Sab Sy Bara Pakistani – Mujeeb Ur Rehman Shami

15

سید علی گیلانی کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ تھا، نہ پاسپورٹ۔ انہوں نے کبھی یہاں سکونت اختیار نہیں کی، مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے کے بارے میں بھی نہیں سوچا، اپنے علاقے اور اپنی زمین سے جڑے رہے۔ کئی سال مقدمے بھگتتے، جیلیں کاٹتے اور نظر بندیوں کا سامنا کرتے گزار دیے۔ جنوبی ایشیا میں شاید ہی کسی دوسرے سیاست دان نے اتنا طویل عرصہ قید و بند میں گزارا ہو۔ آزادی سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان اور مولانا حسرت موہانی ان لوگوں میں ممتاز تھے جنہوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزار دیا، لیکن آزادی کے مطالبے سے منہ نہیں موڑا۔ غلامی کی زندگی کو توہینِ زندگی قرار دیتے رہے، اور اس سامراج سے ٹکر لی جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ جس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ پسپا ہو سکتا ہے‘ اپنے غلاموں کو آزاد کر سکتا ہے، اُس کے پنجے توڑے اور دانت کھٹے کیے جا سکتے ہیں، لیکن اُس سے ٹکرانے والے، بغاوت کا اعلان کرنے والے اور آزادی کا نعرہ لگانے والے اپنے جذبوں سے سرشار تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کی زنجیریں ٹوٹیں گی، ان کا وطن آزاد ہوگا، اور وہ اپنے اوپر خود حکومت کریں گے۔ برسوں کی جدوجہد کے بعد آزادی کے خواب کو تعبیر ملی، اور برصغیر آزاد ہوگیا، پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو ممالک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے، اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کو بیدارکر گئے، ان کو آزادی کا شعور اور آدرش عطا کر گئے۔ غلام ہندوستان کی نوابی ریاستوں کو ان دو مملکتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، لیکن آزاد ہندوستان کے نئے حکمران ریاست جموں و کشمیر کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوگئے۔ انہوں نے سورج کو اس سرزمین پر طلوع ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ یہ حقیقت بھلا بیٹھے کہ سورج کو قید نہیں کیا جا سکتا، روشنی کو مٹھی میں بند کرکے نہیں رکھا جا سکتا، ان کی نظر سے ان کی اپنی جدوجہد، اپنا تجربہ اوجھل ہوگیا۔ انہوں نے تاریخ سے آنکھیں بند کرلیں، اوراپنے سامراجی عزائم کی پرورش میں مصروف ہوگئے۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور اُن کے گرو گاندھی جی نے اپنے آپ کو بھلا دیا، اپنے ماضی کو بھلا دیا، اور کشمیرکو غلام بنائے رکھنے کے شوق میں مبتلا ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پوری دنیا کو گواہ بناکر عہد کیاکہ جونہی حالات معمول پر آئیں گے اہلِ کشمیر کو انتخاب کا حق دے دیا جائے گا۔ عالمی نگرانی میں استصوابِ رائے کا اہتمام ہوگا، اور وہ پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکیں گے، اپنا مقدر اس کے ساتھ وابستہ کرلیں گے، لیکن پھر اپنی زبان آپ ہی کاٹ ڈالی، اپنی بات سے پھر گئے، اور حیلے بہانے شروع کر دیے۔ وہ سمجھے تھے کہ جوں جوں وقت گزرے گا ان کا قبضہ پکا ہوتا جائے گا۔ کشمیریوں کا جذبۂ آزادی سرد پڑ جائے گا۔ نریندر مودی ان سے بھی کہیں آگے بڑھ گئے انہوں نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے نئی دہلی کی تحویل میں دے دیا، لیکن ان کے دانت کھٹے ہی نہیں ہوئے ٹوٹ بھی رہے ہیں‘ کوئی ایک بھی کشمیری ان کی آواز میں آواز ملانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ آزادی کی آگ اور بھی بھڑک اٹھی ہے کشمیریوں کے تیور اور بھی تیکھے ہو چکے ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کے باشندے اس صورتِ حال کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ 74 سال سے اُن کی جدوجہد جاری ہے، سید علی گیلانی عہدِ حاضر میں اِس کا سب سے بڑا استعارہ تھے۔ پون صدی پہلے ایک مدرس کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کرنے والے نوجوان نے کاروانِ آزادی کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑ لیا، اور مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے بالآخر اس کا سرخیل بن گیا۔ سید علی گیلانی اور آزادیٔ کشمیر لازم و ملزوم ہو گئے۔ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ممکن نہ رہا۔ سید علی گیلانی نے انتخابی سیاست بھی کی، جہاد کرنے والوں کی پیٹھ بھی تھپکی، جماعت اسلامی میں شامل ہوئے، متحدہ محاذ بنائے، حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی، جماعتی وابستگیوں سے آزاد ہوئے، لیکن تحریک حریت سے نہ کٹے۔ گرفتاریاں، بیماریاں، صعوبتیں، مشقتیں ان کے حوصلوں کو شکست نہ دے سکیں۔ آزادی ان کیلئے پاکستان سے جڑ جانے کا نام تھاکہ پاکستان کا نام اسلام سے جڑا ہوا تھا۔ اسلامی اقدارکے فروغ واستحکام ہی کیلئے اس کے حصول کی تحریک چلائی گئی تھی، پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ لگایا گیا تھا۔ پاکستان کسی علاقے، نسل، صوبے یا جغرافیائی ٹکڑے کا نام نہیں تھا، پاکستان ایک خواب، ایک آدرش تھا۔ اسلامیانِ برصغیر کی منزل تھا کہ اسے اللہ کا کلمہ بلند کرنا، اور دنیا بھر میں ممتاز ہو جانا تھا۔ سید علی گیلانی 14اگست 1947ء کے ساتھ کھڑے رہے، اس کے ساتھ جڑے رہے، پوری شدت سے وہ نعرہ لگاتے رہے، جو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے لگایا تھا، اور جو برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے لگایا تھا، جس کی پاداش میں وہ آگ اور خون کے کئی دریائوں سے گزرے تھے، اور بالآخر اسے حاصل کرکے دکھایا تھا۔

آج پاکستان کیسا ہے، اس پرکس کی حکومت ہے، وہاں کون کون سے قبضہ گروپ مسلط رہے یا مسلط ہوسکتے ہیں، وہ اپنی منزل سے کتنا دور ہے، راہ سے بھٹک گیا ہے یا سیدھے راستے پر چل رہا ہے۔ اُس کے رہنے والے اپنے بزرگوں کے خوابوں سے کتنا جڑے ہوئے ہیں اور کتنا کٹے۔ سید علی گیلانی کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی، انہیں تو بس یہ یاد تھاکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، اس کے آئین نے اپنا ناتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے یہ ریاست کلمہ گو ہے، اس کی زبان پر کلمے کا ورد جاری رہتا ہے‘ لغزشوں، کوتاہیوں اور خامیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ خطاکار، گناہگار کو پارسا بنایا جاسکتا ہے، سیدھا راستہ دکھایا جاسکتا ہے، سو پاکستان سے کشمیر کو جوڑنا ہے، اور اس کے اندر برپا کشمکش میں اپنا حصہ ڈال کر ہوائوں کا رخ بدل دینا ہے۔ سیکولرازم، نیشنلزم اور کمیونزم سے آزاد پاکستان ہی کو جنوبی ایشیا کیا پوری دنیا کی طاقت دینا ہے‘ مثال بننا ہے، اور وہ کچھ کر دکھانا ہے، جو صدیوں سے نہیں ہو سکا، جس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے والے ایک نہیں، ایک ہزار نہیں، بے شمار ہیں، اور قطار اندر قطار ہیں۔ سید علی گیلانی ان عناصر سے برسرپیکار رہنے کیلئے ان کے دانت کھٹے کرنے کیلئے اپنا ناتہ پاکستان سے جوڑے ہوئے تھے، جوڑے رکھنا چاہتے تھے۔ اجتماعی جدوجہد کی ثمرآوری پر یقین رکھتے تھے، سو جب سری نگر میں بیٹھ کر وہ ”ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کا ورد کرتے تھے، تو لاکھوں سامعین ان کے ہم آواز ہو جاتے تھے۔ ان کے اس نعرے سے فضائیں آج بھی گونج رہی ہیں۔ اس نعرے نے سید علی گیلانی کو آج کا سب سے بڑا پاکستانی بنا دیا ہے۔ کسی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پلاٹ، بینک بیلنس یا زرعی زمین کے بغیران کی پاکستانیت اپنے آپ کومنوا چکی ہے۔ وہ 92 سال گزار کر رخصت ہوئے ہیں تو بھارتی سامراج ان کی میت سے خوفزدہ ہوگیا ہے۔ ان کا جسدِ خاکی چھین کر، انہیں چند افراد کی موجودگی میں سپردِ خاک کرکے، ان کے جنازے پر پابندی لگا کر وہ سمجھتا ہے کہ اُس نے اپنی طاقت منوالی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اُس کا خوف، اُس کے زرد چہرے سے عیاں ہے۔ سید علی گیلانی نے مرکر بھی اسے ڈرا رکھا ہے، اُس کی ٹانگیں لرزرہی ہیں، اُس کا جسم کپکپا رہا ہے، بالآخر اُس کا انجام وہی ہونا ہے، جو ہر قابض کا، اورہر سامراج کا ہوتا چلا آیا ہے، جو برصغیر میں برطانیہ کا، اور افغانستان میں امریکہ کا ہواہے۔ سید علی گیلانی کا جہاد جاری ہے۔ قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم، اور نکلیں گے عشاق کے قافلے۔

(یہ کالم روزنامہ ”دُنیا‘‘ اور روزنامہ ”پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)