Nai Halqabandiyan | Kanwar Dilshad

56

Nai Halqabandiyan, Intakhabi Jang ka agaz | Kanwar Dilshad latest column in roznama khabrain

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مردم شماری کے بعد عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں کرانے کا اصولی طور پر حلقہ بندی ایکٹ 74 کی شق دس اور آئین کے آرٹیکل 224 کی روح کے مطابق کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ادارہ شماریات سے رابطہ کیا ہے جو مردم شماری کا ڈرافٹ ڈیٹا جولائی تک فراہم کرے گا، اس طرح جولائی میں نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر دیا جائے گا جسے جنوری 2018 تک مکمل کر لیا جائے گا! واضح رہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ انتخابی حلقوں میں اضافہ ہوگا، انتخابی حلقے بڑھانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کی تجدید کا عمل ایک معمول کا کام ہے اور الیکشن کمیشن نے یہ کام بر وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے! نئی مردم شماری کی روشنی میں دیہی علاقوں کا انتخابی جغرافیہ تبدیل ہو سکتا ہے جس کے لئے ووٹروں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے اور دیہی اور شہری نشستوں کو از سر نو ترتیب دینے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت پر گہرا اثر پڑے گا اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے دیہی علاقوں کی نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گی اور اس کا فائد ہ متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو پہنچنے کا اندازہ ہے۔ حلقہ بندیوں کا کام انتہائی غیر جانبداری، مہارت اور ریونیو کے بارے میں غیر معمولی صلاحیتوں کی ضرورت ہے! الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیاں کرانے کے لئے آفیسران کی تربیت کا بھی انتظام کر رکھا تھا اور شنید ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ کے حامل اداروں سے حلقہ بندیوں کے بارے میں آفیسران کو عملی طور پر تربیت دی گئی ہے، بادی النظر میں الیکشن کمیشن کی یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی، پاکستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کے بارے میں ان اداروں کو ادراک ہی نہیں ہے کیونکہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں بعض اعتراضات سامنے آئے تھے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اہل کاروں کی تیار کردہ حلقہ بندیاںانتہائی متنازعہ تھیں جسے سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا تھا اور اب جب کہ آئندہ انتخابات باقاعدہ مردم شماری کے تحت ہونے جا رہے ہیں اس سے انتخابی حلقوں میں کوئی تبدیلی سامنے آ سکتی ہے اور جو بھی نئی صورت حال پیدا ہوگی یہ جنوری 2018 تک سب کے سامنے آجائے گی، سیاسی جماعتوں سمیت تمام فریقوں کو اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملے گی، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات میں نہیں ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے لئے نئے انتخابی حلقے بنائے، یہ قانونی کام پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں آتا ہے، حلقہ بندیوں میں تبدیلی جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے چاروں صوبوں کے ریوینو ڈیپارٹمنٹس اور لوکل گورنمنٹ کے اداروں اور نادرا کی خدمات حاصل کرنا ہوگی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں اہم ذمہ داریاں احسن طریقہ سے پورا ہو جائیں گی کیونکہ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا اور سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان بابر فتح محمد یعقوب ان اصولوں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کیونکہ حلقہ بندیوں کا دارو مدار آبادی کے بہاو¿ پر ہے، سیاسی جماعتیں حلقہ بندیوں کی تجدید کے سلسلہ میں باقاعدہ ریونیو ریسرچ قائم کریں اور الیکشن کمیشن کی معاونت کریں بعد میں اعتراضات کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی تجاویز بروقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پیش کریں۔
حلقہ بندیوں کے موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو اسی وقت قومی اسمبلی کی نشستیں پنجاب میں 148سندھ میں 61خیبر پختونخوا میں 31بلوچستان میں 14 فاٹا 12 اور کپیٹل اسلام آباد میں 2 نشستیں ہیں۔آئندہ انتخابات میں انتخابی جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی اور قدرے کم سندھ میں انتخابی معرکہ ہوگا اور اس کا دارومدار نئی حلقہ بندیوں کی ترتیب و تدوین سے ہے جون 2002 میں حلقہ بندیاں کراتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے تکنیکی غلطیاں سرزد ہوئی تھیں لیکن ان کی پشت پر جن آفیسران نے حلقہ بندیاں کی تھیں ان کی ایمانداری پر کسی کو شک و شبہ نہیں تھا، لیکن سندھ میں بالخصوص دیہی علاقوں کے چند حلقوں میں اصولوں سے ہٹ کر من مانیاں کروائی گئیں تھیں اور پس پردہ محرکات چونکہ انتہائی معمولی نوعیت کے تھے لہذا اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر نے خاموشی میں ہی مصلحت سمجھی تھی۔ چونکہ اس وقت پاکستان کا آئین معطل اور سیاسی جماعتیں غیر فعال اور غیر متحرک تھیں لہٰذا تکنیکی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا، اب چونکہ پاکستان میں جمہوریت کی روح بیدار ہے اور تمام سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل سے وابستہ فریقوں اور میڈیا نے گہری نظریں الیکشن کمیشن آف پاکستان پر جمائے رکھی ہیں، لہٰذا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتہائی سوچ سمجھ کر یہ ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی، اسی طرح جون 1988ءمیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 1982ءکی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کرائی تھیں اور جسٹس ایس۔اے نصرت مرحوم نے انتہائی مہارت سے ضلعی حکام کی مدد و معانت سے حلقہ بندیاں کرائیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو، اور ولی خان نے چند معمولی تحفظات کے باوجود انہیں تسلیم کر لیا تھا۔ اب 2018 کی حلقہ بندیوں پر شدید اعتراضات بھی آئے ہیں چونکہ انتخابات میں کامیابی کے حصول کا دارومدار صحیح حلقہ بندیوں پر ہی ہوگا، اس میں بد نیتی یا جغرافیائی تحقیق کا فقدان نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ادارہ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل فاو¿نڈیشن برائے الیکشن سسٹم کے دائرہ اختیار سے نکلنا ہوگا جو اپنے مسترد فارمولے ہی الیکشن کمیشن میں بھجواتے رہتے ہیں۔
مردم شماری کا آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے، اگر مردم شماری کے ماضی کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو اس سلسلہ میں پاکستان کے بہت کم ماہرین یہ جانتے ہیں کہ ان تمام مردم شماریوں میں پہلے مرحلے سے ہی دھاندلی کی گئی تھی اور اب ادارہ شماریات کے ریٹائرڈ آفیسران کو آگے آنا چاہئے اور اعتراف کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان مردم شماریوں میں شمار کنندگان کو خوب استعمال کیا گیا تھا، عوا م کو اس کا شعور نہ تھا کہ احتجاج کرنے، سیاسی مردم شماری کی دھاندلی میں خاصی حد تک شریک رہی تھیں اور ضلعی حکام نے مردم شماری میں حقیقی ریکارڈ تبدیل کروا دیا تھا، ماضی میں رجسٹر شمار کنندگان کو فراہم کئے گئے تھے، مردم شماری کے وقت فارم ان کے مطابق بھرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی اور فارم اور رجسٹر کی آڑ میں مردم شماری میں تقریباً تمام ہی علاقوں میں وہ آبادی درج کی گئی جو اصل میں وہاں نہیں تھی۔ اسی طرح 1972ءکی مردم شماری میں کراچی کی آبادی 65 لاکھ تھی جسے صدر بھٹو کے حکم پر کم کر کے 33 لاکھ کرایا گیا تھا اس سے کراچی کی قومی اسمبلی کی نشستیں21 کی بجائے 13 رہ گئیں اور صوبائی اسمبلی کی 45 کی بجائے 25 نشستیں مختص ہوئیں۔ اگر صحیح مردم شماری ہوتی تو اندرونی سندھ قومی اسمبلی کی 33کی بجائے 55اور صوبائی اسمبلی کی 72 سے زائد نشستیں ہوتیں تو اسی طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور متحدہ قومی موومنٹ، سندھ کی قوم پرست جماعتوں کی رہنمائی کےلئے بتاتا چلوں کہ 1972ءمیں کرائی جانے والی مردم شماری کے نتائج پر ایک نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مردم شماری میں دھاندلی کیسے کرائی گئی، اس میں بدین کی آبادی میں 364 فیصد، کندھ کوٹ میں 155 فیصد، سکرنڈ میں 200 فیصد، گھوٹکی میں 177 فیصد، دادو میں 148 فیصد، ٹھٹھہ میں ستر فیصد، ہالہ میں 99فیصد اور ٹنڈو محمد خان کی آبادی میں 72 فیصد اضافہ دکھایا گیا تھا جب کہ کراچی کی آبادی 65 لاکھ سے کم کر کے 35 لاکھ کر دی گئی تھی۔ اسی طرح 1982 کی مردم شماری میں سکھر ڈویژن کی آبادی 65 لاکھ اور کراچی کی آبادی 53 لاکھ دکھا کر ایک بار پھر اہل کراچی کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیا گیا، یہ در اصل 1972 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر صرف خانہ پری کی گئی تھی۔ اس مردم شماری میں کراچی کی آبادی میں دس سالہ اضافہ 45.18 فیصد دکھایا گیا جب کہ گوجرانوالہ میں یہ اضافہ 84.26 فیصد اور پشاور میں 103.30 فیصد تھا، حالانکہ آبادی اقوام متحدہ کے مسلمہ اصولوں کے مطابق بڑے پیمانے پر دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کو منتقل ہوئی ہے اقوام متحدہ کے اصولی امور پاکستان پلاننگ کمیشن کی رپورٹوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں دیہی آبادی میں دس سال میں 30 سے 35 فیصد اور شہری علاقوں میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوتا ہے، جبکہ 1972ءکی مردم شماری میں دیہی آبادی میں 364 فیصد تک اضافہ دکھایا گیا، اسی طرح کراچی کو ملازمتوں اور دوسرے وسائل میں اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا اور پارلیمنٹ میں بھی ان کی صحیح نمائندگی کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس کوکھ سے متحدہ قومی موومنٹ نے جنم لیا۔
2017ءکی مردم شماری غیر جانبدارانہ طور پر درست ہوگی شاید یہ ایک مفروضہ ہی ثابت ہو، یہ خوش آئند ہے کہ فوج کے جوان شمار کنندگان کے ساتھ ہیں مگر یہ تو ایک حفاظتی اقدام ہے، اندازہ نہیں کہ انہیں شمار کنندگان کے کام پر نظر رکھنے کی ہدایت ہے یا کہ نہیں! اور پھر جعلسازی تو کہیں اور کسی مقام پر ہونا ہے اور ماضی میں ہوتا رہا، وہاں تو فوجی جوان موجود نہیں ہوں گے وہ تو ضلع کے حکام کا کام ہے! اور سیاسی قوتوں کا یہ کام ہے کہ حالیہ مردم شماری پر نظر رکھیں، حالیہ مردم شماری پر سرسری سی نظر ڈالیں تو کچھ حقائق تو بہت واضح نظر آتے ہیں تو کراچی کی گنجان سوسائٹی گلشن اقبال، اور دیگر اہم سوسائٹیوں میں ایسے بے شمار مکانات ہیں جنہیں خانہ شماری کے زمرے میں شامل ہی نہیں گیا گیا یہ تو کراچی کا حال ہے کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ نے چونکہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہوا ہے تو اسی پر ہلکی سی تحقیق کی گئی تو یہی نتائج سامنے آئے ہیں کہ کراچی کے بہت سے علاقوں میں مردم شماری کا عملہ اب تک نہیں گیا، یہ تو صرف کراچی کا حال ہے، سندھ کے دوسرے شہری علاقوں میں اسی طرح کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کی احتجاجی اپیل کا رخ موڑنے کےلئے نثار کھوڑو سندھ ہائی کورٹ چلے گئے،2017ءکی مردم شماری 1972ءکی ڈگر پر چل رہی ہے، سندھ کے شہری علاقے خصوصاً کراچی اور حیدرآباد ایک بار پھر اپنے جائز حقوق سے محروم رہ جائیں گے، اسی طرح مصطفی کمال کی پارٹی رومن کیتھولک کی پالیسی پر چل رہی ہے کہ مخالف کو اپنا دوسرا گال بھی پیش کر دیں اور فاروق ستار، وسیم اختر اور دیگر کو لندن گروپ نے مفلوج بنا رکھا ہے، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کو اپنے اپنے ووٹ بنک کا اندازہ ہے، لہٰذا انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی ہے، سیاسی جماعتوں کو ملک کی سلامتی اور اس کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، ماضی میں سیاسی، انتظامی، مالیاتی اور انتخابی حقوق غضب ہوتے رہے، اب اس کے ازالہ کےلئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کا جو جائز حق صدر بھٹو نے 1972 میں غضب کر لیا تھا اور بعد میں اسی کی بنیاد پر اگلے انتخابات کرائے گئے تھے اس کا ازالہ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور وہ یہی ہے کہ اب 45 برس بعد ہی صحیح، ان کو ان کا جائز حق دیا جائے اور وزیر اعظم نواز شریف اپنی مداح سرائی کے سحر سے باہر نکل کر عوام کو صحیح غیر جانبدار اور تعصب سے بالا مردم شماری کروانے میں اپنا آئینی و قانونی اختیار استعمال کریں۔
اقلیتی جماعتیں بھی مردم شماری کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں، ہندو کمیونٹی کا علیحدہ کالم رکھنے کے بجائے ان کو دیگر اقلیتی شیڈول کاسٹ میں شامل کیا گیا ہے، ہندو اقلیت کو نمایاں کیا جائے تو سندھ میں ان کی تعداد 20 فیصد کے لگ بھگ ہونے کے امکانات موجود ہیں جس سے قومی اسمبلی میں 10 نشستوں اور صوبائی اسمبلی سندھ میں 20 نشستوں کےلئے اضافی نشستیںرکھنا ہوں گی انتخابی اصلاحات کمیٹی ہندو کمیونٹی اور عیسائی کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔٭٭