Nahosat Namah – Hassan Nisar

15

کیسی جادو نگری ہے یہ

سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔

خواب تو ہیں ،تعبیریں غائب، سیلاب بہت ہیں آب غائب،

بھوک تو ہے، خواک ہی غائب

جسم تو ہیں، اعضاء غائب

آنکھیں ہیں، بینائی غائب

بینائی تو ہے، دانائی غائب

کھوپڑیاں ہیں، دماغ غائب

سجدہ ہے پر سجتا نہیں ہے

دعائیں ہیں،قبولیت نہیں ہے

پر تو ہیں، پرواز نہیں ہے

عہدتو ہے ، ایفائے عہد نہیں ہے

قیادتیں بہت، قیادت کا قحط ہے

پولیس ہے، حفاظت نہیں ہے

بچے ہیں، سکول نہیں ہیں، سکول ہیں تو فیس نہیں ہے۔

مکان ہے، کرایہ نہیں ہے

بجلی ہے بل کی رقم نہیں ہے

مردے ہیں کفن نہیں ہے

کفن تو ہے پر قبر کہاں ہے ؟

ووٹر ہےلیکن ’’ووٹ‘‘ نہیں ہے

عورت ہے، حرمت نہیں ہے

آزاد تو ہیں، آزادی نہیں ہے

امتحان کڑے ،نتیجے غائب

سرکار تو ہے پر ’’کار‘‘ کہاں ہے ؟

دل تو ہے اور دھڑکن غائب

سفر طویل منزل غائب

یار تو ہیں یارانے غائب

تتلی ہے پر رنگ نہیں ہیں

تلوار تو ہے جو ٹوٹ گئی ہے

چولہا ہے جس میں آگ نہیں ہے

ساز تو ہے آواز نہیں ہے

چہرہ ہے تصویر نہیں ہے

ہاتھ ہے جس میں کوئی لکیر نہیں ہے

گداگر بہت فقیر کوئی نہیں

عدالت ہے تو عدل نہیں ہے

ڈاکٹر ہے ،علاج نہیں ہے

کیسی جادونگری ہے جہاں سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

ڈاکے ہیں اور ڈاکو غائب

قبضے ہیں، زمینیں غائب

روپیہ ہے جس میں قوت خرید نہیں ہے

آنکھیں بہت حیا نہیں، مجرم بہت سزانہیں، سر بہت ردا نہیں

انتظامیہ ہے انتظام نہیں، بیکاری ہے اور کام نہیں، وحشی گھوڑے ہیں لگام نہیں ۔

پیاس ہے پانی نہیں ہے، پیدا ہوتے ہی بڑھاپا ہے جوانی نہیں ہے ۔’’میں نے بچپن سے بڑھاپے میں قدم رکھا ہے‘‘ داستان گو بہت ہیں کہانی نہیں ہے ۔انجماد کی انتہا ہے، روانی نہیں ہے ۔

درخت بہت ہیں چھائوں نہیں ہے، زمین موجود پائوں نہیں ہیں۔

دوا ہے شفا نہیں ہے، لو ہے صبا نہیں ہے، خدمت ہے جزا نہیں ہے، جسم ہے قبا نہیںہے، معدہ ہے غذا نہیں ہے، گناہ ہے خطا نہیں ہے، قتل ہے گواہ نہیں ہے، جوان بیوہ ہے نکاح نہیں ہے (حالانکہ حکم اس کے برعکس ہے)

پیر منیر نیازی مستقبل میں جھانکتے ہوئے کہتے ہیں

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اس ’’آسیب‘‘ کو خون میں غسل دو ورنہ خون کے آنسوئوں کا سیلاب سب کچھ بہا کرلے جائے گا۔ مدتوں سے میرا فیورٹ جملہ ہے کہ ’’اس نظام کو تیزاب سے غسل دو ، ورنہ اس کی بدبو سے عوام کے دماغ پھٹ جائیں گے اور خلق خدا کے دماغوں کا پھٹنا، ایٹم بموں کے پھٹنے سے کم نہیں ہوتا اور اس سے کم پہ یہ ملک اس خونخوار دلدل سے باہر نہیں نکل سکتا لیکن ہم وہ بدنصیب ہیں جو بروقت ری ایکٹ نہیں کرتے ۔آبادی کا بڑھائو ہو یا ننگی سرعام کرپشن کا چڑھائو…ہم اجتماعی طور پر اتنے بے حس ہیں کہ جب تک مرض لا علاج نہیں ہو جاتا ہم سرجری کا سوچتے ہی نہیں سو اب سرجری نہیں سیریز آف سرجریز کی ضرورت ہے ۔

قارئین ! معذرت خواہ ہوں کہ اپنے حکمرانوں کی طرح بہک اور بھٹک گیا لیکن اللہ کا شکر ہے فوراً واپس آکر واپس اپنے کالم ’’نحوست نامہ‘‘ کی طرف آ رہا ہوں ۔

ہائے ….یہ کیسی جادونگری ہے جس میں سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔قارئین ! یہ ’’نحوست نامہ‘‘ یہیں تک پہنچا تھا کہ اخباروں کا تھبہ بھی پہنچ گیا۔’’بریک‘‘ لینے کیلئے کالم ادھورا چھوڑ کر اخبار اٹھایا تو اوپر نیچے پے درپے مندرجہ ذیل ’’ایمان افروز‘‘ خبریں دکھائی دیں جنہوں نے ’’سماں‘‘ باندھ کر ’’رقت‘‘ طاری کر دی ….آپ بھی ’’انجوائے ‘‘ کریں کہ ’’یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے‘‘

نمبر 1۔’’بلدیہ عظمی۔اربوں روپے کی 481کنال اراضی پر 22سال سے قبضہ‘‘ 102جائیدادوں پر قابضین کی تفصیلات سیکرٹری بلدیات کو بھجوا دی گئیں۔

نمبر 2۔نولکھا سے 805 کلو جعلی شہد برآمد۔

نمبر 3۔دو خواتین اورلڑکے سے زیادتی ‘‘ ملزم آصف نے عبدالفغار کی بہن کو مسجد کے بیت الخلامیں زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔

نمبر4۔قصور ۔چائے کیفے منشیات فروشی کے اڈے بن گئے ۔

نمبر 5۔جنا ح ہسپتال لاہور میں نرسوں، لیڈی ڈاکٹرز کی فحش ویڈیوز بنانے والا ڈاکٹر گرفتار ، ملزم نشہ آور مشروب پلا کر ویڈیوز بناتا۔متاثرہ خواتین کی 50ویڈیوز برآمد (اس مکروہ باریش ڈاکٹروں کی حوالات میں تصویر بھی شائع ہوئی ہے جس کا نام عبداللہ ہے)

نوٹ :ایسے تو پرچون کا کھوکھا نہیں چلتا جیسے ’’ہم‘‘ یہ ملک چلا رہے ہیں۔

SOURCERoznama. Jang