Nation Building Nahi Image Building – Hassan Nisar

40

گتے کا گلیڈی ایٹر کرونا سے دو دو ہاتھ کرنے لندن سے پاکستان پہنچنے والا ہے جس کے بعد گھمسان کا رن پڑے گا۔ کرونا کے کشتوں کے پشتے لگ جائیں گے اور ’’فاتح ڈینگی‘‘ کے بعد اسے ’’فاتح کرونا‘‘ بھی تسلیم کر لیا جائے گا۔

یہ علیحدہ بات کہ ٹی ٹیاں بدستور اپنی جگہ قائم رہیں گی اور عوام ڈیوڈ روز VSشہباز شریف کیس کے فیصلہ کا شدت سے انتظار کریں گے۔یہ بیان بھی بہت دلچسپ اور خاصا فلمی سا ہے کہ ’’قائد نے کہا کہ میری پروا نہ کرو، میری فکر نہ کرو بلکہ جا کر عوام کے شانہ بشانہ کرونا کا مقابلہ کرو‘‘۔

واقعی دونوں بھائیوں کی عوام اور پاکستان سے محبت بےمثال ہے اور یہ ہر وقت اپنا سب کچھ عوام پر ’’نچھاور‘‘ کرنے کیلئے بےچین و بےتاب رہتے ہیں، چاہے ان کو اہلخانہ سمیت جدے اور لندن ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

عوام بھی جواباً انہیں ٹوٹ کر بلکہ ٹوٹ پھوٹ کر چاہتے ہیں ورنہ اپنے پیٹ کاٹ کاٹ کر ان دونوں کی سیکورٹی اور کیمپ آفسز پر چودہ ارب روپے سے زیادہ خرچ نہ کرتے لیکن کچھ ایسے تھڑ دلے بھی ہیں جن کے نزدیک ’’واپسی‘‘ کے پیچھے پا’’نیشن بلڈنگ‘‘ نہیں ’’امیج بلڈنگ‘‘رٹی کے بگڑتے حالات ہیں۔

کرونا نہیں سیاسی سروائیول کی جنگ ہے لیکن میرے خالی دماغ میں کچھ اور ہی قسم کے سوالات کلبلا رہے ہیں مثلاً:عوام اپیلوں پر کان کیوں نہیں دھر رہے؟صحیح معنوں میں باشعور ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دے رہے؟اسپتالوں پر کسمپرسی کیوں طاری ہے؟وہ ناکافی اور ’’نہتے‘‘ ہونے کے سبب آئیں، بائیں، شائیں کیوں کر رہے ہیں؟ایمرجنسی کے سے عالم میں بھی ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری کیوں بڑھ رہی ہے؟

’’صفائی نصف ایمان‘‘ والے ریمائنڈرز کے باوجود غلاظت کے ڈھیر کیوں بڑھ رہے ہیں؟آبادی کی مناسبت سے اسپتالوں، ڈسپنسریوں، لیبارٹریوں اور طبی عملے کی تعداد خطرناک حد تک کم کیوں ہے؟ایسے بےشمار سوالوں کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ ان لوگوں کی تمام تر ترجیحات ہی سفاکانہ خود غرضی سے لتھڑی ہوئی تھیں۔

’’مجھے یاد ہے وہ ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘‘ کہ برسوں پہلے جب میٹرو ڈرامہ کا آغاز ہوا تو میں نے اس بیمار اپروچ کے خلاف اتنے کالم لکھے کہ میرے ذاتی دوست بھی بور ہو گئے لیکن میرا ماتم اور تھا کہ بھائی لوگو! یہ اوور ہیڈز، یہ انڈر پاسز، یہ سڑکیں، یہ میٹروز، یہ اورنج ٹرینیں بہت اچھی اور ضروری ہیں لیکن فی الحال یہ سارے کام بےوقت کی راگنی کیونکہ عوام کی بنیادی ضرورتیں بالکل ہی کچھ اور ہیں… انہیں ضرورت ہے صاف پانی کی، ان کے بچوں کو ضرورت ہے مناسب سکولوں کی، ان کے مریضوں کو ضرورت ہے اسپتالوں، ڈسپنسریوں، لیبارٹریوں، ان کی تعداد میں اضافہ اور اپ گریڈیشن کی ورنہ یہ سب کچھ بکواس اور بیکار ہے۔

یہاں تک بھی لکھا کہ اس قسم کے قبل از وقت ہائی پروفائل پراجیکٹس میں پیسہ عوام کا، کمیشن حکمران کا، پلاننگ پروفیشنلز کی ہوتی ہے، حکمران کا کوئی کمال نہیں ہوتا کیونکہ حکمران کا اصل چیلنج اور آزمائش ہوتی ہے انسان سازی۔ وژنری حکمران ہوتا ہی وہ ہے جو اپنے عہد کے تقاضوں اور اپنی ضرورتوں کے مطابق سٹریٹیجی بناتا ہے لیکن یہ لوگ گندی سیاست چمکانے اور ووٹ بینک کو مصنوعی انداز میں بڑھانے پر بےتحاشہ پیسہ، انرجی اور وقت برباد کر رہے ہیں۔

نہ دوا نہ غذا، نہ علم نہ علاج لیکن رائیڈ اورنج اور میٹرو کی لینی ہے تو لعنت ایسی حکمتِ عملی پر… خدا کا واسطہ ہے ذرا سوچو تو سہی آرسینک ملا، زہریلا، گندا پانی پی کر ہیپاٹائٹس سے آنکھ مچولی کھیلتے عوام اورنج ٹریٹوں میں کیسے لگیں گے؟ ہم تو وہ لوگ ہیں جو صدیوں اس شعر سے لطف انداز ہوتے رہے؎باراں دروازے تیرہ میلےگھر جاواں میں کیہڑے ویلےبےتحاشہ ضرورت تھی انسان سازی یعنی تعلیم و تربیت کی لیکن انہیں ووٹ بینک کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

یہ ’’نیشن بلڈنگ‘‘ نہیں ’’امیج بلڈنگ‘‘ پر فوکس کرتے ہیں۔ میں نے تو یہاں تک بھی لکھا کہ ’’مجھ جاہل، اجڈ، گنوار کو عمدہ سڑک دینے سے پہلے اسے استعمال کرنے کی تمیز دو‘‘ لیکن جن کی عقلوں پر کرنسی نوٹوں کے پردے پڑے ہوں، انہیں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ سکوں اور پائیل کی جھنکار میں منطق کی چیخ وپکار کا دب جانا قابلِ فہم ہے۔

لاک ڈائون بھی ضروری ہے لیکن ہم اپنے اقتصادی حالات کے باعث یہ ’’عیاشی‘‘ افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔ خطِ غربت کے مکین جو ایک وقت کی کھانے کے بعد دوسرے وقت کی روٹی کیلئے سوچنا شروع کر دیتے ہیں، ابنارمل کیا نارمل حالات سے نمٹنے کی تربیت بھی نہیں رکھتے… ایمرجنسی تو دور کی بات ہے