Stephen Hawking Ka Khuda Say Milap | Yasir Pirzada

52
Yasir Pirzada Today’s column in Jang Akhbar
اسٹیفن ہاکنگ 8جنوری کو پیدا ہوا، یہ گلیلیو کی موت کا دن تھا، ہاکنگ کی وفات 14مارچ کو ہوئی، یہ آئن سٹائن کا یوم پیدائش تھا، اس پورے عرصے کے دوران وہ جتنا عرصہ زندہ رہا وہ کسی معجزے سے کم نہیں مگر وہ خود کسی معجز ے اور کسی خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس نے وہی سوالات اٹھائے جن کے جواب کئی صدیوں سے سائنس دان اور فلسفی تلاش کر رہے ہیں کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی، کیا ہم اس کائنات میں تنہا ہیں، کیا زندگی میں سب کچھ طے شدہ ہے، انسان کتنا مجبور اور کتنا مختار ہے، وقت کی شروعات کب ہوئی، ازل کیا ہے، ابد کیا ہے، زندگی کب وجود میں آئی، کیا کسی اور سیارے پر ہم سے زیادہ ذہین مخلوق بستی ہے، کیا ہماری دنیا میں ہر چیز سائنس کے قوانین کے تابع ہے یا کوئی خارجی قوت دخل اندازی کرتی ہے، اگر یہ کائنات پھیل رہی ہے تو کیا کھربوں سال پہلے کسی وقت پر اِس کا وجود تھا، کیا یہ کائنات بالآخر تباہ ہو جائے گی؟ مذہب، سائنس اور فلسفہ تینوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی۔ غبار خاطر میں ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ’’بار ہا مجھے خیال ہوا کہ ہم خدا کی ہستی کا اقرار کرنے پر اس لئے بھی مجبور ہیں کہ اگر نہ کریں تو کارخانہ ہستی کے معمے کا کوئی حل باقی نہیں رہتا اور ہمارے اندر ایک حل کی طلب ہے جو ہمیں مضطرب رکھتی ہے….. یہ پورا کارخانہ ہستی اپنے ہر گوشہ اور اپنی ہر نمود میں سر تا پا ایک سوال ہے۔ سورج سے لے کر اس کی روشنی کے ذروں تک، کوئی نہیں جو یک جنبش قلم پُرسش و تقاضہ نہ ہو ….. ہم عقل کا سہارا لیتے ہیں، اور اس روشنی میں جسے ہم نے علم کے نام سے پکارا ہے، جہاں تک راہ ملتی ہے، چلتے چلے جاتے ہیں، لیکن ہمیں کوئی حل نہیں ملتا، جو اس الجھاؤ کے تقاضوں کی پیاس بجھا سکے….. لیکن پھر جونہی ہم پرانے حل کی طرف لوٹتے ہیں اور اپنی معلومات میں صرف اتنی بات بڑھا دیتے ہیں کہ ایک صاحب ادراک و ارادہ قوت پس پردہ موجود ہے تو اچانک صورتحال یک قلم منقلب ہو جاتی ہے اور ایسا معلوم ہونے لگتا ہے، جیسے اندھیرے سے نکل کر یکایک اجالے میں آکھڑے ہوئے۔ اب جس طرف بھی دیکھتے ہیں، روشنی ہی روشنی ہے۔ …..اگر ایک ذی عقل ارادہ پس پردہ موجود ہے تو یہاں جو کچھ ہے، کسی ارادہ کا نتیجہ ہے، اور کسی معین اور طے شدہ مقصد کے لئے ہے۔ جونہی یہ حل سامنے رکھ کر ہم اس گورکھ دھندے کو ترتیب دیتے ہیں، معاً اس کی ہر کج پیچ نکل جاتی ہے اور ساری چولیں اپنی اپنی جگہ ٹھیک آ کر بیٹھ جاتی ہیں …..!‘‘یوں تو غبار خاطر سونے میں تولنے کے لائق ہے مگر خاص طور سے یہ خط جس میں مولانا نے مذہب اور خدا کا تصور پیش کیا ہے ایک ایسا ماسٹر پیس ہے جو دماغ کی کھڑکیاں کھول دیتا ہے، دس بار ہ صفحوں میں مولانا نے گویاپوری گتھی سلجھا دی ہے ۔
اسٹیفن ہاکنگ سائنس دان تھا، وہ ہر بات کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھتا تھا، اس کی دلیل یہ تھی کہ فلسفہ اور مذہب کائنات کے متعلق سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دے پائے، اب تک کائنات کے جتنے رموز سے پردہ اٹھا وہ سائنس کی بدولت ہوا، اُس کا کہنا تھا کہ ’’ہماری زمین پر اشیا کا باہمی عمل نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ بے شمار اثرات کے تابع ہے، یہ گھمبیرتا اس قدر ناقابل بیان ہے کہ قدیم تہذیبیں اس میں سے کسی واضح نمونے کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہیں، انہیں یہ بھی اندازہ نہیں ہوا کہ قوانین کا کوئی مجموعہ ایسا ہوسکتا ہے جن کے نتیجے میں ہماری زمین پر مختلف عمل وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مگر پھر رفتہ رفتہ علم فلکیات کو چھوڑ کر دیگر علوم میں نئے قوانین دریافت ہوئے اور یوں سائنس کی قطعیت کا تصور وجود میں آیا جس کے نتیجے میں مانا گیا کہ ایسے قوانین کا مجموعہ ضرور ہوگا جو کسی بھی دیئے گئے وقت میں کائنات کی مخصوص کیفیت کی وضاحت کرے گا کہ کیسے یہ کائنات وقت کے ساتھ ساتھ وجود میں آئی۔ قوانین کا یہ مجموعہ ہر وقت اور ہر جگہ لاگو ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر یہ قوانین نہیں کہلائیں گے۔ ان قوانین کے عملدرآمد کرنے میں کوئی استثنیٰ نہیں ہوگا، کوئی معجزہ نہیں ہوگا۔ خدا یا شیطان کوئی بھی کائنات کا انتظام چلانے میں مداخلت نہیں کریں گے….. یہ پوچھنا مناسب ہوگا کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی، کون خالق ہے، اگر اس کا جواب خدا ہے تو پھر لا محالہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ خدا کو کس نے بنایا، اِس نظرئیے میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ہستی ایسی ہے جسے کسی خالق کی حاجت نہیں اور وہی خدا ہے، اسے علت العلل(first cause) کہا جاتا ہے۔ ہماری رائے میں مگر ایسا ممکن ہے کہ کائنات کی تخلیق سے متعلق سوالوں کا جواب خالصتاً سائنس کے دائرہ کار میں رہ کر دیا جائے، کسی بھی وجود الٰہی کی مداخلت کے بغیر!‘‘(The Grand Design, Page 171-72)۔ اسی سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ خالق حقیقی سے جا ملا۔
ہمیں علم نہیں کہ مشہور زمانہ ایم تھیوری جس میں بقول اسٹیفن ہاکنگ کائنات کے تمام سربستہ رازوں کا جواب ہوگا، کبھی دریافت ہوگی یا نہیں، مگر یہ بات ضرور طے ہے کہ مذہب، فلسفہ اور سائنس کا تمام علمی کام بہرحال اس وقت مغربی دنیا میں ہی ہو رہا ہے، ان کی جامعات میں مسلم مفکرین کی کتب پر بحث ہوتی ہے، ابن رشد کے افکار انہوں نے گھول کر پی رکھے ہیں، مسلمان سائنس دانوں کی تحقیق، علمی ذخیرے اور ایجادات انہوں نے محفوظ کر رکھی ہیں، انہی کے کتب خانوں، ویب سائٹس اور انسائیکلوپیڈیا سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کسی زمانے میں بغداد علم و فن کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ سائنس کی بات کریں تو CERNانہوں نے بنائی جہاں وہ کائنات کی تخلیق کا سائنسی راز جاننے کی جستجو کر رہے ہیں، گاڈ پارٹیکل وہ دریافت کر چکے اب گاڈ کی انہیں تلاش ہے۔ فلسفے میں ان کے ہاں گزشتہ چار سو برس میں جتنے فلسفی پیدا ہوئے اُس کا دسواں حصہ بھی مسلم دنیا نے پیدا نہیں کیا، سوچ پر وہ کوئی پابندی نہیں لگاتے، سوال اٹھانے پر وہاں بندہ نہیں اٹھایا جاتا، سوال کا جواب تلاش کیا جاتا ہے، ہم بندہ تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہماری جامعات کا یہ حال ہے کہ پی ایچ ڈی صاحبان میں تنقیدی شعور نام کی کوئی چیز نہیں، تحقیقی مقالے میں سرقہ وہ بھی کرتے ہیں جن کے ذمے اِن مقالوں کی پڑتال کا کام ہے، حتّی ٰ کہ جامعات کے وی سی صاحبان بھی ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں، ہم شاہراہ دستور پر گند ڈالتے ہیں۔
اسٹیفن ہاکنگ اُن لوگو ں کا مذاق اڑایا کرتا تھا جو تقدیر کے جبر کے قائل تھے، اُس کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس بات کو مانتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا وہ بھی سڑک پار کرنے سے پہلے دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ مجھے اسٹیفن ہاکنگ سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا، ظاہر ہے کہ ا س میں ہم دونوں کی مصروفیت ہی آڑے رہی، کبھی ملتا تو میں اس سے ضرور پوچھتا کہ طبی سائنس کی رُو سے تو اسے صرف چند سال زندہ رہنا چاہئے تھا، ڈاکٹروں نے بھی اسے یہی بتایا تھا، تو پھر ’’اُن آفاقی قوانین‘‘ میں یہ تبدیلی کس نے اور کیسے کی کہ وہ 76برس تک جیا! ممکن ہے ہاکنگ کو اس بات کا جواب اب مل جائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)