Parliament Kay Dono Evanoun Ka Mushtarka Ijlas By Nusrat Javed

12

اقتدار کا کھیل بہت سفاک ہے۔اس کے چند تقاضے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو عمران خان صاحب کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کے ارادے کو ترک کردیں۔ چند ہی روز قبل یہ اجلاس منعقد کرنے کے لئے ایوان صدر سے اعلامیے کا باقاعدہ اجرا ہوگیا تھا۔ حکومت مگر آخری لمحات میں اسے مؤخر کرنے کو مجبور ہوئی۔اجلاس مؤخر کرنے کے اس فیصلے نے واضح پیغام دیا کہ عمران حکومت کو پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔

اس ضمن میں ہوئی خجالت کو مٹانے کے لئے کہانی یہ پھیلائی گئی کہ حکومت کے اتحادی ان قوانین پر سرجھکا کرا نگوٹھا لگانے کو تیار نہیں جو عمران خان صاحب نہایت شدت سے ملک میں لاگو کرنا چاہ رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات کے دوران بیلٹ پیپروں پر مہریں لگانے کے بجائے الیکٹرانک مشینوں پر نصب بٹن دبانے کا بندوبست اس تناظر میں سرفہرست ہے۔اس کے علاوہ اس امرکو بھی یقینی بنانا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے کمپیوٹر یا موبائل فونوں پر میسر ایپس کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کریں۔گجرات کے چودھری، ’’پاکستان‘‘ کے لاحقے والی ایم کیو ایم اور پیر پگاڑا کی قیادت میں قائم جی ڈی اے مذکورہ قوانین سے جذباتی وابستگی محسوس نہیں کرتیں۔ان کی دانست میں نئے انتخابات ویسے بھی دو سال بعد منعقد ہونے ہیں۔ممکنہ وقت سے کئی ماہ قبل محض ضد نظر آتی عجلت میں نئے قوانین لاگو کرنے کی لہٰذا ضرورت نہیں۔اصل مسئلہ مگر یہ بھی ہے کہ ان جماعتوں سے وابستہ اراکین پارلیمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کا ان کے ساتھ رویہ مربیانہ نہیں۔ان کے کام شام نہیں ہوتے۔

 عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوچکا ہوں۔گوشہ نشینی کے باوجود تاہم مجھے چند باخبر لوگوں سے گفتگو کے بعد یہ بھی علم ہوا کہ اتحادیوں کے علاوہ تحریک انصاف میں باقاعدہ طورپر شامل 20کے قریب اراکین پارلیمان بھی ان دنوں ناراض ہوئے بیٹھے ہیں۔ان میں سے پانچ افراد کے نام بھی مجھے معلوم ہوگئے جنہیں پرویز خٹک نے رام کرنے میں کئی گھنٹے لگائے۔ وزیر اعظم صاحب سے ان کی ملاقات کروانے کے باوجود بھی لیکن مطمئن نہیںہوئے۔شاید ایسے ہی عدم اطمینان نے حکومت کو بالآخر پہلے سے اعلان کردہ مشترکہ اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنا پڑا۔

 دنیا بھر کی پارلیمانوں میں حکومتی صفوں میں چند ناراض افراد بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔حکومت اپنی ترجیح کی قانون سازی کے لئے ان کے ناز نخرے اٹھاتی ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن کو بھی حال ہی میں کافی محنت اور ذاتی رابطوں سے ایک قانون منظور کروانا پڑا جو خطیر سرمایہ کاری سے جدید ترین سڑکیں اور مواصلاتی نظام تعمیر کرنا یقینی بناتا ہے۔وطن عزیز میں تاہم ٹھوس یا بے بنیاد وجوہات کی بنا پر شدت سے محسوس کیا جاتا ہے کہ کسی بھی وزیر اعظم کی حمایت کے لئے اراکین پارلیمان کی ایک مؤثر تعداد اپنے تئیں فیصلہ کرنے کے بجائے ایسے اشاروں کی منتظر رہتی ہے جو پارلیمان سے بالا تر اداروں کی جانب سے ملتے ہیں۔اس تاثر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک اہم ترین ریاستی عہدے پر نئی تعیناتی کے ضمن میں حال ہی میں جو تاخیر ہوئی اس نے بتدریج یہ پیغام پھیلانا شروع کردیا کہ عمرن حکومت کو ’’سیم پیج‘‘ والی سہولت میسر نہیں رہی۔ حکومت کی کشتی ڈوبتی نظر آرہی ہے۔ اس میں سوار مسافر دائیں بائیں ہونے کو مچل رہے ہیں۔

 مذکورہ تصورکو ذہن میں رکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم بھی طویل وقفے کے بعد انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا۔ اس نے ناراض ہوئی پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی روابط بحال کرنا شروع کردئیے۔بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف صاحب متحرک ہوئے تو گزشتہ منگل کے روز حکومت کو ایک نہیں دوبار قومی اسمبلی میں ہوئی ووٹنگ کے دوران شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کا سیاسی مزاج اور تاریخ تقاضہ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم دیگر ریاستی اداروں کے مقابلے میں کمزور تر ہوتا نظر نہ آئے ۔بنیادی طورپر یہ تقاضہ ہی عمران حکومت کو مجبور کئے ہوئے ہے کہ وہ ہر صورت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلائے۔وہاں عجلت میں اس کی پسند کے قوانین منظور ہوجائیں۔ لوگوں کو اس کی بدولت واضح پیغام ملے کہ عمران حکومت کہیں نہیں جارہی۔’’سیم پیج‘‘ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔اپوزیشن جماعتوں کی دال گلنے کی کوئی امید نہیں اور میڈیا میں موجود ان کے مبینہ سہولت کار بھی سرجھکائے سرکار کی بتائی خبروں اور بیانیے ہی کو فروغ دینے کے لئے دل وجان سے آمادہ ہوجائیں۔

 عمران خان صاحب نے اپنی عادت کے برعکس اتحادی جماعتوں اور ناراض اراکین سے طویل ذاتی ملاقاتیں بھی کی ہیں۔انہیں باخبر رکھنے کا مؤثر انتظام بھی اپنی جگہ قائم ہے۔میری دانست میں بدھ کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان اس امر کو یقینی بنانے کے بعد ہی ہوا ہے کہ وہاں پیش ہوئے قوانین بآسانی منظور ہوجائیں گے۔ وگرنہ یہ اجلاس ہرگز نہ بلوایا جاتا۔

اندھی نفرت وعقیدت میں بٹے قارئین کے مؤثر حلقے کو میری رائے سے شاید اتفاق نہیں ہوگا۔ عملی رپورٹر والی مشقت کا میں ان دنوں قابل نہیں رہا۔ محض سیاسی تقاضوں کی منطق کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ رائے بنائی ہے۔یہ بالآخر غلط بھی ثابت ہوسکتی ہے۔