Sarzanish Say Sarkoobi Tak – Hassan Nisar

47

یہ شعر تو ضرب المثل بن چکازندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیےعہدِ کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیںاور آج اسی شعر کے خالق برادرِ محترم اسلم گورداسپوری صاحب نے اپنی تر و تازہ غزل سے نوازا ہے جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہے۔سبھی یہاں ہیں دریدہ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہےاب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہےکچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دارو رسن کا عالمنہ کوئی دیوانہ سر بہ کف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہےیہ مرض کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہےیہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ہر ایک کا سر جھکا ہوا ہےوہ آسمانوں پہ جانے والے، وہ چاند سے مٹی لانے والےنہ جانے اب وہ کہاں گئے ہیں، ہر ایک گھر میں چھپا ہوا ہےوہ سب میزائل، یہ سارے ایٹم بس اک کورونا کی مار نکلےاب ایسے عالم میں دیکھ لیں سب کہ چین کیسے ڈٹا ہوا ہےیہ واعظوں کے تمام خطبے ہماری مشکل کا حل نہیں ہیںاب اس کو خود ہم ہی حل کریں گے یہ مسئلہ جو بنا ہوا ہےنہ کوئی بھی ہم پہ پہرہ زن ہے کہ ہم کہیں آئیں اور نہ جائیںہر ایک انسان اپنے گھر میں خود اپنا قیدی بنا ہوا ہےکوئی بڑا ہو کہ یا ہو چھوٹا کوئی گدا ہو کہ بادشاہ ہواس ابتلا کا کمال یہ ہے کہ سب کو یکساں کیا ہوا ہےسوائے خاموش چاند تاروں کے ان خلائوں میں کچھ نہیں ہےیہ زندگی کی ہی رونقیں ہیں کہ جن

سے میلہ سجا ہوا ہےیہ کیا غضب ہے کہ مدتوں سے خزاں ہی گلشن میں خیمہ زن ہےجو موسمِ گل کا کارواں تھا، وہ کارواں کیوں رکا ہوا ہےہمارا ذوقِ سخن ہے جاری، اسے کسی شے کا ڈر نہیں ہےنہ حُسن ہم سے الگ ہوا ہے نہ عشق ہم سے جدا ہوا ہےخدا تو ان سے خفا ہے اسلمؔ جو اس کے قانون توڑتے ہیںوگرنہ ہم ایسے بے بسوں سے خدا بھلا کب خفا ہوا ہےقارئین!اسلم گورداسپوری صاحب کی غزل ختم، آپ کا میرا سوچنا شروع کہ پوری غزل تو چھوڑیں، مجھ سے تو اس کا مقطع ہی نہیں سنبھالا جا رہا کہ خدا تو صرف ان سے خفا ہے جو اس کے قوانین کو پامال کرتے ہیں ورنہ بے بسی اور بے چارگی بیچاری تو اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ کسی قانونِ قدرت میں کوئی رخنہ ہی ڈال سکے لیکن یہ بھی قوانین ِ قدرت میں سے ایک ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن نے بھی پسنا ہوتا ہے۔اوزون کی بخیہ گری، رفو گری، سلائی کڑھائی، کشیدہ کاری شروع ہو چکی، ماحولیاتی آلودگی کے منہ زور گراف منہ کے بل نیچے گر رہے ہیں، دریائوں، جھیلوں، سمندروں اور آبشاروں سے لے کر جھرنوں تک کے پاکیزہ معصوم پانیوں کو قرار آ گیا اور قطرہ قطرہ ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ گند پھیلانے والی مخلوق کہاں غائب ہو گئی؟ عشروں بعد ہوائوں کو بھی سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا اور پرندے بھی گنگناتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے تمہارے دشمنوں پر کون سی آفت آ پڑی کہ بری طرح پسپائی کے بعد مورچوں میں جا چھپے۔دور کیا جانا گزشتہ 40,30سالوں میں مَیں نے تتلیوں کو ’’عنقا‘‘ ہوتے دیکھا، چڑیاں طوطے روٹھ گئے، فاختائیں نایاب ہو گئیں، ہدہد دکھائی نہیں دیتے، جگنو کہانیوں میں دفن کر دیے گئے، کونجیں جانے کہاں چلی گئیں، گلہریاں سیر گاہوں میں بھی نظر نہیں آتیں، انسان آسمان کا نیلا رنگ بھی نگل گیا۔ نئی نسل کے نزدیک آسمان نیلا نہیں ’’مٹیالا‘‘ سا ہوتا ہے، موسموں کا حشر نشر کر دیا گیا۔ ابھی کل کی بات ہے 70کی دہائی تک نیو کیمپس والی نہر کے پانی میں اپنا عکس دیکھا جا سکتا تھا اور اب اس کے گندے پانی سے سیراب کی گئی پالک، میتھی، ساگ تک کا رنگ ’’گرین‘‘ سے ’’ڈسٹی گرین‘‘ میں تبدیل ہو چکا۔خلائوں سے لے کر زیرِ زمین پانیوں تک کو آلودہ کر دینے والوں کے لیے قدرت نے ہلکا سا ’’پرومو‘‘ پیش کیا ہے تو ان کا سہم اور سمٹنا سمیٹا نہیں جا رہا لیکن شاید اب بھی ’’ڈھٹائی‘‘ باز نہ آئے کہ سرکشوں کے لیے ایک آدھ ’’سرزنش‘‘ کافی نہیں ہوتی لیکن قدرت کا اپنا نظام اور مزاج ہے…. سلوموشن میں چلتی ہے لیکن بہرحال یہ بات طے سمجھو کہ سرزنش سے سرکوبی تک میں کوئی زیادہ فرق اور فاصلہ نہیں ہوتا۔