Saudi Arab , Pakistan Aur Wahdat e Ummat – Hafiz Tahir Ashrafi

206

گزشتہ برس اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مملکت سعودی عرب انسانیت کی فلاحی خدمات میں سب سے اول نمبر پر رہی ہے۔ مملکت سعودی عرب کی قیادت نے اپنے دروازے مسلمانوں کیلئے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں۔ برما کے مظلوم مسلمان ہوں یا کشمیر، فلسطین کے مسلمانوں کے مصائب و مشکلات ہوں یا شیشان و بوسینیا کےمظلوم، مملکت سعودی عرب ہر اعتبار سے ان مشکلات کے حل میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ آج حجاج و زائرین کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے لیکن سعودی عرب کی قیادت مسلسل ان کی خدمت کیلئے کوشاں ہے اور حجاج و زائرین کیلئے روز و شب سہولتوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ راقم الحروف کی معلومات کے مطابق موجودہ ولی عہد امیر محمد بن سلمان نے حرمین شریفین کی توسیع کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے اور حجاج کرام و زائرین کیلئے ہر جگہ پر سہولتوں کا اہتمام کرنے کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ وہ خود اس سارے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حج کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد کی زیر نگرانی تمام امور کو سعودی عرب کی وزارت داخلہ جس کے سربراہ وزیر داخلہ امیر عبدالعزیز بن سعود بن نائف ہیں، ذاتی طور پر دیکھتے ہیں اور حج کے ایام میں خود خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور تمام امور کی سرپرستی کرتے ہیں۔ آج سے چند سال قبل ٹھنڈے پانی اور ٹریفک کے رش کی منیٰ، عرفات میں شکایات کی جاتی تھیں لیکن آج ہر جگہ پر پانی ٹھنڈا اور اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا مؤثر نظام نظر آتا ہے۔ سعودی عرب چونکہ مسلمانوں کے مقدسات کا مرکز ہے اس لئے اس کے دشمن بھی زیادہ ہیں اور سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہر مختلف ادوار میں سازشیں ہوتی رہی ہیں جن کی انتہا اس وقت نظر آرہی ہے۔ سعودی عرب اپنے دفاع اور سلامتی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں خود کفیل ہے۔ سعودی عرب پر جنگ مسلط کرنے کی سازشیں کرنے والوں کا خیال تھا کہ سعودی عرب حوثی باغیوں کے حملوں سے غیر مستحکم ہو جائے گا لیکن سعودی عرب کے سلامتی کے اداروں اور افواج نے ہر سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ آج کا سعودی عرب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد امیر محمد بن سلمان کی قیادت میں بدل رہا ہے لیکن کسی کو غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ سعودی عرب کی بنیادی اساس اسلام ہے، قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم ہونے والی یہ مملکت اپنی اساس سے نہیں ہٹ سکتی ہے، آج بھی سعودی عرب میں مفتی اعظم کا جو مقام ہے وہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہے اور اگر کسی مقام پر کوئی قدم قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف اٹھایا جاتا ہے تو اس کی اصلاح کی بھی فوری کوشش کی جاتی ہے اور الحمدللہ مملکت سعودی عرب کی موجودہ قیادت نے اسلام کے پیغام اعتدال کو پوری دنیا کے سامنے رکھا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام کا انتہاپسندی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہ ہے۔

سعودی عرب کے خلاف ایک گمراہ کن زہریلا پروپیگنڈہ مہم جاری ہے، اسلام دشمن قوتوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سعودی عرب کی قیادت کی محبت مسلمانوں کے دلوں سے نکالنا ہو گی جو کہ ممکن نہیں ہے۔ موجودہ سعودی عرب کی قیادت نے اس تصور کو یکسر ختم کر دیا ہے کہ مملکت سعودی عرب کسی ایک گروہ، طبقہ یا جماعت کی سوچ کی حامل ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کا یہ پیغام جو انہوں نے راقم الحروف کو دیا تھا کہ آج سعودی عرب کی قیادت کیلئے مشعل راہ ہے، مملکت سعودی عرب سب مسلمانوں کی اسی طرح ہے جس طرح اسلام سب مسلمانوں کا ہے۔

آخر میں ان ایام میں سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے حوالہ سے عرض کرنا ہے کہ سعودی عرب کا موقف ہے کہ تحقیقات کے بعد حملہ آوروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، سعودی عرب کا جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ درست سمت قدم ہے، اس سلسلہ میں ایران پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے تا کہ دنیا کسی نئے بحران سے دو چار نہ ہو اور جہاں تک جن مجرموں نے آئل تنصیبات پر حملے کیے ہیں وہ عالمی امن اور معاش کے دشمن ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت کا مؤقف واضح ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے، کشمیریوں کے انسانی حقوق بحال ہونا چاہئیں، کرفیو ختم ہونا چاہئے اور مذاکرات کے ذریعے کشمیر کے مسئلہ کا حل نکلنا چاہئے جس کیلئے سعودی عرب نے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کی دوستی لازوال ہے، سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا، ان دنوں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بلا شبہ سعودی عرب میں پاکستان کے اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ہیں۔ چند سال قبل جب پاکستان اور عرب ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی سازش کی گئی تو اس وقت شاہ سلمان بن عبد العزیز نے یہ جملہ کہہ کر پوری دنیا کو پیغام دے دیا تھا کہ اگر پاکستان کی سیاسی قیادت نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کا قطعی مقصد یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب اپنے بھائی سے دور ہو جائے۔ آج الحمدللہ پاکستان کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب سے تعلقات گزشتہ دس برسوں سے کہیں بہتر ہیں اور اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تعلقات میں مزید بہتری کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کے مفادات اور مصلحتوں کو سامنے رکھے کیونکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہ بات واضح طور پر ہمارے سامنے ہے کہ سعودی عرب ہی وہ واحد ملک ہے، جس نے پاکستان کے مفادات کو ہمیشہ عزیز رکھا اور ہر مشکل مرحلہ میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا ہے۔ آج جب کہ امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد کو تقسیم کرنے کی جو سازشیں کی جا رہی ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کو باہمی اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ مسلم امۃ کی وحدت اور اتحاد کا مرکز سعودی عرب ہے اور اس وحدت اور اتحاد کی پوری امت کو ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر، فلسطین سمیت تمام مسائل کا حل صرف اور صرف وحدت امت میں ہے انتشار میں نہیں۔