Raghbat, Rasai Aur Junoon | Najam Sethi

42

Sethi Najam Columnist latest column in Jang leading newspaper of pakistan…

اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ اٹھارہ سال کے بعد ایک دھماکہ خیز انداز میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ بری خبر یہ ہے کہ شریف خاندان کی منی ٹریل کی تحقیقات کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے خود کو انتہائی متنازع بنا لیا ہے ۔
جب ٹیم پاکستان اپنی عزت کی بحالی کے اس سفر پر نکلی تو یہ ون ڈے انٹر نیشنل رینکنگ میں سب سے نچلے نمبر پر تھی ۔ زیادہ تر افراد اس کی سیمی فائنل تک رسائی کیلئے بھی پرامید نہ تھے ۔ گروپ اے میں دنیائے کرکٹ کی طاقتور ترین ٹیمیں، انڈیا، جنوبی افریقہ اور سری لنکا تھیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پہلے میچ میں انڈیا کے خلاف ٹیم کی انتہائی ناقص کارکردگی نے اُن ناقدین کی تصدیق کردی جنہوں نے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر پاکستان کرکٹ بورڈ،اس کی انتظامیہ، کوچز اور سلیکٹرزکو آڑے ہاتھوں لینا اپنا وتیرہ بنایا ہوا ہے ۔
انڈیا کے ہاتھوں دھلائی کے بعد ٹیم اپنے دوسرے میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف بوٹوں کے تسمے کستے ہوئے میدان میں اتری۔ اس میچ میں بارش نے اسے مزید دھلائی سے بچا لیا ۔ تاہم اپنے تیسرے میچ میں سری لنکا کے خلاف ٹیم پاکستان کے پورے جوہر نکھرنا شروع ہوگئے ۔ اس کے کھلاڑی اپنی فارم حاصل کرتے دکھائی دئیے ۔ اس نے حریف ٹیم کو ایک بڑا ہدف دینے سے روک دیا، لیکن ہدف کے تعاقب میں اس کی ٹاپ اور مڈل آرڈر تنکوں کی طرح بکھرگئی ، اور کرکٹ کی عام فہم اصطلاح میں بلے بازوں کی لائن لگ گئی ۔ ہر کھلاڑی کے پویلین واپس لوٹنے سے قومی وقار کی بحالی کی امید یں دم توڑنے لگیں۔ لیکن الحمدﷲ، کپتان سرفراز احمد نے ملنے والے ایک موقع سے فائدہ اٹھایااور تیز بالر محمد عامر کے ساتھ مل کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کردیا۔
تاہم ڈگمگاتے قدموںسے حاصل ہونے والی فتح سے ٹورنا منٹ کے ہاٹ فیورٹ اورناقابل ِ شکست، میزبان انگلینڈ کے خلاف امیدوں کے چراغ روشن نہیں ہوئے تھے ۔ لیکن اُس روز پاکستان نے ہر کسی کو ششد رکردیا ، اور شاید اُنہیں خود بھی اس کی توقع نہ تھی۔ کارڈف کے دھوپ سے نہائے میدان میں اُنھوں نے انگلینڈ کو ایک یک طرفہ میچ میں ہرا کر ناقدین پر سکتہ طاری کردیا۔ اب ٹیم پاکستان ناقابل ِشکست دکھائی دیتی ہے ۔ وہی پی سی بی اب وی آئی پیز اور چند دن پہلے تک اپنے خون کے پیاسے میڈیا کیلئے ٹکٹیں حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ جیت کی خوشی ہر سمت دیوانہ وار اور دیدنی ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان نے ایک نیاجنم لیا ہو۔ اس حیران کن فتح سے متاثر ہوکر نامور برطانوی کرکٹ مبصر، روب اسمتھ ٹیم پاکستان کو ان یادگار الفاط میں بیان کرتے ہیں۔۔۔’’میرا خیال تھا کہ پاکستان اسپورٹس کی تاریخ کی سب سے دلچسپ ٹیم ہے ۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ انسانیت کی تاریخ کی سب سے دلچسپ ٹیم ہے ۔ حماقتوں کی انتہا سے لے کر یک لخت صلاحیتو ں کی انتہا کا اظہار کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ اُن کو بہترین کھیل پیش کرتے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ انسان ڈیوڈ لائنچ(نامور فلم ڈائریکٹر) کی ڈائریکشن میں اسپورٹس ایونٹ دیکھ رہاہے۔عقل انگشت بدنداں ہوتی ہے اور نہ جانے کہا ں سے اہم کردار نکل کر سامنے آجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ غیر مرئی طاقتوں کا کھیل ہو۔ دلیل ،قیاس اوراندازے، سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔انہیں کھیلتے دیکھنا حیرت کدے میں اترنے سے کم نہیں۔‘‘مایہ ناز انگلش بلے باز، کیون پیٹرسن نے ٹیم پاکستان کی کامیابی کو ’’کامیاب پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) کے اہم کرداروں ‘‘ سے منسوب کیا ہے ۔ اُن کا کہناتھا کہ پی ایس ایل ’’شاندار معیار اور اعلیٰ مینجمنٹ ‘‘ رکھتی ہے ۔ ادھروطن میں جے آئی ٹی کی طرف سے خوشی کی کوئی خبر نہیں ہے ۔ درحقیقت جس انداز میں اس کے طرز عمل کو میڈیا میں اجاگر کیا جارہا ہے ، یہ برہم دکھائی دیتی ہے ۔ اس نے سپریم کورٹ کے آگے ایک ہنگامہ خیز شکایت کی ہے کہ کچھ ریاستی ادارے اس کے تحقیقات کاروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ اگر اس الزام میںکوئی سچائی ہے تو بھی یہ جے آئی ٹی کا ہی قصور ہے ۔ اس کی ابتداکچھ مخصوص ارکان کی مبینہ غیر شفاف تعیناتی سے ہوئی تھی ۔ ناقدین کا خیال ہے کہ حسین نواز کی ویڈیو لیک جے آئی ٹی کے شریفوں کے خلاف سیاسی تعصب کا ثبوت ہے ۔ اسکے بعد اس نے راتوں رات شریف کی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کے اس کی ساکھ مجروح کرنے کیلئے کیے جانیوالے حملوں کے مبینہ ثبوت بھی فراہم کردئیے ۔ یہ پھرتی ایجنسیوں کے تال میل کے بغیر نہیں دکھائی جاسکتی ہے ۔ ان عوامل نے جے آئی ٹی کے اصل اہداف کو مشکوک بنا دیا ہے ۔
جس دوران جے آئی ٹی ایک بحران سے دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہے، شریفوں کے سخت جان اور پرعزم ناقد، علامہ طاہر القادری کی بے بدل قوت ِشامہ نے بھی کسی سازش کی بو سونگھ لی ہے ۔ علامہ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی پی ایم ایل (ن) کے ’’الیکشن سیل ‘‘ کا کام کررہی ہے ۔ اُن کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے انتہائی حربے عوام کے دل میں شریفوںکیلئے ہمدردی پیدا کررہے ہیں۔ اب وزیر ِ اعظم نواز شریف بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں، جو کہ ایک نادر مثال ہے ۔ اب تک ہونے والی کارروائی سے کم و بیش یہ نتیجہ ضرور نکالا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کی متنازع تحقیقات شریفوں پر کوئی حتمی الزام ثابت نہیں کرسکے گی ۔ سپریم کورٹ نے کھلے دل سے جے آئی ٹی کی شکایت کو سنا ہے ۔ عمران خان نے بھی جے آئی ٹی کی حمایت میں ایک پٹیشن دائر کردی ہے ۔ اس دوران سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں خود عمران خان کے خلاف پی ٹی آئی کی فنڈنگ اور منی ٹریل کے بارے میں درخواستیں دی جارہی ہیں۔ خاں صاحب کے خلاف دستاویزات پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ پاکستانی عوام اتوار کو (کالم کی اشاعت کے روز) کھیلے جانے والے فائنل میچ کیلئے دعائیں کررہے ہیںلیکن وہ جے آئی ٹی کی اگلے ماہ سامنے آنے والی رپورٹ کے بارے میں پرجوش نہیں ہیں۔ شاید ہم اپنے موڈ اور جنون کے ساتھ چلتے ہیں۔