Sarey Jahan Ka Dard Hamare jigar Main Kion ? – Hassan Nisar

24

نجانے یہ بھولا بسرا محاورہ کیوں یاد آ رہا ہے کہ ’’باپ نے نہ ماری کبھی مینڈکی اور بیٹا تیرانداز‘‘۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ابراہیم پر میں نے کچھ لوگوں کو جز بز ہوتے اور جذباتی طور پر کسمساتے دیکھا تو سوچا کہ کیا پاک وہند و گردونواح کے مسلمان عربوں کو بتائیں سمجھائیں گے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بلکہ یوں کہیں کہ کسی کے بھی ساتھ کیسے تعلقات رکھنے ہیں؟
سبحان اللہ ، صدقے جاواں چشم بددور کہ ماشااللہ جن کے ناموں اور کارناموں پر فخر کرتے نہیں تھکتے وہ سب کےسب ہی غیر مقامی ہیں جب کہ اوریجن بالواسطہ یا بلاواسطہ سب کا ’’عرب‘‘ ہی ہے ۔حضورؐ کے وصال کے بعد ایک صدی کے اندر اندر آپ کے جن پروانوں نے ایک ایسی وسیع وعریض سلطنت کی بنیاد رکھی جو رومیوں کو ان کے انتہائی عروج میں بھی نصیب نہ ہوئی، وہ اور کوئی نہیں ….عرب ہی تھے اور ہماری ’’مقامی تاریخ‘‘ بھی محمد بن قاسم نامی ایک عرب سے ہی شروع کی جاتی ہے۔
انسانیت کی بہتری بھلائی کیلئے قرون وسطیٰ کے آغاز میں جو خدمات عربوں نے انجام دیں کسی اور قوم کو کبھی نصیب نہ ہوئیں۔
اس زمانہ میں جب عرب علماء ارسطو کے عمیق مطالعہ میں غرق تھے تو یورپ میں عظیم شارلمین اور اس کے امرا و روسا اپنے ناموں کے ہجے سیکھ رہےتھے۔
ایسے دور میں جب آکسفورڈ کے عالم غسل کرنے کو بے دینوں کی بدعت اور رسم سمجھ رہے تھے، اس عہد کے عرب مسلمان پرتکلف اور معطر حماموں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
ان ’’خاندانیوں ‘‘ کی اس تصویر کا اک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اس وقت سامی نسل کے صرف دو ہی نمائندے ہیں۔
ایک عرب اور دوسرے یہودی اور اس نسل کے جسمانی خطوط، خدوخال اور ذہنی خصوصیات یہودیوں کے مقابلہ میں عربوں کے اندر زیادہ پائی جاتی ہیں۔
گو ادبی حوالوں سے عربوں کی زبان سامی گروہ کی سب سے کم عمر زبان ہے، تاہم عبرانی اور دوسری سامی زبانوں کے مقابلہ میں عربی زبان نے اپنی اصل کی امتیازی خصوصیات کو زیادہ برقرار رکھا ہے۔
یورپ اور امریکہ میں بھی ’’سامی‘‘ کی اصطلاح یہودیوں کیلئے مخصوص سمجھی جاتی ہے حالانکہ سامیوں یعنی یہودیوں کے امتیازی خدوخال کا جس میں ستواں ناک بھی شامل ہے، حقیقی سامی خدوخال سے کوئی تعلق نہیں۔
اک اور بات یہ کہ دنیا کسی ایسے حملہ آور کے نام سے واقف نہیں جس کو ریگ زارِ عرب میں درآنے اور مستقل طور پر قبضہ جمانے میں کامیابی ملی ہو۔
تقریباً تمام تاریخی ادوار میں عربوں اور بالخصوص بدویوں کی زندگی کا چلن ایک ہی رہا ہے۔
سامی قوم کے آبائو اجداد، بابلی، اشوری، کلدانی، عمودی، آرامی، عرب اور حبشی ….عرب ہی میں پیدا ہوئے تھے۔مختصراً یہ کہ ہمارے ہاں کے اور وہاں کے مسلمانوں کی تاریخ میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ نہ مزاج ملتے ہیں نہ سوچ، نہ ترجیحات، نہ ضرورتیں نہ مفادات نہ معروضی حالات اس لئے خدائی فوجداری سے بچنا ہی بہتر ہوگا۔
بے چینی اس افواہ پر بھی ہے کہ سعودی عرب اور بحرین وغیرہ بھی متحدہ عرب امارات کے سے انداز میں سوچ رہے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔خود ہم ایک طرف تو کشمیر اور کشمیریوں کے ’’سفیر‘‘ ہیں دوسری طرف ہم نے غاصب ترین، سفاک ترین بھارت کو بھی تسلیم کر رکھا ہے لیکن عربوں اور اسرائیل کے تعلقات و معاملات بھی ’’ہمارا مسئلہ‘‘ ہیں تو بات مجھ جیسے کو دن کی سمجھ میں ذرا کم کم ہی آتی ہے۔
یہ نابغے جب تک بدو، جلتی ریت، کھجور اور اونٹ کےساتھ ساتھ ان کی طبیعت، تربیت اور تاریخ سے واقف نہیں ہوں گے، یونہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے اور ہو گا بھی کچھ نہیں۔
’’خلافت عثمانیہ‘‘ کے حق میں تقریریں جھاڑتے رہیں گے اور وہ آنکھوں کےسامنے تحلیل ہو کر قصہ پارینہ بن جائے گی لیکن ’’مقامی ‘‘ ذہنیت سبق نہیں سیکھے گی۔
میں نے طبیعت و تربیت کی بات کی ہے تو قرن اول کے ایک شاعر قطامی نے زندگی کے ایک بنیادی اصول کو ایک شعر میں کچھ اس طرح ڈھالا ہے۔
واخیانا علیٰ بکر اخیناانا مالم نجد الا اخانا’’اور کبھی کبھار ہم لوٹ لیتے ہیں بنی بکر کو بھی جو ہمارے بھائی ہیں جبکہ لوٹنے کیلئے ہمیں اپنے بھائیوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ملتا‘‘ہم جم پل ہیں فاتحین کی گزرگاہوں کی کہ ہمارے تو جدید ترین ہتھیاروں کے نام بھی انہی کے ناموں پر رکھے گئے جس پر سنا ہے کبھی افغان حکومت نے اعتراض بھی کیا تھا کہ بھائی !’’غزنوی‘‘ اور ’’غوری‘‘ کے ساتھ تمہارا کیا لینا دینا جبکہ ہمارا اک صوفی شاعر میرے ایک ’’فاتح ہیرو‘‘ کے بارے کہتا ہے۔کھادا پیتا لاہے داتے باقی احمد شاہے دامانا کہ ’’برادر‘‘ اسلامی ملک ہیں لیکن جان برادر !
یہ بھی تو سوچو کہ حقیقی زندگی میں سگے بھائی بھی اپنی اپنی ضروریات، معروضی حالات، زمینی حقائق کی روشنی میں اپنے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور دخل در معقولات کے نتیجہ میں بھرم بھی باقی نہیں بچتا اور یہ تو سیکنڈ، تھرڈ، فورتھ کزن ہیں۔
خود اپنے علاوہ ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ تو بہتر ہے جگر کا علاج کرائیں کہ آج کل تو اس عضو کے ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی موجود ہے اور یہ سوچنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ….سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں کیوں؟
مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو پندرہ بیس نسلوں کے بعد بات ہماری سمجھ میں آ جائے گی۔