Sawalat Ki Bohtaat | Najam Sethi

41

Sethi Najam Columnist latest column in Jang leading newspaper of pakistan…

جے آئی ٹی نے خود کو بے حد متنازع بنا لیا ہے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ اپنی گرد ن بچانے کی حکومت کی طے شدہ پلاننگ ہے ۔ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو، کیونکہ ایک متنازع جے آئی ٹی کا ساکھ سے محروم فیصلہ سپریم کورٹ بنچ کے تین جج صاحبان کا کام مشکل بنا دے گا۔ جیسا کہ سپریم کورٹ کے پہلے پانچ رکنی بنچ کا 3/2 فیصلہ تنازع کا شکار ہوچکا ، ایک اور منقسم فیصلہ صورت ِحال کو مزید خراب کردے گا۔ کچھ جج صاحبان کے سامنے آنے والے تبصروں، جن سے گریز بہتر ہوتا، سے نہ صرف ان کی پریشانی کی جھلک ملی ہے بلکہ کچھ ناقدین نے مبینہ جھکائو کی سرگوشیاں بھی شروع کردی ہیں۔
بہرحال حقائق ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔شریف فیملی کی رقوم کی مبینہ مشکوک ترسیل کی تحقیقات کرنے کے لئے دیانت دار اور غیر جانبدار پیشہ ور افسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کا جج حضرات کا فیصلہ بالکل درست تھا ۔ بنچ نے بالکل درست قدم اٹھاتے ہوئے ایم آئی، آئی ایس آئی ، ایف آئی اے، نیب، اسٹیٹ بنک آف پاکستان اورسیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے سربراہان سے سفارشات طلب کیں۔ تاہم مسئلہ اُس وقت کھڑ ا ہوگیا جب اُنھوں نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان اورسیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن کی نامزدگیوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد جن دوصاحبان کو بظاہر اُن کی پیشہ ور مہارت کی بنا پر چُنا گیا ، اُن کے رویے میں شریف خاندان کے خلاف تعصب کی جھلک دکھائی دی۔مزید پریشانی اُس وقت پیدا ہوئی جب یہ بات سامنے آئی کہ اُن کی سلیکشن کے لئے اختیار کردہ طریق ِ کار شفاف نہ تھا، چاہے اس کے پیچھے کوئی منفی مقصد کارفرما نہ تھا۔ لیکن جب ایک مدعا علیہ نے تعصب کا ثبوت پیش کیا تو جج صاحبان نے اُسے مسترد کردیا ۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ اُن ممبران کی جے آئی ٹی میں شمولیت کا طریق ِ کاراُس سے کہیں زیادہ مشکوک تھا جتنا خیال کیا جاتا تھاکیونکہ اُنہیں اداروں کے سربراہان کی جانب سے نامزد کرنے کی بجائے’’ کسی‘‘ کی ہدایت پر رکھا گیا تھا۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے ایک سینئر افسر کے قدموں کے نشانات کا کھوج جابجا ملتا ہے لیکن تاحال ’’اُن صاحب ‘‘ کی شناخت واضح نہیں ہوئی ۔ لیکن معاملہ صرف یہیں تک ہی محدود نہیں۔
جے آئی ٹی نے جب شریف خاندان کے پہلے شخص، طارق شفیع، سے انٹرویو لیا، اُس نے ’’بازو مروڑنے اور دھونس دھمکی‘‘ کا الزام لگایا۔ یقینا تحقیقات دوستانہ ماحول میں نہیں ہوسکتیں، اور شریف خاندان کو سختی کی توقع رکھنی چاہیے تھی، لیکن ایسی تحقیقات کے لئے ’’سیکنڈ ڈگر ی ‘‘ طریق ِ کار اختیار کرنا روا نہ تھا۔ حسین نواز کے ساتھ روا رکھا گیا طرز ِعمل اگر دھمکی آمیز نہیں تو بھی ہراساں کرنے والا ضرور تھا، جیسا کہ دستاویزات پیش کرنے کے لئے بہت کم وقت دینا، کمرے کے باہر طویل انتظار ، اور اب ایک ویڈیو کلپ کا پر اسرار طور پر سامنا آنا جس میں حسین نواز ایک خالی کمرے میں عام مجرموں کی طرح خوفزدہ بیٹھے ہیں ۔ ان تمام معاملات نے شریف خاندان کو شکایت کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے ۔ ویڈیو کلپ اس منصوبے کے ایڈمنسٹریٹرز کے سوا کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔ تو یہ ایڈ منسٹریٹرز کون ہیں؟
اب تک یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس پروجیکٹ کو کنٹرول کررہی ہے ۔ جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے وہی صاحبان ہیں جنہوں نے ڈان لیکس پر بننے والی جے آئی ٹی کی قیادت کی تھی ، اور جس ایشو کی وجہ سے حکومت او ر فوجی قیادت کے درمیان سنگین تنازع پیدا ہوچلا تھا ۔ اب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ تمام’کوآرڈنیٹرز‘‘ کا تعلق ایک ہی فوجی ذرائع سے ہے ۔ بظاہر اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، اور پھر ویسے بھی سویلینز فوج کا سہارا لینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ہوتا۔ اس کی مثال عام انتخابات اور، حالیہ دنوں قومی مردم شماری ، کے مواقع پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ تاہم موجودہ کیس کی نوعیت مختلف ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بعض وجوہ کی بنا پر مسٹر شریف کو ناپسند کرتی تھی ۔ حاضر سروس اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے فوجی افسران سے سرسری بات چیت کے دوران بھی آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گو موجودہ فوجی قیادت ایسا رویہ نہیں رکھتی ، لیکن ان حالات میں حکومت کے پاس یہ مطالبہ کرنے کا حق موجود ہے کہ جے آئی ٹی نہ صرف انصاف کرے ، بلکہ انصاف ہوتا دکھائی بھی دے ۔ ہم بہرحال ملک کے ایک مقبول اور منتخب شدہ لیڈر سے تحقیقات کررہے ہیں۔ وہ لیڈر عوام کا اعتماد رکھتا ہے ، اور وہ ماضی میں بھی دومرتبہ اس عہدے پر فائز ہوچکاہے ۔ کچھ پول سرویز کے مطابق وہ 2018 ء کے عام انتخابات میں جیتنے کی پوزیشن میں ہے ۔
اب اس کیس میں ایک نئی پیش رفت بھی دکھائی دی ہے ۔ قطر کے التھانی شاہی خاندان نے، جس نے شریف خاندان کے لندن فلیٹس خریدنے کے لئے مستند مالی ذرائع کی تصدیق کرنے والا ایک خط بھجوایا تھا، اسلام آباد آکر اپنی پوزیشن واضح کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ مشرق ِوسطیٰ کے موجودہ سیاسی جغرافیائی حالات جن میں قطرکو تنہائی سے دوچار کرنے کی سعودی عرب اور یواے ای کی مشترکہ کارروائی کا سامنا ہے۔
اس کے حکمران خاندان کاموقف ہے کہ جے آئی ٹی دوحہ آکرانٹرویو کرلے ۔ خطے کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ درخواست اتنی بھی نامعقول نہیں۔ میڈیا میں بیان بازی کی بجائے بہتر ہے کہ جے آئی ٹی کسی کو وہاں بھیج کر بات کرلے ۔
بدقسمتی سے نہال ہاشمی کے جوش ِ خطابت نے کچھ مزید سوالات اٹھا دئیے ہیں۔کس نے مسٹر ہاشمی کو ایسی تقریر کرنے پر اکسایا جس کی وجہ سے شریف خاندان کی پوزیشن خراب ہوئی ، اور وزیر ِاعظم کو اُن کی سرزنش کرنی پڑی ؟نیز اب اُنہیں پارٹی ہدایت کے برعکس استعفیٰ واپس لینے کے لئے کس نے قائل کیا ہے ؟ایسے بہت سے سوالات موجود ہیں۔ ہمیں ان کے جوابات کا انتظار ہے ۔ فاضل جج صاحبان کو اس صورت ِحال کا تدارک کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔