Oppsition Hakumat Kay Trap Main – Nusrat Javed

29

بارہا اس کالم کے ذریعے التجا کرتا رہا ہوں کہ میری ناقص رائے میں وطن عزیز کا سیاسی منظر کافی دنوں تک ویسا ہی رہنا ہے جو جولائی 2018کے انتخابات کے ذ ریعے بنادیا گیا ہے۔ہمارے میڈیامیں تاہم ’’حرکت تیز تر ہے…‘‘ والا ماحول اکثر بنادیا جاتا ہے۔اپوزیشن جماعتیں ’’کلیم اللہ سے سمیع اللہ‘‘ کو گیند دیتے ہوئے ’’گول‘‘ کی جانب بھاگتی نظر آتی ہیں۔بالآخر مگر Self Goalکی کیفیت سے دو چار ہوتی ہیں۔ حال ہی میں کلبھوشن جادو سے متعلق قانون سازی کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف بنائے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بھی بہت شوربرپارہا۔عمران حکومت نے کمال ہوشیاری سے مگر پیغام یہ دیا کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کی ’’بلیک لسٹ‘‘ سے بچانے پر توجہ دینے کے بجائے اپوزیشن جماعتیں اپنے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو احتساب سے محفوظ رکھنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ ’’کپتان‘ مگر ڈٹ گیا۔اس ضمن میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ اپوزیشن اس کے برعکس اپنی ’’حب الوطنی‘‘ ثابت کرنے کو مجبور ہوگئی۔ اس کے بعد وزیر اعظم عید منانے نتھیاگلی چلے گئے۔شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے پاس عمران حکومت کے مخالفین کو امید دلانے کی گنجائش موجود نہ رہی۔ وہ دونوں اس حکومت کو پارلیمانی دائوپیچ کے ذریعے کمزور کر نے چلے تھے مگر ’’منزل‘‘ کی جانب بڑھتے ہوئے مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کو ناراض کربیٹھے۔ سینٹ کے اجلاس میں کھڑے ہوکر مولانا کے سینیٹربھائی عطاء الرحمن صاحب نے بلکہ ان کی جماعتوں کو عمران حکومت کی ’’سہولت کار‘‘ قرار دیا۔ ان کی تقریر نے تحریک انصاف کے فیصل جاوید کو حوصلہ بخشا کہ اعلان فرمادیں کہ حکومت میں پانچ سالہ آئینی مدت پورا کرنے کے بعد تحریک انصاف 2023کے انتخابات مزید اکثریت سے جیت کر اقتدار میں واپس لوٹے گی۔ماحول ایسا بناکہ تحریک انصاف کے ایک اور سینئر جناب محسن عزیز صاحب نے نہایت سنجیدگی سے عمران خان صاحب کو ’’نعمتِ خداوندی‘‘ پکارا۔ اس نعمت کی بدولت ہمیں ’’موروثی سیاست‘‘ سے نجات ملی۔عمران خان پر ربّ کریم کی مہربانی کا بہت بڑا ثبوت ان کی نظر میں یہ بھی ہے کہ حکومت کو ’’شہباز شریف اور بلاول بھٹو جیسے‘‘ اپوزیشن رہ نما نصیب ہوئے ہیں۔عمران خان صاحب کے علاوہ ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب کی ’’خوش بختی‘‘ کے چرچے بھی تواتر سے ہورہے ہیں۔ مذکورہ بالا صورت حال کو نگاہ میں رکھیں تو مجھ جیسا کالم نگار ہفتے کے پانچ روز صبح اُٹھ کر کولھو کے بیل کی طرح دائرے ہی میں سفر کرنے کو مجبور ہے۔ ایک ہی موضوع پر کچھ نیا لکھنے کی ’’گنجائش ہی نظر نہیں آتی۔کئی بار عہد باندھا کہ سیاست پر یاوہ گوئی سے گریز کیا جائے۔کتابوں کا ذکر ہو،فلموں پر تبصرہ آرائی کی جانب رُخ کیا جائے۔موضوعات اس کے علاوہ بھی بے شمار ہیں ۔’’خوفِ فساد خلق‘‘ کے علاوہ ’’حساس‘‘ گفتگو سے پرہیز والی احتیاط ’’اس گلی‘‘ میں داخل ہونے سے مگر روکتی ہے۔ اپنی ’’محدودات‘‘ کی فکر میں مبتلا ذہن نے عید کی چھٹیوں میں ’’الف لیلہ‘‘ میں بیان کردہ کہانیوں کی جانب مائل کیا۔ ان کہانیوں کی تخلیق ایک ظالم بادشاہ کے باعث ممکن ہوئی۔ اپنی بیوی کی بے وفائی سے مشتعل ہوکر وہ اپنی ہر نئی بیوی کو اس کے ساتھ ایک رات گزارنے کے بعد قتل کردیتا تھا۔اس کی سفاک عادت کے باعث شہر کنواری خواتین سے خالی ہونا شروع ہوگیا۔بالآخراس کے وزیر کی بیٹی سے بیاہ ہوا۔اس خاتون نے ہر شب ایک داستان سنانا شروع کردی۔وہ کہانی کسی ڈرامائی موڑ پر پہنچتی توصبح ہوجاتی۔ بادشاہ کے دل ودماغ میں امڈے تجسس کے باعث اسے زندہ رہنے کو ایک اور دن مل جاتا۔یہ سلسلہ ایک ہزار داستانوں تک جاری رہا۔داستان گو شہر زاد کی بابت سوچا تو خیال یہ بھی آیا کہ مجھ جیسے کالم نگار بھی ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھ کر ایک کہانی بننے کی کوشش ہی کرتے ہیں۔کاوش یہ ہوتی ہے کہ وہ قارئین کو پسند آئے ۔ وہ سوشل میڈیاپر نمودار ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ Likesملے۔ اسے بھاری تعداد میں Shareکیا جائے۔ ہمارے ہاں جو سیاسی منظر مگر جولائی 2018کے انتخاب نے بنایا ہے اس میں ’’تجسس‘‘ پیدا کرنے کی گنجائش موجود نہیں رہی۔گیند ہر بار ’’کلیم اللہ سے سمیع اللہ‘‘ کو ملتا رہے۔بہت دوڑ دھوپ کے بعد Self Goalہی مقدر ہو تو ’’نیا‘‘ کہاں سے وارد ہوگا۔’’الف لیلہ‘‘ میں بیان کردہ کئی داستانیں پڑھتے ہوئے اگرچہ خیال یہ بھی آیا اس میں شامل بے شمار کہانیاں ایسے مناظر اجاگر کرتی ہیں جنہیں پنجاب اسمبلی میں حال ہی میں منظور ہوئے قانون کے معیار کے مطابق پرکھا جائے تو ہمارے ذہنوں کو ’’گمراہ‘‘ کرتی محسوس ہوں گی۔ان کی اشاعت خلافِ قانون شمار ہونا چاہیے۔ یہ دلیل کام نہیں آئے گی کہ ’’الف لیلہ‘‘ اسلام دشمنوں نے کسی سازش کے تحت نہیں لکھوائی تھی۔ یہ کئی صدیوں سے بلکہ ’’مسلم ثقافت‘‘ کا شاہکار شمار ہوتی رہی ہے۔انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں لکھنے والے کئی نامور شاعروں ،ناول نگاروں اور ڈرامہ نویسوں نے بلکہ اس میں استعمال ہوئے استعاروں سے اپنی تخلیق صلاحیتوں کو جلابخشی۔علی بابا چالیس چور سند باد جہازی اور الہ دین کا چراغ ہالی وڈ کی باکس آفس پر ہٹ ہوئی فلموں کا باعث ہوئے۔مجھے شبہ ہے کہ ہمارے اخلاق اور تہذیب کو محفوظ رکھنے کی فکر میں مبتلا افراد نے ’’ہزار داستان‘‘ ہرگز نہیں پڑھی۔ عید کی چھٹیوں میں اسے پڑھتے ہوئے میں نے بے شمار حصوں کو نشان زدکیا ہے۔معقول معاوضے کا وعدہ ہو تو میں انہیں اپنی ’’تہذیب کے محافظوں‘‘ کے سپرد کرسکتا ہوں۔ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے ’’خواتین کے حقوق‘‘ کا تحفظ یقینی بنانے کی کاوشیں بھی ہورہی ہیں۔ان کاوشوں میں مبتلا افراد کو حقارت سے ’’مغرب زدہ‘‘ اور ’’خونی لبرل‘‘ پکارا جاتا ہے ۔یہ گروہ Politically Correctزبان استعمال کرنے پر بہت زور دیتا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ اس گروہ سے منسلک افراد نے بھی ’’ہزار داستان‘‘ کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا۔ ’’ہزار داستان‘‘ میں خواتین ’’بدی‘‘ کی علامتیں ہیں۔ ’’دھوکہ‘‘ ان کے لباس میں پوشیدہ بتایا گیا ہے۔بادشاہ کی پہلی بیوی اگر بے وفا نہ ہوتی تو بے چاری شہر زاد کو فقط ایک اور رات کی مہلت حاصل کرنے کے لئے تجسس کا تلاطم برپا کرنے والی ایک ہزار داستانیں سوچنے اور انہیں مخاطب کی توجہ پر غالب آنے والے بیان کی مہارت والی مشقت نہ اٹھانا پڑتی۔’’ہزار داستان‘‘ کو ’’پدرسری‘‘ کے خلاف مؤثر بیانیہ تخلیق کرنے کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ کم از کم میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ ’’پدرسری‘‘ والی اصطلاح کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔بہت سے عام پاکستانیوں کی طرح 2017سے میں صرف ایک ہی ’’سری‘‘ سے واقف ہوں جس کا چرچہ ایک تحریک کے دوران ہوا تھا۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ ’’پدرسری‘‘ ایک انگریزی اصطلاح Patriarchyکا لغوی ترجمہ ہے۔یہ کالم ختم کرنے کے قریب پہنچا ہوں تو خیال آیا ہے کہ دورِ حاضر کتابوں کا نہیں رہا۔ Digitalہوچکا ہے۔کہانیاں اب ٹی وی سکرین کے لئے تیار ہوتی ہیں۔وہاں چند Showsکے سیزن ہوتے ہیں۔مجھ بڈھے نے ابھی تک مگر وائٹ ہائوس سے متعلق House of Cardsہی دیکھا تھا۔ عید کی چھٹیوں میں ’’ہزار داستان‘‘ سے وقفہ لیتا تو اپنے ٹی وی پر USB Flash Driveکے ذریعے Home Landدیکھنا شروع کردیتا۔

گزشتہ اپریل میں اس کا آٹھواں (8th)سیزن ختم ہوا ہے۔اس کی آخری اقساط کو غور سے دیکھیں تو دریافت ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ تیار کرنے والوں نے اس امکان سے کھیلا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان افغانستان کے حوالے سے ایٹمی جنگ برپا ہوسکتی تھی۔وائٹ ہائوس اور سی آئی اے کی اجتماعی سوچ کے برخلاف ’’ہوم لینڈ‘‘ کے دو مرکزی کردار متوقع جنگ کو روکنے کے لئے بے تحاشہ مصائب سے دو چار ہوتے ہیں۔میری تحقیق کے مطابق ’’ہوم لینڈ‘‘ کی تیاری میں سی آئی اے نے کافی معاونت فراہم کی تھی۔گزشتہ برس کی جولائی میں امریکی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم کے مابین مگر ایک ’’دوستانہ‘‘ملاقات بھی ہوئی تھی۔اس ملاقات کے طفیل طالبان اور امریکہ کے مابین ’’کامیاب‘‘ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔سوال میرے ذہن میں اب یہ گردش کئے جارہا ہے کہ ایسی ’’کامیابی‘‘ کے باوجود اپریل 2020میں یہ پیغام کیوں دیا گیا ہے کہ افغانستان کے تناظر میں امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے خلاف ’’ایٹمی معرکہ‘‘ بھی برپا کرسکتے ہیں۔ کافی غور کے باوجود میں کوئی تسلی بخش جواب دریافت نہیں کرپایا ہوں۔