Ramiz Raja Advice to ignore friendship in team selection

45

ایک انٹرویو میں رمیز راجہ نے پاکستان ٹیم مینجمنٹ کی سلیکشن پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انھوں نے کہا مستقبل کی تیاری کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کرتے ہوئے سب کو کھل کر بتا دینا چاہیے کہ فوری طور پر مثبت نتائج نہ حاصل ہو توبھی نئے ٹیلنٹ کو مواقع دیں گے لیکن ایسا نظر نہیں آتا، دوسری بات یہ ہے کہ آپ جن کرکٹرز کے ساتھ کھیلے ہوئے ہیں ان کی دوستیوں کو بھی ایک طرف رکھ دیں، سلیکشن کا معیار صرف کارکردگی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی نہ کسی طور میچ جیتنا چاہتے ہیں مستقبل کے لیے تیاری ہماری ترجیح نہیں، ایک غیر واضح اور غیر یقینی کی صورتحال ہے، ایک طرف ہم نے نوجوان بابر اعظم کو کپتان بنا دیا، دوسری جانب ٹیم میں دو 40 سالہ کرکٹرز بھی شامل کر لیے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم جانا کس سمت میں چاہ رہے ہیں۔