Surkh Lakeer Wale Mozoaat – Yasir Pirzada

18

آج بھی وہی معاملہ درپیش ہے کہ کیا لکھا جائے۔ بظاہر چاروں طرف موضوعات کی بہار ہے مگر اُن میں سے آدھے موضوعات ایسے ہیں جن پر روزانہ اڑھائی سو کے لگ بھگ مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں لہٰذا اِس قسم کے کسی موضوع پر لکھنا ایسے ہی ہے جیسے انار کلی میں کپڑوں کی قطار اندر قطار دکانوں کے سامنے اپنا مفلر بیچنے کا ٹھیلا لگانا۔ جو موضوعات باقی بچتے ہیں اُن پر لکھتے ہوئے پر جلتے ہیں کیونکہ اُن پر ایک اَن دیکھی ’’سرخ لکیر‘‘ کھنچی ہے۔ یہ سرخ لکیر کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، بس اٹکل پچو سے اپنی تحریر کو خود ہی سنسر کر لیتے ہیں، اگر کبھی کوئی کمی کوتاہی رہ جائے تو مدیر مسئول بتا دیتے ہیں کہ ’’گہرے پانیوں میں سفر کر رہے ہیں ہم‘‘۔ (نہ جانے مدیر کے ساتھ مسئول لکھنا کیوں ضروری ہے، میرے لئے تو فقط مدیر ہی کافی ہے)۔ یہ سرخ لکیر والے موضوعات کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ کم زیادہ ہوتی رہتی ہے تاہم آج کل یہ تعداد کافی بڑھ چکی ہے۔

مثلاً میری خواہش تھی کہ آج میں اس کانسٹیبل کی شہادت پر لکھوں جو گزشتہ دنوں ایک سابقہ کالعدم اور حالیہ جائز (مستقبل کا پتا نہیں) مذہبی تنظیم کے احتجاج کے دوران جاں بحق ہو گیا۔ یہ غریب کانسٹیبل ایک کرایے کے مکان میں رہتا تھا، اُس کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا، اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ پولیس کے شہدا فنڈ سے شاید اِن بچوں کی کچھ امداد ہو جائے مگر اِس امداد سے نہ تو اِن کا باپ واپس آئے گا اور نہ ہی یہ غم زندگی بھر ساتھ چھوڑے گا۔ انہیں البتہ یہ دلاسہ ضرور دیا گیا ہے کہ کانسٹیبل خالد جاوید کی ’’شہادت کی اچھی موت ہوئی ہے‘‘۔ یہ صرف ایک کانسٹیبل کے خاندان کی کہانی ہے، ایسے کم از کم نو پولیس اہلکار اِن ہنگاموں میں شہید ہوئے اور اِن سب کو بدترین تشدد کرکے ماردیاگیا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھلا اِس موضوع پر لکھتے ہوئے کیا مسئلہ ہے، یہ تو بہت نیکی کا کام ہے، شاید حکومت اِن پولیس والوں کے لیے ایسے امدادی پیکیج کا اعلان کر دے جس میں اِن نو پولیس والوں کے لیے پانچ پانچ مرلے کے نو مکان، بچوں کی مفت تعلیم، بچیوں کی شادی کے تمام اخراجات کا ذمہ اور فی خاندان کم از کم ایک کروڑ روپے نقد دیے جائیں۔ کل ملا کر بھی یہ رقم پچیس تیس کروڑ روپے سے زیادہ نہیں بنتی، دو چار سرمایہ دار اگر فقط اپنی جیبیں ہی جھاڑ دیں تو اتنے پیسے گر پڑیں اور کوئی سرمایہ داراگر یہ نیکی کمانے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر سعد رضوی صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی رہائی کی خوشی میں ہی اِن پولیس والوں کے لیے اِس امدادی پیکیج کا بندو بست کروا دیں، اُن کے تو ایک اشارے پر یہ کام ہو جائے گا۔ بظاہر تو یہ موضوع ایسا نہیں لگتا جس پر سرخ لکیر پھیری جائے مگر یہ موضوع صرف اُس وقت تک سرخ لکیر سے دور ہے جب تک اسے کانسٹیبل خالد جاوید کے نوحے تک محدود رکھا جائے، اور یہ بھی میرا حسنِ ظن ہے، انجانے میں سرخ لکیر میں نے اب بھی عبور کی ہے لیکن اِس طرح جیسے فاسٹ بولر غلطی سے نو بال پھینک دیتا ہے یا جیسے کبڈی میں کھلاڑی اپنے مخالف کو ہاتھ لگا کر فوراً واپس بھاگ جاتا ہے۔ اِس موضوع کی پڑتال کرنے کی مجھے اجازت نہیں، ذہن میں کلبلاتے ہوئے مختلف سوال اٹھانے کا حوصلہ نہیں اور یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کہ کانسٹیبل خالد جاوید بھی کلمہ گو مسلمان تھا تو پھر … خیر چھوڑیں۔

اسی طرح کچھ موضوعات ایسے ہیں جن پر کم از کم مین اسٹریم اخبارات میں اشارتاً بھی بات نہیں کی جا سکتی۔ فقط سوشل میڈیا پر کچھ مجاہدین اُن موضوعات پر بات کرتے ہیں مگر اُن میں سے بھی زیادہ تر بیرون ملک مقیم ہیں جہاں سے بیٹھ کروہ ٹویٹس کرتے ہیں۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے وہ ملک بدر ہوئے ہیں۔ یہ وہ موضوعات ہیں جنہیں حساس کہا جاتا ہے اور قومی سلامتی کے با رعب لفظ کے ساتھ نتھی کرکے نہایت آسانی کے ساتھ سُرخ لکیر والی حدود میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ کوئی اِن پر بات کرنےکا خیال دل میں نہ لا سکے۔ پہلے سُرخ لکیر والے معاملات کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہوتا تھا کہ کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور کہاں ختم ہوتے ہیں مگر اب تو یوں لگتاہے جیسے بلوچستان اور لاپتا افراد کی ترکیب ایک ساتھ استعمال کرنا بھی ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کچھ لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ نے ضرور اِن موضوعات پر لکھنا ہے جن پر سُرخ لکیر کھنچی ہے، دنیا جہان کے مسائل ہیں پاکستان میں، آپ اُن پر کیوں نہیں لکھتے؟ اِس پر میں سوچتا ہوں کہ وہ دنیا جہان کے مسائل کیاہیں اور جب اِن مسائل کا ’کھُرا‘ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو سُرخ لکیر عبور کر بیٹھتا ہوں۔ میری ایک خیر خواہ خاتون نے، جنہیں میں اپنی بڑی بہنوں کی طرح سمجھتا ہوں، مجھے سمجھایا ہے کہ میں کیوں لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہوں ، کیا ضرورت ہے ایسے مسائل پر لکھنے کی جو مذہبی طبقات پر تنقید کا سبب بنیں، بس سماجی مسائل پر لکھا کرو،وہ کافی ہیں۔ میں نے اُن کے مشورے پر غور کیاہے اور اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ بالکل درست کہتی ہیں۔ سو، آئندہ میں سُرخ تو کیا سفید لکیر سے بھی پرے رہوں گا اور کسی ایسے موضوع پر نہیں لکھوں گا جو اشارتاً بھی شرارتی نوعیت کا ہو۔ نو غریب پولیس والے مرتے ہیں تو مرتے رہیں، لا پتا افراد نہیں ملتے تو نہ ملیں، شدت پسندوں سے مذاکرات ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں… مجھے کیا۔ میں نے مستقبل کے لیے موضوعات کی ایک فہرست بنا لی ہے، آپ بھی دیکھیں اور مشورہ دیں کہ اِس قسم کے مزید کیا موضوعات ہو سکتے ہیں: ’سردیوں میں پہلے سویٹرکون پہنے گا۔ نارتھ ناظم آباد میں گندگی کے ڈھیر۔ بھینسیں جُگالی کیوں کرتی ہیں۔ مائی بیسٹ فرینڈ۔ پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش (صرف کرکٹ میچ کی حد تک)۔ وغیرہ وغیرہ‘۔ ہو سکتا ہے کہ آپ احباب کہیں کہ میں کچھ زیادہ ہی احتیاط سے کام لے رہاہوں، کیونکہ ایسے بھی لوگ ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بات کرتےہیں اور دونوں ہاتھوں سے داد ’بھی‘ سمیٹتے ہیں۔ جی ہاں، میں بھی اسی راہ پر چلنے کا سوچ رہا ہوں، اُس میں ستے ہی خیراں ہیں، نہ کسی سرخ لکیر کاخوف ہے اور نہ معاشرے کے دیگر طبقات کی نفرت ملتی ہے۔ کرنا صرف یہ ہے کہ طاقتور کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہے، اُس کی ہر بات پر لبیک کہناہے، اُس کی دی ہوئی لائن ’ٹو‘ کرنی ہے، اُس کے بتائے ہوئے بیانیے کی ترویج کرنی ہے اور بس۔ پھر آپ کو لوگ بھی سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور موضوعات کی کمی بھی نہیں رہے گی۔ پھرجسے چاہو طاقتور کے کہنے پر لتاڑ دو، کھلی اجازت ہوگی۔ میں نے یہ راستہ اپنانے کا فیصلہ کر لیاہے۔ صبح کا بھولا ہوں، دوپہر کو ہی واپس آ گیا ہوں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ