Sanjeeda Mazahiya Batien – Dr A Q Khan

16

حضرت شیخ سعدی کے بیان کردہ، بوستانِ سعدی سے چند سنہری اصول آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

1)اگر کوئی خطا کار (تیری) پناہ میں آگیا تو اسے پہلی ہی خطا پر مار ڈالنا لازم نہیں ہے۔ (2)جب کسی ایسے آدمی کو کوئی نصیحت کی گئی ہو اور اسے بچنے کے لئے کہا گیا ہو اور اس پر اس نے توجہ نہ کی ہو تو قیدوبند میں ڈال کر اس کی گوشمالی کر۔ (3)اور اگر نصیحت اور قید بھی اس کے کام نہیں آتی (وہ اپنا رویہ نہیں بدلتا) تو وہ گویا ایک ایسا غلیظ درخت ہے جس کی جڑ اکھیڑ ڈال (اسے ختم کردے)۔ (4)جب تجھے کسی کی خطا پر طیش آجائے تو اس کو سزا دینے کے معاملے میں بہت تامل سے کام لے؛ اس لئے کہ بدخشاں کے لعل کو توڑنا آسان تو ہے لیکن جو ٹوٹ جائے اسے دوبارہ جوڑا نہیں جا سکتا۔ (5)ایسا انسان نہیں مرا جس نے اپنے پیچھے پُل‘ پانی کا حوض‘ اور سرا نیز مہمان سرا چھوڑی ہو۔ (6)جس کسی کے (مرنے کے) بعد اس کی کوئی یادگار نہ رہی ہو‘ اس کا وجود گویا ایسا درخت ہوگا جسے کوئی پھل نہیں لگا۔ (7)اور اگر ایسا انسان مر گیا اور اس کے خیر کے آثار نہیں رہے تو اس کی موت کے بعد ’’الحمد‘‘ نہ پڑھنا چاہئے۔ (8)جراّح کی طرح‘ جو فصد بھی کھولتا ہے اور پھر زخم پر مرہم بھی رکھتا ہے‘ سختی اور نرمی دونوں باہم رہیں تو بہتر ہے۔ (9)تو (اے بادشاہ) جواں مرد ؍دلیر اور خوش طبع اور معاف کرنے (درگزر کرنے) والا بن۔ جب خدا تعالیٰ تیرے ساتھ ہے تو تو اپنے غلام کے ساتھ ہو جا۔ (10)کوئی ایسا انسان دنیا میں نہیں آیا جو یہاں رہ گیا ہو‘ ہاں! نیک نامی برقرار رہ جاتی ہے۔ (11)ممکن ہے کسی وقت بادشاہ کے مصاحب کو دولت ہاتھ لگے اور ہوسکتا ہے اس کا سر ہی اُڑ جائے؛ یعنی اسے قتل کردیا جائے۔ اور دانائوں کا قول ہے کہ ’’بادشاہوں کی متلون مزاجی سے بچ کر رہنا چاہئے کہ کبھی تو وہ سلام سے ناراض ہوجاتے ہیں اور کبھی گالی پر بھی خلعت عطا کردیتے ہیں‘‘۔ اور یہ بھی کسی کا قول ہے کہ: ’’زیادہ خوش طبعی زندہ دلی مصاحبوں کی خوبی ہے جبکہ دانائوں کے لئے عیب کا باعث ہے‘‘۔

دوسری نہایت اعلیٰ کتاب جس میں اچھے نظام مملکت کے بارے میں نہایت مفید باتیں ہیں وہ سیاست نامہ مصنف خواجہ نظام الملک طوسی ہے۔ اس کا ترجمہ جناب شاہ حسن عطا نے کیا ہے اور اس کو کراچی سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں رموزِ مملکت کے تمام پہلوئوں پر نہایت اعلیٰ ہدایات و تبصرے ہیں۔ ’’نظام الملک طوسی (408ھ۔ 485ھ) اَلپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی کے وزیراعظم تھے، ان کو علوم و معارف کا بہت بڑا قدردان اور سرپرست شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے مدارس نظامیہ کا ایک سلسلہ قائم کیا تھا۔ اور ملک میں علم و فضل کی نشرو اشاعت کے لئے دل سے کوشاں رہتے تھے۔ خود بھی صاحب عشق و دانش تھے، ان کی دانشمندی اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کے علم و دانش پردازی کے قصّے بھی بہت مشہور ہیں۔ خواجہ نظام لملک نے کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں فارسی زبان میں لکھی ہیں۔ سیاست نامہ یا سیرالملوک آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کے لکھنےکی ملک شاہ سلجوقی نے خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس کا مقصد تھا ترکوں کی بادشاہی اور نظام مملکت پر ایک مکمل کتاب لکھی جائے۔ اس کتاب میں وزیراعظم کی ذمّہ داریاں اور بادشاہوں کے مزاج پر تفصیلی تاثرات موجود ہیں‘‘ (از محمد اقبال سلیم گاہندری)۔

اس کتاب میں نظام الملک طوسی نے حکمرانوں کا جذبہ شکر و نعمت، حکمرانوں کا عدل و انصاف، عمال حکومت کے حالات احتساب، اہل کاروں کے طرز کار کا جائزہ، انتظامیہ کے ارباب حل و عقد، کارکنان حکومت کی منصفانہ کارکردگی، مخبرین کے فرائض انتظامی، مرکزی حکومت کے احکام کی بجا آوری، اصلاح رعیت کے لئے جاسوسوں کا تقرر، احکامات کے اجرا میں احتیاط، وزیراعظم کے عہدے کی اہمیت، اہل علم و دانش سے حکمرانوں کی مشورہ طلبی، خطاکاروں اور مخالفین (باغیوں) کی سرکوبی، عمال کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت، حکمرانوں کا عُجلت پسندی سے گریز۔ حکمرانوں کی عدل پروری اور ضوابط پسندی، ایک ہی عہدہ دار کو دو مختلف کام سونپنے سے گریز، سربراہانِ افواج کی حیثیت کا تعین، ضوابط بیت المال، مظلوموں کی دادرسی اور قیام عدل، قومی دولت کا محاسبہ اور میزانیہ، وغیرہ کا بیان کیا ہے۔

نظام الملک طوسی نے مشورہ دیا ہے کہ حکمرانوں کو چاہئے کہ لوگوں سے مشورہ کریں مگر مشورہ ہمیشہ ایسے اشخاص سے کرنا چاہئے جو مدبّر، ذی عقل، اور دوراندیش ہوں۔ ذی عقل اور دانا لوگوں میں مراتب کا فرق ہوتا ہے، بعض زیادہ جانتے ہیں اور بعض کم، پھر اہلِ علم و عقل میں بھی دو گروہ ہوتے ہیں ایک گروہ ان اشخاص کا ہوتا ہے جن کا علم تو مسلم ہوتا ہے مگر تجربات محدود ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ ان اشخاص کا ہوتاہے جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ تجربہ کار اور آزمودہ کار بھی ہوتے ہیں۔ یہ دوسرا گروپ نظام مملکت چلانے میں اچھی کارکردگی دکھائے گا۔ مختلف اُمور پر دوسروں سے مشورہ نا کرنا انسان کی کمزوری ہے ایسا شخص جو مشورےسے گریز کرتا ہے خودپسند، مطلق العنان ہوتا ہے اور ہر کام اپنی مرضی سے کرتا ہے، نظام کا ستیاناس کردیتا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے’’ اے دائود علیہ السلام ہم نے دنیا میں تمہیں اپنی خلافت سونپی ہے اس سے ہمارا مدّعا یہ ہے کہ تم حق و انصاف کے ساتھ انسانوں کے مسائل حل کرو اور جو کچھ کہو راست بازی اور سچائی کے ساتھ کہو اور جو کام بھی کرو راستی اورعدل کے ساتھ کرو اور ہاں کیا انسان کی نصرت اور دستگیری کرنے کے لئے خدا کی ذات کافی نہیں ہے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ کاارشاد مُبارک ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں پرحکومت کرنے کے لئے کسی نااہل انسان کو ان پر تھوپ دیتا ہے اگرچہ اس کو علم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں بہتر اشخاص موجود ہیں تو وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرتا ہے (یعنی انتظام مملکت کے لئے ہمیشہ دیانت دار اور قابل و تجربہ کار لوگوں کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ یہ لوگ اللہ کی مخلوق کی خدمت کریں۔ دیانت دار اشخاص کو ذمہ داری نہ سونپنا ایک قسم کی خیانت ہے اور یہ خیانت اللہ اور اس کے رسولؐ اور مسلمان معاشرہ سے ہوگی)۔