Pakistan Mai Jeet Aur India Main Mout Ka Samaa | Ansar Abbasi

75

Ansar Abbasi Latest Column in Jang Akhbar

چمپئینز ٹرافی فائنل میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دیتے ہی سب سے پہلا کام اپنے رب کے سامنے مل کر اوول کے میدان میں سجدہ کیا اور بار بار کہا کہ اللہ تعالیٰ کا جتناشکر ادا کیا جائے وہ کم ہے جس سے اس تاریخی جیت کی خوشی دوبالا ہو گئی ۔ جب چیمپئیز ٹرافی شروع ہوئی تو پاکستان ٹیم کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس اہم ترین ٹورنامنٹ کو جیت کر ورلڈ چیمپئین بن جائے گی۔ پہلے میچ میں ہی پاکستان بھارت کے ہاتھوں اس بُرے طریقہ سے ہارا کہ ہم سوچنے لگے کیا پاکستان میں کرکٹ کا اب کوئی مستقبل بھی رہا ہے کہ نہیں۔ لیکن بعد میں جو ہم نے دیکھا اُس نے بار بار ہمیں یقین دلایا کہ واقعی اس تاریخی جیت میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل تھی۔ سری لنکا کے ساتھ اہم ترین میچ میں جس طرح پاکستانی بلے بازوں کے آسان آسان کیچ چھوٹے اُس پر بہت سوں نے کہا کہ یہ رمضان مبارک کی برکت اور قوم کی دعائوںکی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پاکستان نے سری لنکا سے اس طرح میچ جیتا کہ سرفراز احمد کو بھی کہنا پڑا کہ یہ میچ اللہ تعالیٰ نے جتوایا ورنہ پاکستان کا کھیل کوئی اتنا اچھا نہ تھا۔ اور پھر فائنل میںجو ہوا وہ ناقابل یقین تھا۔ بھارت نے ٹاس جیتا تو پاکستانی کپتان سرفراز احمدافسردہ نظر آئے جبکہ بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے سمجھا کہ وہ ٹاس نہیں بلکہ میچ جیت چکے اور یہ بھی کہہ دیا کہ بھارتی ٹیم اپنی مضبوط بلے بازوں کی وجہ سےا سکور چیز (Chase) کرنا پسند کرتے ہیں۔ پاکستان سے باہر سب انڈیا کو فیورٹ قرار دے رہے تھے جبکہ بھارتی عوام کو اپنی جیت اور پاکستان کو اس اہم ترین میچ میں شکست کا اتنا یقین تھا کہ وہ اپنے ہارنے کی تو بات ہی نہیں کر رہے تھے۔ یعنی دیکھا جا رہا تھا کہ پاکستان کو کتنے بُرے طریقہ سے شکست دی جاتی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی دعائیں کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عزت رکھنا۔ جب میچ شروع ہوا تو جلد ہی فخر زماں جنہوں نے گزشتہ چند میچوں میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا، پہلے ایک بار بڑے آسان رن آئوٹ سے بچے جبکہ اُس کے فوری بعدایک باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلتے ہوئے وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ جب وہ پچ چھوڑ کر پویلین کے طرف جانے لگے تو ایمپائر نے کہا کہ تھرڈ ایمپائر سے چیک کر لیتے ہیں کہ آیا گیند قانونی تھی بھی کہ نہیں۔ جب ایکشن ریپلے دیکھا گیا تو جس گیند پر فخر زماں آئوٹ ہوئے وہ نو بال نکلی۔ اس کے علاوہ دوسرے اوپنر اظہر علی نے کچھ ایسی بھی اونچی شارٹس کھیلیں جو اتفاقاً فیلڈ میں موجود کھلاڑیوں سے دور گریں۔محمد حفیظ جب کھیل رہے تھے تو ایک گیند وکٹوں کو لگی لیکن بیلز نہیں گریں۔ یعنی واضع نشانیاں تھیں کہ قسمت پاکستان کے ساتھ ہے۔ اور پھر پاکستان کے بلے بازوں نے جس طرح اُن بھارتی بالروں کی دھلائی کی جن کے سامنے وہ ایک دو ہفتے قبل ہی بے بس نظر آئے، تو یقین ہو گیا کہ پاکستان کی جیت یقینی ہے۔ دوسرے طرف بھارتیوں کو یقین تھا کہ اُن کے بلے باز بغیر کسی مشکل کے 339 اسکور بنا لیں گے۔ بھارتی تکبر کا یہ عالم تھا کہ ایک بھارتی کرکٹر نے تو اپنے سوشل میڈیا پیغام میں یہ تک لکھ دیا کہ اُن کے دو اوپنر اور ویرات کوہلی ایک ایک سنچری بنا کر پاکستان کو باآسانی ہرا دیں گے۔ لیکن دنیا بھر میں اپنی مضبوط بلے بازی کی وجہ سے جانے جانی والی بھارتی بیٹنگ لائن کا جو حال پاکستانی بالروں نے کیا وہ نہ کسی نے پہلے دیکھا نہ سنا۔ ایک کے بعد ایک بھارتی اسٹار بلے باز ریت کی دیوار کی طرح پاکستانی بالروں کے سامنے ایسے گرتے چلے گئے جیسے اُنہیں کھیلنا ہی نہیں آتا۔ کوہلی کا ایک کیچ چھٹا لیکن دوسری ہی گیند پر وہ کیچ آوٹ ہو گئے۔خطرہ تو یہ تھا کہ بھارت کی پوری ٹیم ایک سو رنز کے اندر اندر ہی آئوٹ ہو جائے لیکن ایک بھارتی آل رائونڈر کی وجہ سے بھارت ایک سوسے زیادہ اسکور بنانے میں کامیاب ہوا۔ اس کے باوجود شکست تاریخی تھی۔ پاکستان نے چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں 180 رنز سے کو ہرا کر بھارتی تکبر کو مٹی میں ملا دیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں نے اس جیت پر تکبر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ شکر ادا کیا۔ اس موقع پر سابق کرکٹر شعیب اختر نے بہت اچھی بات کی کہ ہم پاکستانیوں کو اپنی عاجزی کے ساتھ اس خوشی کو منانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے۔ ایک اور سابق کرکٹر اسٹار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کی جیت رمضان المبارک کے مہینے کی برکات اور قوم کی دعائوں کا نتیجہ ہے۔ یوسف نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم پورے سال اپنے رب کو رمضان المبارک کی طرح یاد کریں گے تو ہمیں ہر میدان میں ایسی ہی کامیابیاں نصیب ہوں گی۔ پاکستان کی بھارت کے خلاف اس اہم ترین جیت نے ایک طرف بھارت میں جیسے موت کا سماں پیدا کر دیا تو دوسری طرف پاکستان میں جیسے عید کا سماں ہو۔ کسی نے اس تناظر میں سوشل میڈیا میںبہت خوب لکھاکہ اس میچ نے پاکستان کے دو قومی نظریہ کی حقیقت پر ایک بار پھر مہر لگا دی۔