Sahzaadgi aur durwessy (1) – Hassan Nisar

22

داعش کو معاف نہیں کریں گے، طالبان ساتھ دیں ‘‘ امریکی صدر کا یہ بیان پڑھ کر میرا دھیان ان بہت سی متشدد تحریکوں کی طرف جا نکلا جو ہماری تاریخ کا افسوسناک حصہ ہیں کیونکہ ان تحریکوں نے مسلمانوں کو فائدہ کم لیکن نقصان بہت پہنچایا ۔ان تحریکوں نے عالم اسلام کو متحد نہیں منتشر کیا، نفرت، فاصلوں، خلیجوں کو جنم دیا، تعصبات اور اختلافات کو ہوا دی ۔

حسن بن صباح کی ’’فدائی تحریک‘‘ سے لیکر بایزید انصاری کی ’’تحریک روشنائیاں ‘‘تک، بہاءاللہ کی ’’بہائی تحریک ‘‘ سے لیکر ’’تحریک قرامطہ ‘‘ تک، حکیم مقنع کی ’’تحریک مقنع‘‘ سے لیکر نور محمد کی ’’ذکری تحریک‘‘ تک، مختار بن عبیدہ بن مسعود ثقنی کی ’’ثقفی تحریک ‘‘ سے لیکر جاوید ان نامی شخص کی ’’خری تحریک’’ تک، حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی ’’ہاشمی تحریک‘‘سے ’’علوی تحریک‘‘ تک اور ’’خارجی تحریک‘‘ سے ’’صفوی تحریک‘‘ تک داستاں در داستاں گواہ ہے کہ گمراہی کیلئے کوئی ایک راہ مختص نہیں ہے ۔

پاکستان بننے کے بعد بھی بے فیض، بے ثمر، بے نتیجہ، بے سمت تحریکوں نے پاکستانی عوام کا استحصال کیا، انہیں بیوقوف بنا کر ان کا خون بہایا۔

’’یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا‘‘

اور پاکستانی آج تک نہیں جانتے کہ ان خونی تحریکوں کے پیچھے اصل مجرم اور ان کے مقاصد کیا تھے۔میرے ایج گروپ نے بھی اپنی گنہگار آنکھوں سے یہ تحریکیں اور تماشے دیکھے ہیں جن میں ’’تحریک نظام مصطفیٰ‘‘ سے لیکر ’’تحریک نجات‘‘ تک بہت کچھ شامل ہے ۔ ان میں سے کسی ایک تحریک کے نتیجہ میں چہروں کے علاوہ کچھ بھی تبدیل نہ ہوا اور اگر کوئی تبدیلی آئی بھی تو وہ بد سے بدتر اور بد تر سے بدترین کی طرف تھی جس کا نتیجہ آج کا مقروض اک ایسا پاکستان ہے جو مسلسل سروائیول کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس اونٹ کی مانند ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ پائوں ڈھانپیں تو سر ننگے اور سر ڈھانپیں تو پائوں ننگے ۔

میں نے جتنی بھی تحریکوں کا حوالہ دیا، ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جو کسی ’’طلسمِ ہوشربا‘‘ سے کم ہو لیکن آج صرف ’’صفوی تحریک‘‘ کی سمری ہی پیش کر سکوں گا کہ کالم اس سے زیادہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ہماری ایک بدنصیبی اور بے بسی یہ کہ حریف، سازشی اور غدار جب چاہتے ہیں، فرقہ بازی کو بطور ہتھیار کامیابی سے استعمال کر گزرتے ہیں ۔ایسی ہی ایک تحریک صفوی تحریک بھی تھی جس کے بانی اور حکمران اسمٰعیل صفوی کے بارے میں نامو ر مورخ مولانا اکبر نجیب آبادی لکھتے ہیں ۔

اسمٰعیل صفوی کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ اسمٰعیل بن حیدر بن جنید بن ابراہیم بن خواجہ علی بن صدر الدین بن شیخ صفی الدین بن جبرئیل۔ اس خاندان کی پہلی ممتاز شخصیت کا اسم گرامی شیخ صفی الدین تھا۔ آپ پیری مریدی کرتے تھے اور اردبیل میں سکونت پذیر تھے ۔انہی کے نام سے یہ خاندان ’’صفوی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے صدر الدین سلطنت عثمانیہ کے سلطان بایزید یلدرم اور امیر تیمور کے ہم عصر تھے۔ تیمور نے 804ھ میں بایزید یلدرم کو شکست دے کر گرفتار کیا تو اس کے ساتھ اور بھی بہت سے ترک سپاہی قید ہوئے ۔تیمور اس فتح کے بعد اردبیل پہنچا تو وہاں عقیدتاً یا مصلحتاً شیخ صدر الدین کے پاس گیا اور کہا کہ اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو حکم کریں ۔ شیخ نے کہا کہ جنگ انگورہ میں جتنے ترک سپاہی تم نے قید کئے ان سب کو رہا کر دو ۔تیمور نے فوراً انہیں رہا کر دیا تو یہ سب رہائی پاتے ہی شیخ کے مرید ہوگئے ۔پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان ترکوں کی تعداد اولاد بڑھتی چلی گئی اور ان کی شیخ کی اولاد کے ساتھ عقیدت و وفاداری بھی بڑھتی گئی ۔بعدازاں تیمور کی وفات کے خاصے عرصہ بعد بادشاہ آذربائیجان نے شیخ کے پڑپوتے شیخ جنید کو حکم دیا کہ آپ اردبیل سے تشریف لے جائیں ۔شیخ مریدوں جن میں ترکوں کی بھاری تعداد تھی کے ساتھ دیارِ بکر کی طرف روانہ ہوا ۔دیارِ بکر یعنی کردستان کا بادشاہ اس وقت حسن طویل آقونیلو تھا جس نے شیخ کو خوش آمدید کہا اور پھر اپنی بہن کی شادی بھی شیخ جنید سے کر دی۔ تب شیخ نے مریدوں کو ترک سپاہیوں کی شکل میں ڈھالنا شروع کر دیا اور پھر حسن طویل کے مشورہ سے اردبیل پر حملہ کر دیا جہاں سے اسے جلاوطن کیا گیا تھا ۔شیخ ناتجربہ کار سپہ سالار تھا سو شکست کھا کر حاکم شیروان پر چڑھ دوڑا جو اردبیل کے حکمران کا دوست تھا ۔یہاں پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسی شکست کے دوران شیخ جنید تیر لگنے سے مارے گئے تو ان کا صاحب زادہ حیدر جو حسن طویل کا سگا بھانجا بھی تھا، باپ کی جگہ گدی نشین اور سلسلہ کا پیر تسلیم کیا گیا۔حیدر ماں کی طرف سے شہزادہ اور باپ کی طرف سے درویشی تھا سو اس میں امارت و طریقت دونوں جمع ہو گئیں یعنی شہزادگی اور درویشی کا دو آتشہ تیار ہوگیا اور پھر؟ (جاری ہے)