Nasloun Ny Saza Pae Aur Paien Gi – Hassan Nisar

20

اہم خبریںادارتی صفحہاسپورٹسیورپ سےدنیا بھر سےملک بھر سےشہر قائد/ شہر کی آوازدل لگیبزنستعلیم صحت خواتینسندھ بھر سےمراسلات
برسوں پرانی بات ہے۔ مال روڈ کے پہلو میں شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کا ایک مرکز ہوتا تھا جو معاشرہ کی ’’کریم‘‘ کا جانا پہچانا گڑھ تھا، جس کی شہرت بھارت تک پھیلی ہوئی تھی۔

شاعر، ادیب، صحافی، مصور وغیرہ تو کیا اس کے مالکان ہی نہیں بیرے بھی سلیبریٹز سے کم نہ تھے۔ اس کہکشاں کے ستاروں کا ذکر کیا، صرف نام ہی لکھوں تو کئی کالم درکار ہوں گے۔ نام تھا اس کا ’’پاک ٹی ہائوس‘‘ جو قیام پاکستان سے پہلے ’’انڈیاٹی ہائوس‘‘ کہلاتا تھا۔

خود میری زندگی میں ’’پاک ٹی ہائوس‘‘ کا کردار فیصلہ کن رہا کیونکہ اس کے ساتھ ہی ’’وائی ایم سی اے‘‘ میں حلقۂ ارباب ذوق کے اجلاس ہوا کرتے جہاں میری نظم سن کر سرور بھائی یعنی سرور سکھیرا صاحب نے مجھے ’’دھنک‘‘ جوائن کرنے کی دعوت دی۔

اس ماہنامہ نے صحافت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جس پر ’’پی ایچ ڈی‘‘ بھی ہو تو کم ہے کیونکہ سرور سکھیرا صاحب کی قیادت میں اس میگزین نے ماہناموں کا ٹرینڈ ہی تبدیل کردیا لیکن اس وقت میرا موضوع ’’دھنک‘‘ نہیں۔

دانائی اور تخلیق کا یہ مرکز ہے جہاں تخلیق کاروں کا ہجوم رہتا تھا لیکن اس محترم مقدس مقام کا ’’کلچر‘‘ کیا تھا؟؟؟ یہی میرا آج کا موضوع ہے جس کا مقصد خود احتسابی ہے۔ اس دور کا ہر جینوئن شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ جو کچھ میں لکھنے جا رہا ہوں اس کا ایک ایک حرف صداقت بلکہ سفاک صداقت پر مبنی ہے۔

ہوتا یہ تھا کہ لوگ رات گئے دیر تک بیٹھے رہتے اور زبان زدعام یہ تھا کہ ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ ’’پاک ٹی ہائوس‘‘ بند ہونے کے بعد ہی وہاں سے اٹھے کیونکہ پہلے اٹھ گیا تو پیٹھ پیچھے ’’غیبت‘‘ کا غلیظ سیشن شروع ہو جائے گا جس میں اس کے ’’رفقا‘‘ بھی پیش پیش ہوں گے، اس کی کمزوریاں ڈسکس کی جائیں گی، اس کا مذاق اڑایا جائے گا، فقرے چست کئے جائیں گے، جگتیں ماری جائیں گی۔

یہ تو حال تھا 40،45 سال پہلے ہماری ’’انٹلکچوئیل ایلیٹ‘‘ کا جن میں یقیناً وہ مستثنیات بھی تھیں جو بہت گریس فل تھے لیکن اکثریت کا ’’کلچر‘‘ ایسا ہی تھا جیسا عرض کردیا۔

خیر شر، نیکی بدی، صحیح غلط، منفی مثبت کا تو مجھ جیسے نیم خواندہ، ان گھڑ، گنہگار، بدتمیز کو کوئی علم نہیں لیکن تربیت کچھ ایسی تھی کہ پیٹھ پیچھے کسی کے پوسٹ مارٹم کو میں گھٹیا پن کی انتہا سمجھتا تھا.

گھن آتی تھی سو بہت جلد میرا یہ رومانس مٹی میں مل گیا اور میں نے وہاں جانا بند تو نہیں کیا، بہت زیادہ کم ضرور کردیا کیونکہ کچھ سینئرز کی صحبت مجھے بہت پسند تھی۔

بہر حال چند روز قبل میں نے یونہی اس ’’پاک ٹی ہائوس‘‘ کلچر کا حوالہ دیا تو چند سینئر بیورو کریٹس نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ’’حسن بھائی!چشم بددور یہ کلچر تو ہر شعبہ ، محکمہ، ادارہ میں سرائیت کر چکا اور سکہ رائج الوقت ہے‘‘۔ پہلے تو مجھے جھٹکا سا لگا لیکن پھر سوچا ’’یہی کچھ ہونا چاہئے تھا، منطقی انجام ایسا ہی ہونا تھا کہ سلسلہ ٹاپ سے شروع ہوا‘‘۔

زندگی مخصوص گفتگو اور مخصوص گیٹ اپ تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تو چلو ٹھیک ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب ان عادات و اطوار و مینر ازم کے ساتھ ہی ہم کسی روشن، باعزت مستقبل کی امیدیں بھی وابستہ کرتے ہیں۔ نہیں، رب العزت کی قسم ہر گز نہیں کہ ہم یعنی عوام اور اشرافیہ جو کچھ کاشت کر رہے ہیں، وہی کچھ کاٹ بھی رہے ہیں اور اگر رویوں میں تبدیلی نہ آئی تو یہی کچھ ہماری نسلیں بھی کاٹنے پر مجبور ہوں گی۔

گناہ ثواب، جنت دوزخ اپنی جگہ لیکن بدصورتیوں، گناہوں اور جرائم کی بے شمار قسمیں ہیں۔ سب سے بڑا گناہ اور جرم بدصورتی کی آخری انتہا ہے اور خوبصورتی پر کوئی لاگت نہیں آتی۔

سب کچھ بہت مہنگا ہو جائے تب بھی اچھائی، خوب صورتی کبھی ’’مہنگی‘‘ نہیں ہوتی۔ ہم اپنا گھر، اپنا لباس، اپنی گاڑی ’’امپروو‘‘ کرتے ہیں تو اپنا آپ ’’امپروو‘‘ کرنے پر کیا لگتا ہے؟ یہ سوائے فکری ٹیڑھ پن کے کچھ بھی نہیں۔

غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف کہا گیا ہے توآخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر ’’لاگت‘‘ کا تخمینہ کیا ہے؟ ہمیں کم از کم وہ کچھ تو کرلینا چاہیے جس پر لاگت صفر ہے۔

اہل مغرب کی ہر شے چوم چاٹ کر اپنی زندگیوں پر سوار کرلینے والے بدنصیب ان کے روٹین رویے بھی نہیں اپنا سکتے تو ان کے اس بھیانک تضاد پر کڑھنا تو بنتا ہے۔

بنائو جعلی ادویات

بنائو کیمیکلز والا جعلی دودھ

کم تولو، صلۂ رحمی پر لعنت بھیجو، رستے کے حقوق پر ڈاکے ڈالو، رشوت لینا دینا بھی جاری رکھو۔ ہر وہ گند گھولو جس میں ’’منافع‘‘ ہے لیکن کم از کم وہ کچھ ہی چھوڑ دو جس میں نہ کوئی نفع نہ نقصان، نہ فائدہ نہ گھاٹا۔

غیبت کرکے ملتا کیا ہے؟ کوئی ’’عالم‘‘ مجھے سمجھا دے تاکہ میں بھی شروع کر سکوں لیکن شاید یہ سب “DNA” کے مسائل ہیں۔ کتے نے بھونکنا، سانپ بچھو نے ڈسنا، گدھ نے مردار کھانا، بھیڑیئے نے چیرنا پھاڑنا ہی ہوتا ہے۔

’’نسلوں نے خطا کی تھی۔ نسلوں نے سزا پائی‘‘

SOURCERoznama. Jang