Ye Jo 22 Crore Hain By Nusrat Javed

22

یہ بات تو قیام پاکستان کے چند ہی برس بعد طے کردی گئی تھی کہ اسلام کے نام پر قائم ہوئے وطن عزیز میں مغرب کا متعارف کروایا نظام جسے جمہوری کہا جاتا ہے چلایا نہیں جاسکتا۔دستور ساز اسمبلی سے باہر موجود علمائے کرام نے باہم مل کر ’’قرارداد مقاصد‘‘کا مسودہ تیار کیا۔اس کی روشنی میں اسلامی فلاحی نظام کی تلاش شروع ہوئی۔ یہ تلاش ابھی جاری تھی کہ افسر شاہی سے اُٹھے ملک غلام محمد نے گورنر جنرل کی حیثیت میں دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کردیا۔

مولوی تمیز الدین مرحوم مذکورہ اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت میں اپنے ادارے کی بحالی کے لئے فریاد لے کر عدالتوں میں گئے تو ان دنوں کے چیف جسٹس عالی جناب منیر صاحب نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت گورنر جنرل کے اقدام کو واجب ٹھہرادیا۔ اس فیصلے کی بدولت بالآخر افسر شاہی سے کہیں زیادہ منظم اور طاقت ور ادارے سے ایک نہیں چار دیدہ ور قوم کو سیدھی راہ پر ڈالنے کے لئے نمودار ہوتے رہے۔ انہیں ہماری عدالتوں نے ہمیشہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت اپنی منشا کے مطابق سیاسی بندوبست چلانے کا جواز فراہم کیا۔

 دریں اثناء سیاست دانوں پر مشتمل جو بھی جمہوری حکومتیں وجود میں آتی رہیں وہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کو استحکام بخشنے والی قوتوں کو لگام ڈالنے میں قطعاََ ناکام رہیں۔میرا نہیں خیال کہ وقتا فوقتاََ سنسنی خیز انداز میں رونما ہونے والی آڈیوز یا وڈیوز ہماری سرشت میں راسخ ہوئی فدویانہ سوچ کو انقلابی انداز میں تبدیل کر پائیں گی۔ وقتی ابال ہے۔چند دنوں میں ہوا میں تحلیل ہوجائے گا اور ہم آنے والی تھاں پر واپس لوٹ جائیں گے۔

میری کہی اس بات کو مالیخولیا کے مارے شکست خوردہ انسان کی سوچ ٹھہراکر رد کیا جاسکتا ہے۔میں یہ الزام بھی اپنے سرلینے کو ہرگز تیار ہوں۔ حقائق تو کئی برسوں سے ہمارے سامنے تھے۔اپریل 2016میں پانامہ دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد ابھری ہلچل واضح انداز میں نشان دہی کررہی تھی کہ حالات کیا رخ اختیار کررہے ہیں۔ان کی پیش بندی کے بجائے ہمارے سیاستدانوں اور خاص طورپر میڈیا پر چھائے ذہن سازوں نے جارحانہ جوش وجذبے سے انصاف کی دہائی مچانے کو ترجیح دی۔ سٹار اینکر خواتین وحضرات کی خاطر خواہ تعداد جو رپورٹنگ کے فریضہ کو اپنے رتبے سے کم تر شمار کرتی ہے علی الصبح اٹھتے ہی سپریم کورٹ چلے جاتے۔ بنچ سے آئے تضحیک آمیز ریمارکس ٹکروں کی بارش سے لوگوں کے روبرو اجاگر کئے جاتے۔شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹی وی سکرینوں پر متوازی عدالتیں بھی لگی رہیں اور سیاسی منظر نامے پر ’’جب آئے گا عمران…‘‘ والا نغمہ گونجنا شروع ہوگیا۔ اگست2018میں بالآخر مذکورہ خواب کی تعبیر بھی فراہم کردی گئی۔

 چند ہی روز قبل وزیر اعظم عمران خان صاحب نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی دن میں 33قوانین منظور کرواتے ہوئے اقتدار پر اپنی کامل گرفت بھی ثابت کردی ہے۔مذکورہ اجلاس کے دو ہی روز بعد ایوان بالا سے بھی اپنی مرضی کے قوانین منظور کروالئے۔ ایسے عالم میں محض آڈیو /ویڈیو لیکس معروضی حالات کو بدل نہیں سکتے۔ سیاسی تبدیلی فقط سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی بروئے کار لائی جاسکتی ہے۔

بھارت کا نریندر مودی جمہوری نظام کے نام پر ہی اپنے ملک کا جابر سلطان بنابیٹھا ہے۔اس کے ناقد صحافی بھی سوشل میڈیا پر پناہ لئے ہوئے ہیں۔سیاسی مخالفین کو اس کی راہ روکنے کی کوئی ترکیب نظر نہیں آرہی۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسان مگر اپنے مطالبات منوانے کے لئے یکسو ہوگئے۔دہلی کو جاتے کئی راستوں پر کئی مہینوں تک دھرنا دئیے بیٹھے رہے۔ مودی کو بالآخر ان کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔

وحید مراد کی 38ویں برسی کے موقع پر انکی سینئر ساتھی اداکارہ سے خصوصی گفتگو
ہماری ریاست وحکومت بھی چند دن قبل ایک تنظیم کے روبرو جھکی ہے۔ وہ تنظیم اپنی سرشت میں لیکن سیاسی نہیں مذہبی ہے۔ ’’قرار داد مقاصد‘‘ اور نظریہ ضرورت‘‘ ہی اس کی قوت کا اصل سرچشمہ ہیں۔اس تنظیم سے وابستہ لوگ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے جتن نہیں کرتے۔ وطن دشمن قوتوں کی حمایت والے سرکاری الزام کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔سوشل میڈیا ان کا بنیادی ذریعہ ابلاغ نہیں۔ اپنے بیانیے کو وہ مساجد اور مدرسوں کے ذریعے فروغ دیتے ہیں۔

سیاسی تحاریک کے لئے سیاسی جماعتیں درکار ہوتی ہیں۔وہ ہمارے ہاں باقی نہیں رہیں۔ نام نہاد الیکٹ ایبلز ہیں۔ڈیروں اور دھڑوں والے یہ چودھری، رانا اور سردار برطانوی راج کے دنوں سے سرکار کی سرپرستی کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن ہارتے یا جیتتے رہے ہیں۔ وہی مخلوق آج بھی پارلیمان پر چھائی ہوئی ہے۔ نظریاتی نہیں ذاتی ترجیحات کی بدولت حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھا یہ گروہ سرکار کو جبلی طورپر مائی باپ تصور کرتا ہے۔یہ مزاحمت نہیں مفاہمت کا خواہاں ہے۔وہ اقتدار پر کامل اختیار نہیں بلکہ اس میں حصہ لینے کو بے چین رہتا ہے۔ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اقتدار میں حصہ یقینی بنانے والے سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے ہیں۔محض سادہ لوحی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

 آپ کو انقلاب کی نوید سنانے کے بجائے ’’اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا‘‘ والی ناامیدی پھیلانے کے باوجود مگر یہ اقرار بھی کرنا ہوگا کہ ثاقب نثار صاحب کا یہ دعویٰ کہ ان سے منسوب آواز گھڑی گئی ہے معاملہ پر مٹی ڈالنے کے کام نہیں آئے گا۔ آڈیو لیک کرنے والے صحافی نے اس میں نمایاں آواز کی عالمی طورپر مستند تصور ہوتے فرانزک اداروں سے تصدیق کروائی ہے۔مذکورہ وڈیو میں ایک اور آواز بھی ہے۔وہ شخص بھی اگر منظر عام پر آکر یہ دعویٰ کرتا پایا گیا کہ ثاقب نثار صاحب نے فلاں دن اس آڈیو ٹیپ میں ہوئی گفتگو ان کے ساتھ کی تھی تو معاملہ مزید دگرگوں ہوجائے گا۔

 انتہائی معتبر ذرائع سے میرے پاس یہ اطلاع بھی گزشتہ کئی دنوں سے موجود ہے کہ احمد نورانی کی جانب سے منظر عام پر لائی آڈیو کے علاوہ کم از کم دو مزید وڈیوز بھی ہیں۔مبینہ طورپر ان کے کلیدی کردار بھی ثاقب نثار صاحب ہی ہیں۔اس کے علاوہ ایک اور آڈیو بھی ہے۔ ان کے بھی منظر عام پر آنے کے امکانات قوی دیکھ رہا ہوں۔

پیر کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھنے سے قبل سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو عمران حکومت کے حتمی ماہر ابلاغ جناب شہباز گل صاحب کی جانب سے مبینہ طورپر جاری ہوئی ایک آڈیو بھی سننا پڑی۔اس میں نواز شریف اپنی ہی مذمت کرتے سنائی دئیے۔گل صاحب سے رابطہ کرنے کی میری اوقات نہیں۔وہ فقط صحافتی اداروں کے مالکان کو حکم جاری کرتے ہیں۔دو ٹکے کا رپورٹر ہوتے ہوئے البتہ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر مذکورہ آڈیو گل صاحب ہی نے جاری کی ہے تو اس کا مقصد ہم کم فہم لوگوں کو یہ سمجھانا ہوسکتا ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی بھی شخص کی آواز کو ایڈیٹنگ کے کرشمے دکھاتے ہوئے کسی بھی نوع کی کہانی پھیلانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اتوار کی رات منظر عام پر آئی آڈیو کو لہٰذا سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔حبیب جالب کی روح سے معذرت کے ساتھ ’’یہ جودس کروڑ ہیں‘‘کو ’’یہ جو 22کروڑ ہیں‘‘ کہتے ہوئے خود کو ایسی ہی رعایا کا ایک بے بس رکن شمار کرتا ہوں اور آج کے کالم کے ذریعے اتوار کے روز عیاں ہوئی آڈیو کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔