Suraj Sawa Naizey Par | Hassan Nisar

44

Hassan Nisar senior Columnist latest column in Jang leading newspaper of Pakistan .

منہ سے پھول جھڑنے کا تو سنا تھا لیکن منہ سے سانپ، بچھو، کاکروچ، کیڑے اور سنڈیاں جھڑتے پہلی بار دیکھا۔جے آئی ٹی نے اتنے مختصر سے انٹرویو کے دوران ایسا کیا کردیا کہ سمدھی شریف اسحق ڈار جیسا ٹھنڈا ٹھار گلیشیئر بھی ابلنے اور اچھلنے لگا۔ سچ کہا بزرگوں نے کہ پریشر میں انسان کا اصل سامنے آجاتا ہے۔ بڑی نامور گلوکارہ یاد آتی ہے جو گاتی بھی خوب تھی، جگتیں مارتی ا ور ہنساتی بھی بہت تھی۔ اس کی جیولری، ملبوسات اور دیگر لوازمات بھی قابل داد اور قابل دید تھے لیکن ایک بار ایورنیو سٹوڈیو میں کسی گانے کی ریہرسل کے دوران میں نے اسے غصے میں کسی کو فحش، غلیظ گالیاں دیتے سنا تو دنگ رہ گیا۔ گالیاں ایسی تھیں جو میں نے کبھی کسی مردانہ زبان سے بھی نہ سنی تھیں۔ ماہنامہ ’’دھنک‘‘ کے دن تھے اور میرے کیرئیر کا آغاز اس لئے میں اس اداکارہ+گلوکارہ کی اصل شہرت سے بھی ناواقف تھا۔ میری حیرانی پریشانی دیکھتے ہوئے کسی نے سرگوشیوہ سب باجماعت مکمل طور پر حواس کھو بیٹھے ہیں، احتساب کے خوف اور انجام سے ان کے اعصاب چٹخ رہے ہیں اور ٹوٹنے چٹخنے کی یہ آواز گالیوں کا روپ دھار چکی ہے سو آپ عمران کو کچھ بھی کہہ لیں…..اسے بزدلی کا طعنہ دیناذہنی دیوالیہ پن کے سوا کچھ بھی نہیں۔رہ گئی جہالت تو چہ پدی چہ پدی کا شوربہ…….ایچی سن سے لے کر آکسفورڈ تک اگر وہ جاہل ہے تو یقیناًسارا علم ٹاٹ سکولوں سے ہیلے کالج تک ہی ہوگا اور جہاں تک تعلق ہے پروفیشنل ا زم کا تو وہ جتنا بڑا پروفیشنل کرکٹر رہا، ڈار صاحب تو اپنے پروفیشن میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ باقی بچی سیاست تو دیکھ لو کہ وہ خود کہاں کھڑا ہے اور تم جیسوں کو کہاں لے آیا ہے۔ اب بات ہوجائے بدکرداری کی تو بدکرداری ہے جھوٹے منشور بیچنا، ملکی وسائل کے ساتھ کھلواڑ کرنا، عدالتوں پر حملے کرنا، چھانگے مانگے متعارف کرانا، اقدار کو بتدریج تباہ کرنا اور جینوئن احتساب سے بھاگنا اور اسے سیکنڈلائنرکرنے کی ناکام کوشش کرنا اور کردار کیا ہے؟ڈار صاحب! اپنی اپنی Defination ہے کردار کی اور میرے نزدیک سٹیٹ آف دی آرٹ کینسر ہسپتالوں کی تعمیر سے لے کرنمل یونیورسٹی کے قیام تک کو کردار کہتے ہیں۔آپ نے تو یہ لفظ ہی مسخ کرکے رکھ دیا۔جھوٹا وہ ایسا اور اتنا ہے کہ آج تک جو کہا وہ کرکے دکھایا بلکہ اس ملک کے لئے وہ کچھ بھی کردیا جس کا اس نے وعدہ بھی نہیں کیا تھا اور آپ……’’مجھے تم نے توقع سے زیادہ مار ڈالا ہے‘‘۔جواری وہ یقیناً ہے کہ کرپشن میں غرق اس ملک کو کرپشن کی دلدل سے نکال کر ٹریک پر لانے کا جوا واقعی عمران خان جیسا کوئی جواری ہی کھیل سکتا تھا جو جان ہتھیلی پر رکھ کر مستند مافیاز کو مسلسل للکار رہا ہے، تمام تر وحشیانہ کردار کشی کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار ہی نہیں…….آپ کو دیوار سے لگاچکا، دیوار گریہ تک پہنچا چکا۔رہ گئی ٹیکس چوری تو وزیر خزانہ ہو، سمدھی شریف بھی ہو تو اب تک کیوں نہیں پکڑا……اب پکڑلو کہ وہ کسی بھی حوالے سے چور ہوتا تو کمزور ہوتا اور زہریلی بھڑوں کے چھتے کو یوں ہائوس ا ٓف کارڈز کی طرح نہ بکھیرسکتا ۔’’جے آئی ٹی‘‘ سے فراغت کے بعد ڈار صاحب دھواں دار بولے، موسلادھار روئے تو کسی صحافی نے ان کے’’غصے‘‘ کی نشاندہی کی تو فرمایا۔’’غصے میں نہیں دھوپ بہت تیز ہے‘‘واقعی’’دھوپ‘‘ بہت تیز ہے بلکہ سورج سوا نیزے تک آچکا۔