Shehsay Kay Ghur | Ali Moeen Nawazish

14
latest Column of Ali Moeen Nawazish in Jang Akhbar..

میں نے یہ واقعہ بچپن میں کہیںپڑھا یاکسی سے سنا تھا اور یقیناً میرے قارئین نے بھی یہ واقعہ ضرور سنا ہوگا لیکن پھر بھی میں اسے ایک مرتبہ پھر تحریرکردیتا ہوں تاکہ میں جو بات کرنے جارہا ہوں اس کو واضح کرسکوں۔ایک چور جب ایک بڑی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اورکوتوال اسے پکڑ کر قید خانے کی طرف لے جانے لگے تو اس نے ماں سے ملنے کی خواہش کی اور اس کی خواہش کے مطابق جب اسے ماں سے ملاقات کے لئے لے جایا گیا تو چور جس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اس نے ماں کے پاس جا کر اس کے کان میں سرگوشی کے لئے ماں سے کہا کہ وہ اس کی بات سنے لیکن اگلے ہی لمحے اس کی ماں درد سے چیخ رہی تھی کیونکہ چور نے اپنی ماں کا کان کاٹ کھایا تھا۔کوتوال اوروہاں موجود لوگوں نے اس چور کو ماں سے علیحدہ کیا اور پوچھنے لگے کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے تو چور نے کہاکہ اگر اس روز جب میں پہلی مرتبہ ایک انڈا چرا کر لایا تھا تو میری ماں مجھے منع کرتی مجھے تھپڑ رسید کرتی تو پھر اگلی مرتبہ مرغی نہ چراتا اور پھراس کے بعد کسی کی بکری نہ چراتا اور یوں آج اس طرح ایک عادی چور کی طرح کوتوال کی گرفت میں آکر سخت سزا کے لیے نہ جارہا ہوتا۔اگر ہم اپنے سیاسی کلچر پر غور کریں تو ہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ہمارے سیاسی والدین یعنی ہمارے رہنماقانون اور انصاف کی بالادستی کے لئے عملی اقدامات تو نہیں کرتے وہ ڈرتے ہیں کہ کل وہ خود بھی اس شکنجے میں نہ کس دیئے جائیں کیونکہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذاتی طور پر خود انہوںنے کیا کیا بو رکھا ہے۔اس لیے وہ کھل کر بیانات کی ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔مثلاً چوک میں لٹکائیںگے،سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں بند کردیںگے، اوئے تجھے اٹھا کر باہر پھینک دیںگے ،ہمارے شیراب برداشت نہیں کریںگے ،وغیرہ وغیرہ۔۔۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے قانون کے رکھوالوں نے اپنے ہی ساتھی کے منہ پر سپرے کرکے اپنی شدت پسندی کا اظہار کیا ،ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ضلعی عدالتوں کو تالے لگادیئے گئے۔جوتے پھینکے گئے ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے رہنمائوںنے کھانے اور کھڑکتی دیگوں،قورمے ،پلائو،زردے اور بریانی کی لالچ دے کر جلسے کیے۔لوگوں کو اکھٹا کیا اور پھر بھڑکیلی تقریر کرکے اسٹیج سے یہ اعلان کیاگیا کہ کھانا تیار ہے اور خود لیڈر صاحب پچھلے راستے سے ہنستے ہنستے یہ سوچ کر نکل گئے کہ یہ بھی کیا لوگ ہیں ایک وقت کے کھانے پر کھینچے چلے آتے ہیں۔ کسی لیڈر نے اپنے حاضرین کو کبھی یہ نہیں کہاکہ اب کھانے کا وقت ہے میں اور آپ مل کر کھانا کھائیں گے اور سمجھانے کی کوشش کی ہو کہ اچھے سیاسی کارکن کیسے ہوتے ہیں،نظم وضبط کس بلا کا نام ہے۔ جس طرح اتنی تقریر میں اپنی لچھے دار باتوں،یا اپنی مظلومیت کی داستان،یا نئے پاکستان کے لیے ساتھ دینے کا درس دے رہے ہوتے اور عوام کو گھیرگھار کر اس مقام پر لے آتے ہیں اوران کے ہاتھ بلند کراکے ان سے حلف لے رہے ہوتے ہیں کہ ووٹ کی حقدار صرف انہی کی شخصیت یا پارٹی ہے تو وہاں دو بول یہ نہیں کہتے کہ ہم نے سیاست میں کس طرح نئی اقدار اپناتے ہوئے مخالفین کو بھی اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی شیشے کے گھر میں بیٹھے ہیں اور کوئی بھی پتھر اس شیشے کے گھر کو چکنا چور کردے گا۔ ہمیں اپنی مقبولیت کا زعم اوراپنی سیکورٹی کی طاقت کا تکبر ہوتا ہے۔لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر جلسے میں ہر محفل میں ہر تقریب میں اپنے پرائے سب نے دو دو جوتے پہنے ہوتے ہیں۔میاں نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا میں اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ سوشل میڈیا کے شیر جوتا مارنے والے کو اس کے ماں باپ کو اور اس کے اساتذہ کو کیا کیا خطاب دے رہے ہیں پولیس اس کھوج میں لگی ہوئی ہے کہ پیچھے اصل طاقت کون ہے۔لیکن اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں جس میں،حضرت علیؓ کے منہ پر تھوک دینے والے کویہ کہہ کر اپنی تلوار کے نیچے سے نکل جانے دیا جا تا ہے کہ اب یہ اسلام کا نہیں میرا دشمن ہوگیا ہے اور کہیں میں اسے اپنی ذاتی نفرت کا شکار سمجھ کر تو قتل نہیںکررہا۔ضر و رت اس امر کی ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں اپنی سیاست میں نئی اقدار متعارف کرائیں۔تشدد نہ کریں اور نہ تشدد پراکسائیں ورنہ ہم تو سارے ہی شیشے کے گھر میں بیٹھے ہیں۔