Not Possible – Irshad Bhatti

33

ہم غلاموں کے ہاں آقاؤں کا احتساب، یہ ہوا نہ کبھی ہوگا، اک ٹریلر ملاحظہ ہو، خاندانِ شریفاں، بات چلی کہاں سے، پہنچ گئی کہاں پر، چند منٹ کی توجہ چاہئے،

4اپریل 2016، پاناما لیکس، 5اپریل 2016، وزیراعظم نواز شریف کا قوم سے خطاب، آئیں بائیں شائیں، سپریم کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اعلان، 10اپریل 2016، عمران خان کا معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کا اعلان، 30اپریل 2016، بلاول بھٹو کا وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ، 16مئی 2016، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع والی تقریر،

24جون 2016، پاکستان تحریک انصاف کا وزیراعظم نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن میں اٹھانا، 24اگست 2016، جماعت اسلامی کی سپریم کورٹ میں نواز شریف نااہلی کی درخواست، 29اگست 2016، نواز شریف نااہلی کیلئے پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانا، 20اکتوبر 2016، سپریم کورٹ کا نواز شریف نااہلی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیدینا، 28اکتوبر 2016، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں لارجر بنچ بننا، یکم نومبر 2016، سپریم کورٹ کا حکومت، تحریک انصاف سے ٹی او آرز طلب کرنا، 7نومبر 2016، وزیراعظم نواز شریف کے تینوں بچوں کا سپریم کورٹ میں جواب جمع کرانا، 14نومبر 2016، تحریک انصاف کا سپریم کورٹ میں ثبوت جمع کرانا، 9دسمبر 2016، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا ریٹائرمنٹ قریب آنے پر لارجر بنچ سے علیحدہ ہونا، 4جنوری 2017، جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بنچ بننا، مقدمے کی از سر نو سماعت شروع ہونا۔

17جنوری 2017، مریم نواز کا جواب داخل کرانا، 26جنوری 2017، قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم کا خط عدالت میں پیش ہونا، 23فروری 2017، سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ، 20اپریل 2017، 540صفحات کا فیصلہ، دو جج صاحبان کا نواز شریف کو نااہل قرار دینا، 3جج صاحبان کا مزید تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کرنا، 3مئی 2017، چھ ممبران پر مشتمل جے آئی ٹی کا بننا، 6مئی کو جے آئی ٹی کا کام شروع کرنا، جے آئی ٹی کے 59اجلاس، نواز شریف، اہلِ خانہ سمیت 23افراد سے تفتیش، 22مئی 2017، جے آئی ٹی کی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع، 3جون 2017، حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی، 5جون 2017، جے آئی ٹی کو حدیبیہ ریکارڈ ملنا اور قطری خط پر تحقیقات کا آغاز ہونا، 15جون 2017، نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے 3گھنٹے پیشی، 17جون 2017، شہباز شریف کی 4گھنٹوں پر مشتمل جے آئی ٹی پیشی، 3جولائی 2017، اسحٰق ڈار کی پیشی، 5جولائی 2017، مریم نواز کی پیشی، 7جولائی 2017، قطری شہزادے کا جے آئی ٹی ارکان کو قطر اپنے محل، دفتر میں آکر تفتیش کا کہنا، قطری شہزادے کا پاکستان یا پاکستانی سفارتخانے آنے سے انکار، 10جولائی 2017،10 والیمز پر مشتمل جے آئی ٹی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانا۔

17جولائی 2017، سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالتی کارروائی شروع ہونا، 28جولائی 2017، 5رکنی بنچ کا 25صفحاتی فیصلے میں نواز شریف کو نااہل قرار دینا، 15ستمبر کو نظرثانی مختصر فیصلہ، 7نومبر 2017، 123صفحات کا تفصیلی فیصلہ، نواز شریف انکے بچوں کے خلاف 3ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کرنے کا حکم، 8ستمبر 2017، احتساب عدالت میں ایون فیلڈ، العزیزیہ ،فلیگ شپ ریفرنسز دائر ہونا، 6جولائی 2018، ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ، نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو سزائیں، 13جولائی 2018، نواز شریف، مریم نواز کی گرفتاری، 19ستمبر 2018، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کا ایون فیلڈ میں ضمانت ہو جانا، 23دسمبر 2018، العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ، نواز شریف کا فلیگ شپ میں ٹیکنیکل بنیادوں پر بری ہو جانا، العزیزیہ میں سزا ہو جانا، کمرہ عدالت سے گرفتاری، 26مارچ 2019، طبی بنیادوں پر 6ہفتے کا ریلیف ملنا، 8 اگست 2019، مریم نواز کا چوہدری شوگر مل میں گرفتار ہونا، 25ستمبر 2019، مریم نواز کا جوڈیشل ہونا، 4نومبر 2019، مریم نواز کی ضمانت ہونا، 10اکتوبر 2019،نواز شریف کا چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار ہونا، 25اکتوبر 2019، لاہور ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور ہونا، 29اکتوبر 2019،العزیزیہ کیس، طبی بنیادوں پر 8ہفتے کا ریلیف۔

یہاں یہ بھی یاد رہے، نواز شریف کیخلاف ایون فیلڈ، العزیزیہ، فلیگ شپ، نیب ریفرنسز کی کل 183سماعتیں ہوئیں، نواز شریف 130بار پیشیوں پر آئے، 49سماعتوں پر حاضری سے استشنیٰ ملا، 65 پیشیوں پر نواز شریف کے ساتھ مریم نواز بھی آئیں، نواز شریف 70بار احتساب عدالت ایک میں جج محمد بشیر کے سامنے پیش ہوئے،

60بار احتساب عدالت دو میں جج ارشد ملک کے سامنے پیش ہوئے، ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد نواز شریف کو 15بار اڈیالہ سے عدالت میں پیش کیا گیا، اب صورتحال یہ، نااہل نواز شریف ایون فیلڈ، العزیزیہ، چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت پر، فلیگ شپ میں ٹیکنیکل بنیادوں پر بری، مریم نواز ایون فیلڈ، چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت پر، ایون فیلڈ کیس میں کیپٹن صفدر ضمانت پر، حسن نواز، حسین نواز مفرور، باقی 4اپریل 2016ء سے آج 7نومبر 2019کے دوران کیا کیا جھوٹ بولے جا چکے، کیا کیا فراڈ ہوئے، کیا کیا جعلسازیاں کی گئیں، عدلیہ، فوج پر کیا کیا چڑھائیاں ہوئیں، وہ سب کے سامنے، اس پر کیا بات کرنی۔

ہاں جو بات کرنی وہ یہ، یہ ہے ایک شاہی ٹبرکا احتساب خلاصہ، آسمان سے تارے توڑ لانے سے بات شروع ہوئی، تین ساڑھے تین برسوں میں ملکی نظام کو دن میں تارے نظر آگئے، کوئی گواہ، ثبوت نہ منی ٹریل مگر سب باہر، گوکہ مایوسی گناہ، لیکن یہ اک حقیقت ہمارا قانون، عدالتی نظام، معاشرہ اس قابل نہیں کہ کسی بڑے مجرم کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں، کسی بااختیار کو زیادہ دیر جیل میں رکھ سکیں، یہ نظام گل سڑ چکا، یہ بدبودار نظام صرف جیب کتروںاور غریبوں، بے بسوں کو چھتر مارنے جوگا رہ گیا، سماج ایسا، پیسے والا قاتل بھی ہو تو معصوم، طاقت والا ڈاکو بھی ہو تو بےگناہ، اوپر سے نظریہ لیس، اصول لیس، اخلاقیات لیس بنارسی ٹھگوں کا ایکا، سب ایک دوسرے کے محافظ، لہٰذا احتساب یا کچھ حاصل وصول، ناٹ پاسیبل۔