، اور دونوں نے پچاس کی دہائی میں پنجاب اسمبلی کیلئے مفتی عبدالحمید لدھیانوی کی انتخابی مہم مل کر چلائی تھی، بتاتے ہیں کہ ایم حمزہ پولیس میں بھرتی ہونا چاہتے تھے، انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس بھی کر لیا تھا، لیکن پھر خفیہ اداروں کی اس رپورٹ پرکہ ان کے خاندان کا تعلق مجلسِ احرار اسلام سے ہے، ان کو پروانۂ تقرری نہ مل سکا۔ لدھیانہ کے مذکورہ علما خاندان کے منفرد رکن مفتی عبدالحمید لدھیانوی تھے، جو تحریک پاکستان میں پیش پیش رہے، اور ہجرت کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقیم ہوگئے۔ مفتی صاحب کو مسلم لیگی جاگیرداروں نے ٹکٹ نہ دیا تو اہلیانِ شہر نے انہیں آزاد امیدوار کے طور پرمیدان میں اُتار دیا۔ ایم حمزہ اور قاضی سراج الدین اس معرکے میں ایک دوسرے کی طاقت تھے، مفتی صاحب اسمبلی میں تونہ پہنچ سکے، لیکن حمزہ صاحب نے کوچۂ سیاست میں اس طرح قدم رکھاکہ پھر مڑکر نہیں دیکھا۔ وہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سربکف رہتے، ان سے رشوت کی رقوم متاثرین کو واپس دلاتے، ان کی یہ انوکھی ادا انہیں مرجع خلائق بناتی چلی گئی۔ ایوب خان کے دور میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے، اور ان کے دم سے اپوزیشن بنچوں کے وقار میں اضافہ ہوا۔ نپے تلے الفاظ میں دِل کوزبان دیتے اور دِلوں میں گھرکر لیتے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، چودھری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا، اور بعدازاں وہ نورالامین اور نواب زادہ نصراللہ خان کی پاکستان جمہوری پارٹی کا حصہ بن گئے۔ پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو پنجاب میں اس کی سربراہی ان کو سونپی گئی۔ گوجرہ میں آٹے کی چکی ان کا ذریعہ معاش تھی، لاہور آتے تو سائیکل پرشہر بھرمیں پھرتے۔ گھر سے پراٹھے پکوا کر لے آتے، اور انہی سے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ اکثر پارٹی دفتر میں بسیرا کرتے۔ رانا نذرالرحمن سے دوستی ہوئی تو ان کے گھر بھی ٹھہرنے لگے۔ انہیں ہوٹل میں کھانے کی دعوت دی جاتی تو مسکرا کرٹال جاتے۔ اصرار کرتے کہ اس ”عیاشی‘‘ سے بہتر ہے کہ یہ رقم کسی ضرورت مند کودے دی جائے۔ 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد جس دورِ سیاست کا آغاز ہوا، حمزہ صاحب اس میں مسلم لیگ(ن) کا حصہ بن گئے۔ قومی اسمبلی کے رکن رہے، پھر سینیٹ میں رونق افروز ہوئے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ ان کے بیٹے اسامہ نے کاروبار کو کچھ وسعت دی، لیکن حمزہ صاحب کا اسلوب نہ بدلا، کفایت اور قناعت کے ساتھ زندگی گزارتے، دیانت کی تصویر بنے رہے۔ ان کے بیٹے کو مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ نہ ملا، تو وہ تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ یوں حمزہ صاحب اور مسلم لیگ(ن) میں بھی فاصلہ پیدا ہوا، لیکن اب ان میں توانائی نہیں رہی تھی۔ وہ گھر تک محدود ہوکر رہ گئے، ذوالفقار علی بھٹو دور میں انہیں گرفتارکیا گیا توجیل میں آٹھ دوسرے رہنمائوں کے ساتھ ایک الگ بیرک میں مسلسل 13 دن جگائے رکھا گیا۔ رانا نذرالرحمن کے بقول اس تیرہ روزہ بیداری نے صحت کو اس بری طرح متاثر کیاکہ ہم نو افراد سات چپاتیاں بھی ہضم نہیں کرسکتے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خواجہ صمدانی کے حکم پر ان کی یہ خصوصی قید ختم ہوئی، اور انہیں قومی اتحاد کے دوسرے اسیروں کے پاس جانا نصیب ہوا۔

حمزہ صاحب کی وفات کے تین دن بعد سردار عطاء اللہ مینگل نے بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ وہ بلوچستان کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ تھے۔ اس علاقے کو باقاعدہ صوبائی حیثیت جنرل یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ملی تھی۔ ون یونٹ ٹوٹا تو مغربی پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا، قلات، اس کے قرب و جوار کی ریاستوں برطانوی بلوچستان اور گوادر کو ملا کر ایک نیا صوبہ تشکیل دیا گیا، جس کا نام بلوچستان رکھا گیا تھا۔ 1970ء کے انتخابات میں یہاں سے نیشنل عوامی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تو اسے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا موقع ملا۔ عطاء اللہ مینگل ایوب خان کے دور میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، غوث بخش بزنجو کے ساتھ ان کی دوستی انہیں نیشنل عوامی پارٹی میں لے آئی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک بھر کے دورے کرکے پاکستان زندہ باد کا نعرہ پوری سج دھج سے لگاتے رہے۔ وہ لاہور آئے تو بے ساختہ کہہ گزرے کہ اگر باقی ماندہ پاکستان کو کچھ ہوا تو وہ بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیںگے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی منہ زوری ان کے درپے ہوگئی۔ مینگل حکومت کو برطرف کرکے شورش اور ہنگامے کے دروازے کھول دیئے گئے۔ عطاء اللہ مینگل اپنی برطرفی کا زخم دِل میں لئے 1973ء کے متفقہ آئین کی منظوری کیلئے کوشاں رہے اور جب محترم الطاف حسن قریشی اور مصطفی صادق مرحوم یہ درخواست لے کر ان کے پاس کوئٹہ پہنچے کہ بلوچستان کے ارکان قومی اسمبلی کو آئین کے مسودے پر دستخط کرنے کیلئے آمادہ کریں تو انہوں نے اس سے فی الفور اتفاق کیا، بلوچستان کے سات ارکان قومی اسمبلی میں سے چھ کے دستخط 1973ء کے آئینی بل پر ثبت ہو گئے۔ یہی ایک بات وفاق پاکستان سے ان کے تعلق کا ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔ بھٹو صاحب یہاں تک گئے کہ سردار صاحب پر نیپ کے دوسرے رہنمائوں کے ساتھ غداری کا مقدمہ قائم کرکے انہیں حیدر آباد جیل میں بند کر دیا، مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی ٹریبونل تشکیل دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے ختم کیا۔ عطاء اللہ مینگل کا جواں سال بیٹا اسداللہ مینگل بھی بھٹو دور میں نامعلوم افراد نے غائب کر دیا تھا۔ اس کی یاد ان کے دِل کا زخم بنی رہی، لیکن ان کے بیٹے اختر مینگل نے جمہوری جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کیا۔ اپنے والد سے رہنمائی حاصل کرتے اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے، لیکن گروہی سیاست نے انہیں بھی ٹرم پوری کرنے نہیں دی۔ وہ آج بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اور اپنے والد کی طرح سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے ساتھ بے رحم سیاست نے انصاف نہیں کیا۔ انہیں دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن انہوں نے شائستگی اور وقار سے رشتہ برقرار رکھا۔ ان کا لہجہ پختہ تو تھا مگر دھیما رہا۔ وہ دلیل سے بات کرتے، اور دلیل کی بات سننے پر آمادہ رہتے۔ وہ پاکستانی سیاست میں خود داری اور وضع داری کا حسین امتزاج تھے۔

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم بیالیس برس پہلے ماہ ستمبر کی بائیس تاریخ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ ان کی پیدائش بھی بیسویں صدی کے تیسرے سال میں اسی ماہ ستمبر کی پچیس تاریخ کو ہوئی تھی۔ انہوں نے 76 برس اس دنیا میں گزارے اور اس کے بعد وہاں جا بسے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ بقول منیر نیازی؎
وہ جو اس جہاں سے گزر گئے کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انہی دوستوں سے بھرا ہوا
مولانا کی برسی جماعت اسلامی کے زیر اہتمام باقاعدہ طور پر تو نہیں منائی جاتی کہ اسے ”بدعتِ حسنہ‘‘ سمجھنے والے اب بھی تعداد میں کم ہیں، لیکن یاد تازہ کرنے کا کچھ نہ کچھ اہتمام ہوہی جاتا ہے۔ اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور مختلف مقامات پر سید صاحب کے عشاق کچھ نہ کچھ اہتمام کرگزرتے ہیں۔ ویسے بھی مولانا ایسی شخصیت نہیں ہیں کہ جنہیں سال کے کسی مقررہ دن یا مقررہ وقت پر یاد کرکے پھر طاق نسیاں میں رکھ دیا جائے۔ وہ آج بھی ہماری سیاست اور سماج کا ایک زندہ حوالہ ہیں۔ ان کی قائم کردہ جماعت اسلامی نہ صرف پاکستان میں متحرک ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک میں اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ گلستانِ مودودی کے خوشہ چیں پورے عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے افکار سے مستفید بھی ہورہے ہیں اوران پر بحث و تمحیص بھی کررہے ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے بھی ان کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ انہیں ”سیاسی اسلام‘‘ کا موجد کہہ کردل کا بوجھ ہلکا کرنے والے بھی ان کی بھاری بھرکم شخصیت کا انکار نہیں کرپاتے۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اردو کے بے مثال ادیب تھے۔ آغا شورش کاشمیری تو انہیں اس زبان کا سب سے بڑا نثرنگار قرار دیتے تھے کہ غالب کے خطوط کے بعد ایسی اردو لکھنا اور کسی شخص کے حصے میں نہیں آیاکہ جسے معمولی حرف شناس بھی پڑھ اور سمجھ سکتا ہو اور بڑے سے بڑا عالم بھی جس پرسر دھنتا ہو۔ مشکل سے مشکل مضامین کو آسان سے آسان الفاظ میں بیان کردینے کی جو صلاحیت ان کے حصے میں آئی تھی، اس کی ہمسری کا دعویٰ شاید ہی کوئی کرپائے۔ ان کی بات دل سے نکلتی محسوس ہوتی اور براہ راست دل تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کا استدلال فطری، سادہ اور آسان ہوتا ہے۔ وہ اپنی بات اس طرح سمجھاتے چلے جاتے ہیں، جس طرح ایک ماہر کاریگر اینٹ پر اینٹ رکھ کر عظیم الشان عمارت بناتا چلا جاتا ہے۔ مولانا صرف نثرنگار نہیں تھے، مفسر، محدث، متکلم، مورخ اور محقق بھی تھے، انہوں نے محض کتابیں ہی نہیں لکھیں، لیکچر ہی نہیں دیئے، اپنے مقصد کے حصول کیلئے ایک ایسی تنظیم بھی کھڑی کرکے دکھا دی، جو اپنی مضبوطی کے اعتبار سے آج بھی بے مثال ہے۔ برصغیر میں کئی جماعتوں اور تحریکوں نے جنم لیا، لیکن جماعت اسلامی کا تشخص ان میں منفرد نظرآتا ہے۔ اس میں وراثتی قیادت سرنہیں اٹھانے پائی۔ ایک امیر کے بعد دوسرا امیر آیا، لیکن کسی کے بچوں کو بھی اسے اپنی جائیداد قرار دینے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی نے اپنا کوئی امیرتو کیا عام عہدیدار بھی اس لئے نہیں چناکہ اسے کسی بزرگ سے کوئی نسبی تعلق ہے۔ پاکستان کی سیاسی ہی نہیں مذہبی جماعتیں بھی ملوکانہ اثرات سے اپنے آپ کو بچا نہیں پائیں، ان کے جواز یا عدم جواز پر بحث ہوسکتی ہے، اورہر جماعت کا معاملہ اس کو درپیش مخصوص حالات کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس بحث میں الجھے بغیر اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ جماعت اسلامی پاکستان ہی نہیں ہندوستان میں بھی کسی نسبی یا خاندانی تعلق کی اسیر نہیں ہوپائی، اس کے ارکان نے اس کی کوئی اہمیت تسلیم نہیں کی اور اہل سنت والجماعت کا جوہری امتیاز برقرار رکھا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی اگرچہ انتخابی طاقت نہیں بن پائی اور مولانا نے انتخاب کے ذریعے انقلاب کا جو خواب دیکھا تھا، وہ ہنوز شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پایا، لیکن تعلیمی، سماجی اور فلاحی میدان میں اس کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ اس کے زیراثر قائم مختلف ادارے حسن کارکردگی کے اعتبار سے ممتاز ہیں، لوگ ان پر بھروسہ کرتے اور انہیں اپنی امانتوں کا مستحق گردانتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ووٹ بینک میں اضافہ نہیں ہو پایا لیکن اس کے جو نمائندے بھی منتخب ایوانوں تک پہنچے ہیں، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، اپنے اعتبار اوروقار کی حفاظت کی ہے۔ مولانا مرحوم کی برسی کے موقع پران کے سیاسی افکار بھی زیر بحث آئے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے پر بہت زوردیا۔ وہ کسی غیرقانونی طریقے کو آزمانے یا کسی زیرزمین سرگرمی کو اپنانے پرکسی طور تیار نہیں ہوئے۔ انتخاب کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش ہی ان کے نزدیک نہ صرف پسندیدہ بلکہ ”واحد آپشن‘‘ رہی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ یاامن کا فیصلہ کرنے کااختیار ریاست کا حق جانا اور اس پراصرار کیا۔ وہ کسی ایسی سرگرمی کو جہادی قرار دینے کیلئے تیار نہیں ہوئے، جو کسی گروہ نے اپنے طور پر (اعلانیہ یا خفیہ) اپنائی ہو۔ ان کے طے کردہ یہ دو اصول آج بھی پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ امنِ عالم کے ضامن ہیں۔ جہاد کی علمبردار غیرحکومتی تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں سے خود بھی نقصان اٹھایا اوران ملکوں کوبھی اس کے اثرات بھگتنا پڑے ہیں، جنہوں نے آنکھیں بند کرنے میں نجات ڈھونڈی تھی۔
مولانا مودودی نے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے متحدہ محاذ بنانے یا انتخاب میں حصہ لینے کیلئے دوسری جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کو بھی اپنی حکمت عملی میں اہمیت دیئے رکھی۔ مولانا مرحوم کے جانشینوں میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد نے بھی پاکستان قومی اتحاد، اسلامی جمہوری اتحاد اور متحدہ مجلس عمل بنانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں کامیابیاں بھی انہیں نصیب ہوئیں، لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتحاد بنانے یا ان سے نکل جانے کے معاملے میں ہمیشہ احتیاط کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ہیجانی اور جذباتی اسلوب نے ہزیمت سے دوچار بھی کیا ہے۔ پارلیمانی نظامِ حکومت میں انتخابی حلقوں کی حفاظت کا اہتمام ضروری ہوتا ہے، جس کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا سکا۔ آج جبکہ جماعت اسلامی انتخابی سیاست کو آگے بڑھانے کیلئے سرگرم ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی وضع کرے جس کے تحت منتخب ایوانوں میں اس کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک زمانہ تھا جب متناسب نمائندگی پر زور دیا جا رہا تھا اور برطانوی انتخابی نظام‘ جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے، خواہ مجموعی طور پر وہ اقلیت ہی میں کیوں نہ ہو، کے خلاف دلائل لائے جارہے تھے۔ یاد رہے‘ سو میں تیس ووٹ حاصل کرنے والا یوں کامیاب قرار پاتا ہے کہ اس کے خلاف پڑنے والے ستر ووٹ، تین امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں 20+25+25 یوں اکثریت اسمبلی سے باہر کھڑی رہ جاتی ہے اور تیس ووٹ حاصل کرنے والا ایک سو کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ اس پر کوئی فیصلہ نہ ہواتو اس معاملے کو خارج از بحث کردیا گیا۔ متناسب نمائندگی پرآج بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ بلدیاتی اداروں کا تسلسل بھی برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے بھی کسی فیصلہ کن معرکے کی تیاری کرے تو کامیابی قدم چوم سکتی ہے۔ مقامی حکومتوں کے وجود سے انکار کرکے صوبائی اور وفاقی حکومتیں بھی مستحکم نہیں ہوپائیں، ان کی حیثیت بنیاد کے بغیر کھڑی کی جانے والی عمارت ہی کی رہے گی، جسے چند پھونکوں سے اڑایا جا سکتا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ”دنیا‘‘ اور روزنامہ ”پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)