Sahzaadgi aur durwessy (2) – Hassan Nisar

21

اس کے کرد شیخ جنید سے بھی زیادہ مرید اکٹھے ہوگئے ۔ شیخ جنید کی وفات کے بعد امیر حسن طویل نے جہان شاہ سے صلح کرلی اور مرزا ابو سعید تیمور کو قتل کرکے خراسان پر قبضہ کر لیا اور پھر جہان شاہ سے آذربائیجان بھی چھین لیا اور پورے ایران کا بادشاہ بن گیا۔پھر حسن طویل نے اپنی بیٹی کی شادی سگے بھانجے شیخ حیدر سے کردی ۔اس طرح شیخ حیدر صفوی جو پہلے حسن طویل کا بھانجا تھا اب داماد بھی بن گیا اس شادی کے نتیجہ میں شیخ حیدر کے تین بیٹے ہوئے یعنی علی، ابراہیم اور اسمٰعیل۔یہ وہ اسمٰعیل ہے جو تاریخ میں اسمٰعیل صفوی کے نام سے مشہور ہے ۔حسن طویل کی موت کے بعد شیخ حیدر نے سر اٹھایا اور شاہِ شیروان سے باپ کا انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔شیخ حیدر نے شیروان پر حملہ کیا اور خود بھی اپنے باپ کی طرح شکست کھا کر مارا گیا تو اس کی لاش کو اردبیل لے جا کر دفن کر دیا گیا۔علی اقتدار میں آیا تو حسن طویل مرحوم کے بیٹے امیر یعقوب نے علی کو فتنہ کے خوف سے اس کے بھائیوں ابراہیم اور اسمٰعیل سمیت اسطخر کے قلعہ میں نظربند کر دیا۔ جب امیر یعقوب شاہ ایران فوت ہوا اور اس کا بیٹا الوند بیگ تخت نشین ہوا تو علی بھائیوں سمیت فرار ہو کر اردبیل پہنچ کر جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔امیر الوند نے فوج بھیجی تو علی نے مقابلہ کیا اور اپنے باپ دادا کی طرح شکست کھا کر مارا گیا تو اس کے دونوں چھوٹے بھائی ابراہیم اور ا سمٰعیل صفوی بھیس بدل کر اردبیل سے گیلان چلے گئے جہاں پہنچ کر ابراہیم فوت ہوگیا۔اور سب سے چھوٹا کم سن اسمٰعیل باقی رہ گیا۔ الوند بیگ نے اسمٰعیل کو چودہ سالہ بچہ سمجھ کر اس سے تعرض نہ کیا یہ فیصلہ سنگین غلطی ثابت ہوا کیونکہ اسمٰعیل صفوی غیر معمولی ثابت ہوا جو شیروان پر حملہ آور ہوا جس کا حاکم مارا گیا۔اسمٰعیل کی فتح کا سن کر الوند بیگ چونک گیا اور اسمٰعیل کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر ادھوری تیار کے ساتھ اس کی سرکوبی کو روانہ ہوا۔جنگ میں شکست ہوئی اور مارا گیا تو ایک اور سردار مراد بیگ نے ہمدان کے قریب اسمٰعیل کا مقابلہ کیا اور شکست کھائی جس کے نتیجہ میں ایران، عراق و آذربائیجان اس کے قبضہ میں آگئے اور صفوی خاندان کا عروج شروع ہو گیا لیکن فرقہ واریت کے جنون میں اسمٰعیل صفوی سلطنت عثمانیہ کا دشمن ہو گیا حالانکہ عثمانی ترکوں کی اولادوں کی جانثاری اور شجاعت نے ہی اسے بادشاہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔تب سلطنت عثمانیہ پر سلطان سلیم ثانی کی حکومت تھی اگر اسمٰعیل صفوی سلطان سلیم ثانی سے چھیڑ چھاڑ نہ کرتا تو یقیناً سلطان سلیم یورپ کی طرف متوجہ رہتا اور اندلس تک جا پہنچتا اور تاریخ یکسر تبدیل ہو جاتی لیکن اسمٰعیل صفوی کی حماقتوں نے ایسا نہ ہونے دیا ۔سلطان سلیم نے اسمٰعیل صفوی کے ایک جاسوس کو پکڑ کر اس کو سزا دینے کی بجائے ایک خط اسے دیا کہ اپنے بادشاہ تک پہنچا دو اور ساتھ ہی اپنا ایلچی بھی روانہ کیا۔ سلطان سلیم ثانی نے لکھا۔

’’میں سلطنت عثمانیہ کا سلطان، بہادروں کا سرپرست، بت پرستوں اور اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد کرنے والا سلیم خان بن سلطان بایزید خان بن سلطان محمد خان بن سلطان مراد خان تجھ لشکر ایران کے سردار امیر اسمٰعیل سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا کلام تغیر سے بری ہے مگر اس میں بے انتہا راز ہیں جن کو انسانی عقل سمجھ نہیں سکتی ۔اس نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا کیونکہ انسان میں ہی روحانی و جسمانی قوتیں جمع ہیں اور انسان ہی ایسا حیوان ہے جو خدا کی صفات کو سمجھ سکتا ہے اور اس کی اعلیٰ خوبیوں کی وجہ سے پرستش کرتا ہے ۔انسان کو سوائے دین اسلام کے اور کسی مذہب میں سچا صحیح علم نہیں مل سکتا اور حضورؐ کی پیروی و اطاعت کے بغیر کامیابی کا راستہ ہاتھ نہیں آسکتا۔اے اسمٰعیل یاد رکھو تو ہرگز فوزوفلاح کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ تو نے طریقہ نجات کو چھوڑ کر اور احکام شرع کی خلاف ورزی کرکے اسلام کے پاک اصولوں کو ناپاک کر دیا ہے۔تو نے عبادت گاہوں کو مسمار کر دیا۔ناجائز اور خلاف شرع تدبیروں سے تو نے مشرق میں حکومت حاصل کی اور مکروحیلہ سے اس مرتبہ کو پہنچا ۔تو نے مسلمانوں پر بے رحمی اور ظلم کے دروازے کھول دیئے ۔تو نہ صرف جھوٹا، بے رحم اور مرتد ہے بلکہ بے انصاف ، بدعتی بھی ہے ۔تو نے کلام الٰہی میں ناجائز تاویل کو دخل دے کر اسلام میں نفاق و تفرقہ ڈالا ۔ ہم نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ شاہانہ لباس اتار کر زرہ بکتر پہن لیں اور اپنے جھنڈے کو جو آج تک ہمیشہ فتح یاب رہا، میدان جنگ میں نصب کر دیں اور انتقام لینے والی تلوار کو غیظ وغضب کی میان سے نکالیں۔

ہم تجھ سے خواہاں ہیں کہ تو اپنے اعمال بدکا محاسبہ کرکے صدق دل سے تائب ہو اور آئندہ کیلئے اپنی بداعمالیاں ترک کر دے ‘‘

(قارئین ! خط بہت طویل اور یہ اس کے اقتباسات ہیں )

شاہ اسمٰعیل صفوی نے جواباً یہ نامعقول ترین حرکت کی کہ ایلچی کے ٹکڑے کر دیئے جو انتہائی ظالمانہ اور مراسم شاہانہ کے خلاف تھی ۔بہرحال جواباً جو کچھ اسمٰعیل صفوی نے لکھا وہ کل کی آخری قسط میں ملاحظہ فرمائیے ۔ (جاری ہے)