Paharoun Kay darmayan – Yasir Pirzada

16

پہاڑوں کا سفر ہو، رات کا وقت ہو ،سنسان راستہ ہو اور منزل نا معلوم ہو…ایسے میں دور کہیں کسی چھوٹے سے ہوٹل کی روشنیاں نظر آ جائیں تو فلمی ساسین بن جاتا ہے ۔جب ہم لاہور سے نکلے تھے تو منزل معلوم تھی ،ارادہ تھا کہ اسلام آباد سے ہوتے ہوئے سر شام نتھیا گلی پہنچیں گے اور وہاں ڈاک بنگلے میں رات بسر کریں گے ۔محکمہ ڈاک نے اب اپنے ’بنگلے ‘کرایے پر دینے شروع کر دئیے ہیں ، مختلف شہروں میں یہ ریسٹ ہاؤس موجود ہیں ،آپ نہایت کم داموں میں اِن جگہوں پر قیام کر سکتے ہیں ۔ ڈاک والوں نے سہولتوں کے اعتبار سے اِن کی درجہ بندی بھی کر رکھی ہے، اے ،بی اور سی۔نتھیا گلی والا اے کلاس تھا سو ہم نے سوچا کہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں،’من دیدن تو شنیدن ‘(فارسی کا کوئی جملہ اگر مضمون میں اٹکا دیا جائے تو تحریر رعب دار ہو جاتی ہے چاہے جملہ بے معنی و بے محل ہی کیوں نہ ہو)۔لاہور سے نکلتے نکلتے دوپہر ہو گئی اور اسلام آباد پہنچے پہنچتے پہنچتے شام ۔وہاں ایک چھوٹا سا کام نمٹایا اور پھر حسب روایت ایک ’ایگزٹ ‘ غلط لے لیا جس سے مزید ڈیڑھ گھنٹہ ضائع ہو گیا ۔راستہ بھٹکنے کی عادت ہماری کافی پرانی ہے اور اب ہم اِس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اگر کبھی صحیح راستے کے ذریعے بروقت منزل پر پہنچ جائیں تو ہمراہی باقاعدہ ہمیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔مری سے نتھیا گلی کا سفر اگر دن میں ہو تو چاروں طرف پھیلے صنوبر کے درخت اور ان پر تیرتے ہوئے بادل ایک عجب سماں باندھ دیتے ہیں، یہ پورا راستہ رومان انگیز بھی ہے اور پر رونق بھی۔ رات کے وقت البتہ ماحول یکسر بدل جاتا ہے اور یہی راستہ کہیں بالکل سنسان اور ویران ہو جاتا ہے لیکن کوئی گلیات کا کوئی مقام آتا ہے وہاں یکدم روشنیاں جگمگا اٹھتی ہیں۔ ڈونگا گلی اور نتھیا گلی جیسی جگہیں اب وہ نہیں رہیں جو آج سے آٹھ دس سال قبل ہوا کرتی تھیں، اب یہاں کھانے پینے کے کئی ’برینڈز‘ آ چکے ہیں، اِن جگہوں پر ’شہری مسافروں ‘ (urban travellers) کی آسائشیں مد نظر رکھ کر نئے ہوٹل بھی کھولے گئے ہیں جو مہنگے ہونے کے باوجود کامیاب ہیں ۔ اسی لئے رات کو جب ویران پہاڑی راستوں سے ہوتے ہوئے ہم ڈونگا گلی سے گزرے تو ایسے لگا جیسے جنگل میں منگل کا سماں ہو، وہاں جدید کیفے اور ریستورانوں میں زندگی رواں دواں تھی۔

نتھیا گلی کے ڈاک بنگلے میں پہنچ کر البتہ ہمیں خاصی مایوسی ہوئی ۔ وہاں کا عملہ تو بہت مستعد اور خوش اخلاق تھا مگر اُنہیں خوش اخلاقی کے دس بٹا دس نمبر دینے کے باوجود ہم کمرے کو دس میں سے دو نمبر بھی نہ دے سکے ۔سمجھ نہیں آئی کہ محکمہ ڈاک کے کس بقراط نے اِس ریسٹ ہاؤس کو درجہ اول میں رکھا ہے ، اگر یہ درجہ اول ہے تو درجہ سوم نہ جانے کیا ہوگا! ہم نے ڈاک بنگلے میں قیام کا ارادہ ترک کیا اور نتھیا گلی کے پر رونق بازار سے کابلی پلاؤ اور مغز مصالحہ کھانے کے بعد فیصلہ کیا کہ رات کسی اچھے سے ہوٹل میں گزاری جائے ۔نتھیا گلی کا جو ہوٹل ہمیں پسند آیا اُس میں جگہ نہیں تھی سو ہم نے گاڑی واپس مری کی طرف موڑ دی ۔نتھیا گلی کی روشنیاں ختم ہوتے ہی راستہ پھر سے ویران ہو گیا ۔ چند کلومیٹر تک ایسے ہی رہا اور پھر دور ہمیں ایک چھوٹے سے ہوٹل کی روشنیاں نظر آئیں ۔ اس کے ارد گرد ویرانہ تھا۔ میں نے گاڑی ہوٹل کے باہر کھڑی کی ، استقبالیے پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا، میں نے پوچھا کہ آج رات کے لئے کمرہ ملے گا ۔ اُس نے مسکرا کر جواب دیا ’بالکل ملے گا ، سر۔ ‘ میں نے بھی جواباً خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سگریٹ سلگا لیا۔مجھے سگریٹ پیتے دیکھ کر اُس بکنگ کلرک کے چہرے کا رنگ یکدم بدل گیا اور اُس نے فورا ً مجھے منع کرتے ہوئے کہا کہ سر پورا ہوٹل ’نو سموکنگ ‘ ہے، آپ یہاں سگریٹ نہیں پی سکتے ۔اُس کا یہ کہنا تھا کہ مجھے فلم ’ڈرنا منع ہے ‘ کا ایک سین یاد آ گیا جس میں سیف علی خان ایک طویل سفر کے بعد ایسے ہی ایک ویران سے ہوٹل میں ٹھہرتا ہے جہاں بکنگ کلر ک اسے سگریٹ نوشی سے منع کرتے ہوئے جان سے مار دینے تک کی دھمکی دے ڈالتا ہے۔ میں نے فوراً سگریٹ بجھایا اور بکنگ کلرک سے معذرت کرکے ہوٹل سے نکل آیا۔اُس کے بعد ہم نے مری جا کر ہی دم لیا۔

اگلے روز ہمارا ارادہ ایوبیہ نیشنل پارک دیکھنے کا تھا ، اسی ارادے کے تحت جب ایوبیہ پہنچے تو ایک مرد مقامی نے بتایا کہ پارک تک جانے کےلئے گاڑی نیچے اڈے پر کھڑی کرکے چار کلومیٹر پیدل چلنا ہوگا ہمیں سیاحت کا شوق ضرور ہے مگر بقول محبی سبوخ سید’ ایسی الف لیلوی سیاحت جس میں ہم ایک بٹن دبائیں اور من پسند مقام پر پہنچ جائیں ‘۔نیشنل پارک جانے کی بجائے ہم نے گاڑ ی ایوبیہ کے پی ٹی ڈی سی موٹل کی طرف موڑ دی،یہ موٹل ایک طرح سے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے مگر افسوس کہ یہ اب بند ہو چکا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ دو سال سے پی ٹی ڈی سی کے تمام ہوٹل اسی طرح بند پڑے ہیں ، پانچ سو ملازمین میں سے ساڑھے چار سو ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے،منصوبہ یہ تھا کہ اِن ہوٹلوں کو صوبوں کے سپرد کرکے نجی کمپنیوں کو لیز پر دے دیا جائے مگر یہ کام اب تک نہیں ہوا۔ پورے پاکستان میں پی ٹی ڈی سی کے موٹل بہترین مقامات پر واقع ہیں اور سب کو تالے لگے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اِن ہوٹلوں کو بند کرنے کی بجائے اُس وقت تک فعال رکھا جاتا جب تک لیز کا عمل مکمل نہ ہو جاتا۔

مری سے ہمارا رومانس بچپن کے عشق کی طرح ہے ، جس سے شادی اگر نہ بھی ہو تو پیار ختم نہیں ہوتا۔حال ہی میں عمر مختار خان کی کتا ب Once upon a time in Murree نظر سے گزری تو اندازہ ہوا کہ مری سے عشق خواہ مخواہ نہیں ، یہ شہر تو اپنے اندر تاریخ کا ایک خزانہ لیے ہوئے ہے، ہم نے تو کبھی اِس شہر کو یوں نہیں دیکھا جیسا عمر مختارنے ہمیں اِس کتاب میں دکھایا ہے۔عمر مختار ایک سمارٹ سرکاری ملازم ہیں اور پاکستان کے سیاحتی مقامات پر ان کی تحریریں اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں ، یہ کتاب انہوں نے خصوصی چاہت سے لکھی ہے ، اِس کتاب کے مطابق مری کی تفصیلی سیر کرنے کے لئے کم از کم ایک ماہ چاہئے جو ہمارے پاس نہیں تھا سوہم مری کو الوداع کہہ کر لاہور واپس آ رہے ہیں کہ لاہور ہی ہمار ی اصل محبوبہ ہے۔