Saudi Arab Mein Pereshan Ehl-E-Watan | Tayyaba Zia

26

Tayyaba Zia Latest Article in Nawaiwaqt ..

Saudi Arab Mein Pereshan Ehl-E-Watan | Tayyaba Zia

سعودی عرب میں پریشان حال اہل وطن کے لئے حکومت پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعودی بادشاہوں کی شریف دوست نواز پاکستانی حکومت کی سعودی سفارتکاری سست روی کا شکار کیوں ہے؟ گو کہ پاکستان اوورسیز کمیشن پنجاب بہت کام کر رہی ہے اور وفاق کا ادارہ بھی متحرک دکھائی دیتا ہے اس کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ان کے کثیر زرمبادلہ سے بھی زیادہ کثیر ہیں۔ سرکاری ٹی وی چینل پر ہم نے دیس پردیس کے نام سے پروگرام شروع کرنا چاہا لیکن وفاق کی عدم دلچسپی کے باعث پروگرام متعلقہ افراد کی حسد کی نذر ہو گیا۔ کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی…. دنیا بھر سے تارکین وطن ہماری ٹیم سے رابطے میں ہیں اور ہم ان کے مسائل بغیر براہ راست متعلقہ محکموں تک پہنچا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ شکایات سعودی عرب سے موصول ہو رہی ہیں۔ سعودیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کے لئے وطن واپسی کا یہ اہم موقع ہے۔ سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ الیگل تارکین وطن اپنے ملکوں کو واپس آ سکتے ہےں۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے اس سے بیشتر کہ انہیں ڈی پورٹ کر دیا جائے۔ ڈی پورٹ کئے جانے کی صورت میں فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں اور پانچ سال کے لئے سعودیہ میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ لہٰذا الیگل پاکستانی سعودی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نکل آئیں۔ سعودی عرب میں انیس ہزار پاکستانی جیلوں میں قید ہیں جو کہ پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ بحیثیت سوشل ورکر ہمیں پاکستانی کمیونٹی کے لئے کام کرتے ہوئے تیس برس کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اب یہ سروس دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لئے دیس پردیس کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ زیادہ مسائل گلف سے موصول ہو رہے ہیں۔ کفیل سسٹم خاصا پریشان کن مسئلہ ہے۔ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کا عملہ بھی تعاون نہیں کر تا جس سے دلبرداشتہ ہو کر پاکستانی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سڑکوں اور پلوں کے نیچے بیٹھے ہیں اور وہ خود سعودی پولیس کے حکام کو کہتے ہیں کہ وہ انہیں گرفتار کر کے لے جائیں اور وہاں سے پاکستان بھیجنے کے لئے انتظامات کریں۔ وطن واپس جانے والے پاکستانی علی الصبح ہی پاکستانی سفارت خانے کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان میں سے اکثریت ناکام واپس لوٹتی ہے۔ جن پاکستانیوں نے سعودی عرب معافی سے فائدہ نہیں اٹھایا اور وہ ابھی تک سعودی عرب میں ہی ہیں، ان کا معاملہ بھی سعودی حکام کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔

ان پاکستانیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ سعودی کفیل مہنگے داموں ویزے بیچ رہے ہیں اور پھر انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ کم تنخواہ پر کام کریں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان افراد کے ویزے منسوخ کرنے اور پولیس کو اطلاع دینے کی بھی دھمکی دیتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے ایک صاحب نے بتایا کہ وہ چار سال قبل ویزے پر سعودی عرب محنت مزدوری کے لئے گئے تھے اور وہاں پر انہوں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی۔
ا±نہوں نے کہا کہ کفیل کی رضامندی سے انہوں نے کسی دوسرے کمپنی میں مارکیٹنگ کے شعبے میں ملازمت شروع کر دی جہاں پر انہیں 20 ہزار سعودی ریال ماہانہ تنخواہ ملتی تھی جو پاکستانی روپوں میں پونے چھ لاکھ روپے بنتی ہے۔
جب ان کے کفیل کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور 83 ہزار ریال جو کہ پاکستانی 24 لاکھ روپے بنتے ہیں، دینے کا مطالبہ کر دیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ویزا منسوخ کرنے اور پولیس کو اس کی اطلاع دینے کی دھمکی دی۔
انہوں نے کہا کہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہوں نے یہ رقم اپنے کفیل کو دے دی اور پاکستان واپس آگئے۔ ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو دوبارہ کبھی بھی سعودی عرب نہیں جا سکتے تھے۔
حال ہی میں سعودی عرب سے وطن واپس آنے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ سعودیہ میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے لئے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن غیر ملکی افراد نے سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ عام معافی سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ اب مختلف گھروں میں چھپ کر بیٹھے ہیں اور ایسی صورت حال میں وہ باہر جا کر کوئی کام بھی نہیں کر سکتے۔
اس وقت سعودی کے شہر دمام کی جیلوں میں 15 ہزار سے زائد غیر ملکی قید ہیں جن میں سے اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ وہ محنت مزدوری کے لئے سعودی عرب گئے تھے لیکن وہاں پر سعودی حکام نے ٹیکسوں اور ویزوں کی فیس میں اتنا زیادہ اضافہ کر دیا ہے کہ عام مزدور کا وہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے سعودی حکومت ورک پرمٹ کے لئے ٹیکسوں کی مد میں سات سو ریال لیتی تھی جسے اب بڑھا کر 3200 ریال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں گزارا کرنا عام مزدور کے لئے انتہائی مشکل تھا اور اس لیے لوگ خود کو سعودی پولیس کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ انہیں پاکستان واپس بھجوایا جائے۔
سعودی عرب میں پاکستانی عملے کا کہنا ہے کہ 54 ہزار غیر قانونی پاکستانیوں میں سے 22 ہزار سے زائد وہ افراد ہیں جو حج یا عمرے کے ویزے پر آئے تھے اور پھر واپس نہیں گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ حکومت پاکستان اوورسیز پاکستانیوں خاص طور پر سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں پریشان حال پاکستانیوں کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لے ورنہ دیس پردیس سوشل نیٹ تحریک کی صورت اختیار کر ے گا۔ بیس ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ پاکستان بھیجنے والے تارکین وطن کو تنہا نہےں چھوڑا جائے گا