Proposal to name new “space germs” after Hakim Ajmal

93

حیدرآباد دکن: عالمی خلائی اسٹیشن سے دریافت ہونے والے ایک نئے جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مشہور طبّی ماہر، حکیم اجمل خان کے نام پر رکھنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ’’ناسا‘‘ کے ماہرین نے 2011 سے 2016 تک عالمی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں مختلف مقامات سے جراثیم (بیکٹیریا) کی چار اقسام حاصل کی تھیں جنہیں مزید تحقیق کےلیے زمین پر لایا گیا۔

بتاتے چلیں کہ یہ خلائی اسٹیشن 408 کلومیٹر بلندی پر رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر لگا رہا nasaہے۔

امریکی اور ہندوستانی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے ان جراثیم کا تفصیلی جینیاتی تجزیہ کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بتایا ہے کہ ان میں سے صرف ایک جرثومہ ایسا ہے جس کے بارے میں ہم پہلے سے جانتے ہیں، جبکہ باقی تین بیکٹیریا پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔

بیکٹیریا کی یہ چاروں اقسام ’’میتھائیلو بیکٹیریاسیائی‘‘ (Methylobacteriaceae) نامی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کے مختلف ارکان مٹی اور تازہ پانی میں عام پائے جاتے ہیں؛ اور پودوں کی نشوونما سے لے کر انہیں بیماریوں سے بچانے تک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آسان الفاظ میں، یہ جراثیم زرعی لحاظ سے بہت مفید ہیں۔

خلائی اسٹیشن سے ان بیکٹیریا کا ملنا کوئی عجیب و غریب بات نہیں کیونکہ خلانور پچھلے کئی سال سے خلا کے بے وزن ماحول میں چھوٹے پیمانے پر مختلف فصلیں اگاتے آرہے ہیں۔