Riyasat e Madina – Aamir Liaquat Hussain

76

اِس بار وہ ایک لشکر تھا، ایک بڑا لشکر جس کی ہیبت سے اہل قریش کا دل بیٹھا جا رہا تھا، 313 اب لاکھوں فرزندانِ توحید کی شکل اختیارکر چکے تھے اور اْن کا رہبر، اْن کا رہنما، اْن کا پیشوا، اْن کا مولا اور اْن کا امام وہی تو تھا جس نے ہجرت کے آخری لمحات میں مکے کی جانب دیکھ کر ارشاد فرمایا تھا کہ ’’ اے مکہ ! تْو مجھے بہت عزیز ہے، میرا تْجھے چھوڑکر جانے کو جی نہیں چاہتا لیکن کیا کروں کہ تیرے فرزند مجھے یہاں رہنےنہیں دیتے‘‘ ابوسفیان (جو اْس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے ) کو وہ رات ابھی تک یاد تھی، ’’دارالندوہ‘‘ میں ’’دارِ ارقم‘‘ کے ۳۶ مسلمانوں کے خلاف اجتماع، یاد تھا کہ اچانک کسی ’’بزرگ‘‘ کا اجلاس میں آ جانا اور سب کا اْسے دیکھ کر دم بخود رہ جانا کیونکہ اِس سے پہلے اِس بزرگ کو کسی نے قریش کے کسی قبیلے کی بڑی مجلس میں دیکھا تھا اور نا ہی اْس سے کوئی آشنا تھا، اور پھر جب اْس نے یہ کہا کہ ’’تم لوگ کیوں سرکھپاتے ہو؟ ایک معبود کی عبادت کا پرچار کرنے والے اْس ابن عبداللہ سے جان چھڑانا چاہتے ہو نا؟ ‘‘ جب سب نے اثبات میں گردن ہلائی تو زہر آگین نے زہر پاشی کرتے لبوں سے یوں زہر اْگلا کہ ’’ ہر قبیلے سے ایک ایک جوان منتخب کرو اور اْن کے ذریعے اْسے قتل (معاذ اللہ) کرا دو تا کہ بنی ہاشم والے قتل کا بدلہ لینے سے عاجز آ جائیں‘‘ نامعلوم بزرگ کی تجویزکو سراہنے والا پہلا شخص عمرو بن ہشام ابوالحکم یعنی ابوجہل تھا اور تائید کنندگان میں ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف اور عْتبہ جیسے نابکار و ناہنجار پیش پیش تھے۔

بہرکیف ابوسفیان نے سر جھٹک کر فرسودہ خیالات کی کھیتی کو پیش منظر کی تاب سے خاکستر کیا اور کوہِ فاران کے داہنے حصے سے آ ہستہ آ ہستہ سر نکال کر روشن مشعلوں سے اْجلے خیام کی جانب یکبارگی ایک تاسف بھری نگاہ ڈالی اور اپنے آپ سے ہم کلام ہوتے ہوئے کہا کہ ’’تیری ماں تیرے غم میں مر کیوں نہیں گئی، تْو نے کیوں نہ پہچانا اْس نورانی چہرے اورگھنیری زلفوںوالے عبدالمطلب کے پوتے اور ابوطالب کے بھتیجے کو کہ جس نے بارہا تجھے اپنی جانب بلایا، کاش تْو خطاب کے بیٹے کی بات مان لیتا کہ جب ہجرت سے پہلے اْس نے صحن کعبہ میں کھڑے ہو کر تیرے معبودوں پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جس بڈھے کی باتوں میں آ کر تم میرے سیدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کرنے کے درپے تھے وہ کسی قبیلے یا قوم کا نمایندہ نہیں تھا بلکہ وہی تھا جس نے قیدار بن سالف کو اْکسایا، عمرو بن لحی کو بت پرستی پر آمادہ کیا اور عمرو بن ہشام کی زبان بنا، وہ ابلیس تھا، ابلیس‘‘ ہائے کہ تْو مان لیتا ! ہائے کہ تْو عاص کے بیٹے کے ساتھ ہی مدینہ چلا جاتا، اب تو عباس کے بھتیجے کی حکومت پھیل چکی ہے، اب تجھے وہ کیوں معاف کریں گے؟ تیری بیوی نے تو اْن کے دودھ شریک چچا حمزہ بن عبدالمطلب کا کلیجہ چبایا تھا، تیری اجل توطے ہے، بہتر ہے کہ عکرمہ کی طرح ہوش سے کام لے اور تاریکی کا فائدہ اْٹھا کر بھاگ نکل، شاید کہ ہبل کی عبادت کوئی اجر دے ڈالے اور تْو بچ جائے، سرداری تو آنی جانی شے ہے، آج یہ ریاست کے سردار ہیں کل تْو ریاست کا فرماں رواں بن سکتا ہے، معافی مانگ کر آ جانا لیکن ابھی نکل۔‘‘

بے ربط خواہشات کی تدوین میں گم ابوسفیان کو یکایک احساس ہوا کہ کسی کا ہاتھ اْس کے کاندھے پر ہے، اْس نے مْڑکر دیکھا تو اندھیرے میں چمکتا چہرہ نظر آیا جسے بھلانا ناممکن تھا، وہ عباس تھے، عبد المطلب کے صاحبزادے، ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لاڈلے چچا جان اور اْس فقیہ عبداللہ کے والد جو رہتے ہی رسول اللہ کے ساتھ تھے۔ ’’کیا فرار ہونے کا ارادہ ہے‘‘ شیریں مگر جلالی لب ولہجے نے گویا سماعتوں پر دستک دے کر جھنجھوڑ ڈالا ہو۔ ’’نہیں! ہاں مگر نہیں‘‘ وہ گڑ بڑا سا گیا اور سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اْس کا ہاتھ تھام کر کوہِ فاران کی اوٹ سے اْسے باہر نکالا اور دامنِ فاران میں خیام گاہوں کی جانب اشارہ کر کے دریافت کیا ’’حرب کے بیٹے ! تجھے کیا نظر آ رہا ہے ؟‘‘ ابو سفیان نے جواب دیا ’’حکومت ! تیرے بھتیجے کی حکومت بہت پھیل گئی ہے عباس‘‘ بس جملہ یہیں تک مکمل ہوا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ ابوسفیان کے رخسارکا مزاج پوچھتاہے اور عبدالمطلب کے صاحبزادے ارشاد فرماتے ہیں ’’یہ حکومت نہیں، نبوت ہے، یہ ریاست نہیں رسالت ہے اور یہ نبوت و رسالت میرے بھتیجے پر ختم ہوتی ہے‘‘ پھر ایک واقعاتی سلسلہ ہے، قبول اسلام کی روح پرور داستانیں ہیں اور ابوسفیان سمیت ورقہ ابن نوفل کی رہائش گاہوں کو ’’امان گھر‘‘ میں تبدیل کرنے کی نایاب مثالیں ہیں۔
عرض یہ کرنا ہے کہ میرے سیدی صلی اللہ علیہ وسلم کو ریاست نہیں ملی تھی رسالت ملی تھی، حکومت نہیں ملی تھی، نبوت ملی تھی، حکومت و ریاست تو اْن کے نعلین پاک کی دھول کے برابر بھی نہیں، جسے عالمین کے لیے رحمت بنایا گیا ہو، جس کی رفتارِ نبوت بْراق کی رفتار سے زیادہ ہو، جو اپنے دستِ مبارک کی ہتھیلی میں دنیا دیکھ لیتے ہوں، جنھیں خزانوں کی کنجیاں عطاکی گئی ہوں، جن کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو جائے جو اللہ کی عطا سے جب چاہیں آفتاب کو ڈوبنے یا اْبھرنے کا حکم صادر فرما دیں، جو مدینے میں فرمائیں کہ ’’میں قیصر و کسریٰ کے کنگن مدینے کے خزانے میں دیکھ رہا ہوں‘‘ اور سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ خزانے میں کنگن جمع کراتے ہوئے اپنے آقا کا قول عالی شان یاد کر کے رو پڑے ہوں، جن کے نامہ مبارک کو اگر خسرو (معاذ اللہ) چاک کر کے پھینک دے اور آپ فرما دیں کہ خسرو کے اپنے اْسے اِسی طرح چاک کر دیں گے اْن کے لیے ریاست بے معنی ہے، وہ بادشاہوں کے بادشاہ ہیں، شہنشاہوں کے شہنشاہ ہیں۔

تاجداروں کے تاج دار ہیں اور ہم گناہ گاروں کے سرکار ہیں لہذا براہِ کرم ریاست مدینہ کی تکرار کا آغاز سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اس خدمت کو یاد کر کے کیا کیجیے جو وہ رات گئے ایک بیوہ کے گھرکی صفائی کیا کرتے تھے اور فاروق اعظم چھپ کر دیکھتے اور روتے ہوئے ارشاد فرماتے ’’خدا کی قسم ابوبکر ہم پر بازی لے گئے‘‘ فاروق اعظم کے نظام عدل و انصاف کو پہلے قائم کیجیے ’’حوضِ نور‘‘ کی بے حرمتی بچایے، تندوروں سے روٹیاں مفت کھلائیے، عمال کی گوشمالی کی عادت ڈالیے، ضد نہیںکیجیے کہ ’’نہیں بدلوں گا‘‘، کوتوالِ شہر اورگورنرز دوستوں کو نہیں بلکہ دوستوں پر ہاتھ ڈالنے والے کو لگائیے، خوشامدی گھیرے سے اپنے آپ کو نکال کر انسان بننے پر اکتفا کیجیے اور طاقتور پودے اکھاڑ کرکمزور پودوں کو پانی دینا سیکھیے۔ اجی آپ کیا جانیں ریاست مدینہ کن اْصولوں پر خلفائے راشدین نے قائم کی تھی۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم قرآن، حدیث اور اہل بیت دے گئے تھے اور صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے ’’تینوں‘‘ کو پڑھنے کے بعد ریاست مدینہ کے قیام کا آغازکیا ! کیا آپ نے تینوں کو پڑھ لیا ہے؟