Reham Ki Appeal | Munno Bhai

43

Munno Bhai senior columnist latest column in jang akhbar..

پارہ چنار، کوئٹہ اور کراچی میں دہشت گردی کی زد میں آئے ہوئے 62مزید بے گناہ پاکستانیوں کی گرتی ہوئی لاشوں کے درمیان پاکستان کی قانونی تحویل میں آتے ہوئے اعلیٰ عدالت کے سزا یافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن نے اپنی عدالتی سزائے موت پر عملدرآمد سے بچنے کے لئے پاک فوج کے سربراہ سے رحم کی اپیل کی ہےاور اس اپیل کے ساتھ اپنے پاکستان میں جاسوسی کے کارناموں کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موت کی سزا آخری اور سب سے بڑی سزا ہوتی ہے بعض مہذب معاشرے اس سزا کے خلاف ہیں اور سزائے قیدوجرمانہ کو ہی قبول کرتے ہیں۔ ان معاشروںکے مطابق قدرت کی طرف سے دی گئی انسانی زندگی کو مختصر کرنے کی سزا نہیں ہونی چاہئے مگر دہشت گردی کے کارناموں کے ذریعے بے گناہوں کی لاشیں گرانے کی بھی کوئی معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا اور جن سزائوں کے اعلان کے ساتھ ان سزائوں کے قانونی تقاضوں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے اور ملک و قوم کی اعلیٰ ترین عدالتوں کی تائیدوحمایت بھی حاصل ہوتی ہے وہ سزائیں انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کر رہی ہوتی ہیں چنانچہ ان پر عملدرآمد لازمی اور ناگزیر ہوتا ہے۔پاکستان میں اتنے طویل عرصے تک سزائے موت پر عملدرآمد تقریباً رکا ہوا تھا مگر دہشت گردی کے واقعات کی شدت کے زمانے میں پاکستان فوج کے سابق سربراہ نے دہشت گردی میں مصروف عناصر کو اس سزا سے گزارنے کا سلسلہ شروع کیا جس کے اثرات دہشت گردی کے زور اور شدت میں کمی کی صورت میں سامنے آئے ۔قتل کے ذمہ دار مجرموں کی پھانسی یا موت کی سزا دینے سے ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے زندہ نہیں کئے جا سکتے مگر دہشت گردیوں کا نشانہ بننے والوں کے عزیزوں کے لئے انصاف کی موجودگی اور قانون کے تحفظ کا یقین فراہم ہو سکتا ہے اور تحفظ کا یہ احساس اور انصاف کی موجودگی کا شعور پورے معاشرے کے لئے اہم اور لازم ہوتا ہے۔ کسی ایک زندگی کو معاشرے کے افراد کی زندگیوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی ۔اس سلسلے میں برطانیہ کے معروف وزیر اعظم مسٹر چرچل کی اس بات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ جب تک برطانیہ کی عدالتوں میں انصاف ہوتا ہے برطانیہ یہ جنگ (عظیم) نہیں ہار سکتا ۔ہندوستان کے لوگ ٹیلی ویژن پر کلبھوشن کی باتیں سن کر اور د یکھ کر یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ ان کے پاکستان میں بھیجے گئے جاسوس سے جرائم اور قبول کرنے والے بیانات زبردستی یا جسمانی ایذا رسانی کے ذریعے حاصل کئے ۔کلبھوشن نے اپنے تمام بیانات سے تاثر دیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سارے بیان دیئے اور بیانات کے ساتھ ثبوت بھی فراہم کئے ہیں اور ان بیانات کی حالات واقعات سے تائید بھی ہوتی ہے چنانچہ وہ عدالت کی طرف سے سنائی گئی یا دی گی سزا کو انتقامی کارروائی کی بجائے انصاف کا تقاضا قرار دیتے ہیں