Sehra Main Azan Day Raha Houn – Hassan Nisar

27

نہ یہ جنگل ہے، نہ یہ جانور ہیں کیونکہ نہ جنگلوں میں ایسا ہوتا ہے، نہ جانوروں میں یہ ’’وبا‘‘پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں ریپ نہیں رضا مندی ہوتی ہے اور بلوغت کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جنگلوں اور جانوروں کی توہین مت کرو کہ یہ معاشرہ انہیں بہت پیچھے چھوڑ آیا اور تیزی سے عذابِ الٰہی کی طرف دوڑ رہا ہے۔

کوئی ایک دو دن ایسے بتائو کہ جب یہ سب کچھ کم سن بچوں، بچیوں کے ساتھ نہ ہوتا ہو۔کوئی علاج نہیں، کوئی حل نہیں کیونکہ نمک کے ڈھیلوں کی بنیادوں پر استوار قلعے اور محل یونہی مسمار ہوا کرتے ہیں۔ جو آتا ہے، سانپ کا پھن کچلنے کے بجائے اس کی دم کترتا ہے، بدی کے درخت کی جڑیں نہیں کاٹتا، فقط اس کی شاخیں ہی چھانگتا ہے۔

ہر کوئی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے یا ڈرامے کرتا اور کارروائیاں ڈالتا ہے۔ کسی کا دھیان روٹ کاز کی طرف نہیں جاتا۔ سطحی لوگ سستی اسٹریٹجی۔ ہے کوئی ماں کا لعل جو سوچے کہ جس معاشرے کو جہالت، بھوک، ننگ، بےراہروی کے ٹھڈے مار مار کر یہاں تک پہنچایا وہاں اسی قسم کی زہریلی فصلیں ہی اگنی تھیں اور جسے عشروں میں برباد کیا گیا اسے پھر سے آباد کرنے کیلئے کم از کم ایک چوتھائی تکلیف دہ طویل وقت درکار ہے اور اس کے سوا ایسے مسائل کا کوئی مستقل، دیر پا حل موجود نہیں۔

جس شیطان صفت اشرافیہ نے آدمیوں کو انسان بنانا تھا انہوں نے انہیں حیوان بھی نہیں رہنے دیا۔ جہاں ایک طرف بھوک، بیروزگاری، بےکاری برہنہ ناچ رہی ہو، چند لیکچررز کی اسامیوں کیلئے ساڑھے پانچ لاکھ درخواستیں پہنچ جائیں اور دوسری طرف 16ویں گریڈ کے ایکسائز انسپکٹر کے گھر سے 30،35کروڑ نکل آئے، وہاں اسی طرح کے جنازے نہ نکلیں گے تو کیا نکلے گا؟ کیا بنا اس مالی بیلدار نما افسر کا کراچی میں جس کے گھر سے کروڑوں کا کیش اور بیسمنٹ سے بیش قیمت گاڑیاں نکلی تھیں اور کدھر گیا بلوچستان کا سیکرٹری جو ارب پتی تھا۔

بھلے مانسو! یہ سب کچھ آپس میں جڑا ہوا ہے اور اس سب کا تعلق اس بات سے بھی بہت گہرا ہے کہ ایسے تو ریت کے گھروندے نہیں گرتے جیسے کراچی میں آئے روز رہائشی عمارتیں گرتی ہیں سو یا تو کوئی سنجیدہ کام کرو یا زمین پھٹنے اور آسمان گرنے کے دن گنو۔اُلٹے بھی لٹک جائو تو خاکم بدہن کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ شروع سے شروع کرو۔ فوری ہنگامی اقدامات جاری رکھتے ہوئے دس تا پندرہ سال کا کوئی پلان، کوئی روڈ میپ دو جس کا آغاز کوالٹی پرائمری ایجوکیشن سے ہو اور کوئی بچہ اسکول سے باہر ہو تو اسے گجرپورہ کیس سمجھ کر فوکس کرو۔

40۔45سال کے امراض کو علاج کیلئے دس پندرہ سال بھی نہیں دیتے تو دیوتا بھی تمہارے لئے کچھ نہ کریں گے لیکن یہ ہوگا نہیں کیونکہ وژن اور وژنری اس دھرتی سے روٹھ چکے ہیں اور اتوار بازار لگے ہیں ان کے جنہیں ہتھیلیوں پہ سرسوں جمانے اور راتوں رات چمتکار دکھانے، ووٹ بینک بنانے، بڑھانے اور ٹرمیں پوری کرنے کا شوق ہے۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا ورد کرتے کرتے ’’تعویذ گنڈوں‘‘ کے زور پر خود ملک سے ہی نکل گئے اور اب واپسی کا نام نہیں لے رہے۔اگر واقعی تالی دو ہاتھوں سے ہی بجتی ہے تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ ایک ہاتھ ’’عوام‘‘ دوسرا ہاتھ ’’حکام‘‘ ہوتے ہیں اور جس معاشرہ کے یہ دونوں ہاتھ حرام میں لتھڑے ہوئے ہوں وہاں نہ حرام کھانے والا چین سے رہ سکتا، نہ کھلانے والا سکون سے جی سکتا ہے۔

گزشتہ دو حکمران خاندان اچھے بھلے پاکستان کو اپنے اپنے اسٹائل میں ایک ’’تاریخی تحفہ‘‘ دے گئے۔ ہر قسم کی ویلیوز کا قتلِ عام کرکے عوام کو صرف یہ ایک تحفہ دیا کہ زندگی میں سوائے ’’سینس ویلیو‘‘ کے اور کسی ’’ویلیو‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں سو آج جس کی چونچ ہے وہ چونچ سے زخم لگاتا ہے، جس کا جبڑا ہے وہ جبڑے سے چیر پھاڑ میں مصروف ہے۔

پیسے کی دوڑ اور گھٹیا بازاری قسم کی پبلک ریلیشننگ کے علاوہ اور بچا ہی کچھ نہیں لیکن مفکرین اور صالحین کا پہلا اور آخری مسئلہ صرف اقتصادیات کا بحران ہے، اخلاقیات جائے قصور کی زینب کے گھر یا گجرپورہ میں۔ کوئی احمق اقتصادیات کی اہمیت سمجھانے کی زحمت نہ کرے کہ اس سے تو جانور نما بھی واقف ہیں لیکن اخلاقیات کے مقابلہ پر یہ ثانوی شے ہے۔ ابتدائی عشروں میں مسلمانوں کی اقتصادیات کیا تھی؟

منگولوں کی اقتصادیات کیسی تھی؟ رہ گئی اخلاقیات تو اسے وسیع تر ذرا نئے انداز میں DEFINEکرنا ہوگا لیکن کرے گا کون؟