Mutbadil Ki Talash Kion ? – Imtiaz Alam

18

جب لاثانی کا کوئی ثانی نہیں تو متبادل کی تلاش پردئہ غیب سے مدد کے بغیر ہو بھی تو کیسے؟ ویسے ہی جیسے ہمارے کپتان کا کوئی نعم البدل جب نہ مل پایا تو ورلڈ کپ کا بٹیرا اندھوں کے ہاتھ پھر سے کیسے لگ پاتا۔

سیاسی قحط الرجالی کے تاریک ماحول میں اُمید کی کرن کہیں سے پھوٹے بھی تو کیسے؟ ’’مائنس ون‘‘ کا گھسا پٹا ریکارڈ سنائی دیا، تو ’’لاثانی کا کوئی ثانی نہیں‘‘ کا شوروغوغا تو بنتا تھا۔ صاحبانِ دربارِ اندر کا تو یہ بہت ہی پرانا مشغلہ رہا ہے۔

تاریخ ناگزیر شخصیات، سلاطین، فاتحین، آمروں اور مردہائے مومنین کے قصوں سے بھری پڑی ہے اور قبرستان بھی۔ مملکتِ خداداد کے مقدر میں تو ایسے ناگزیر وائسرائوں اور سورمائوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان سے جنرل مشرف تک ہمارے وزیراعظم کے من پسند حکمرانوں کے کارہائے نمایاں یاد کیے جائیں تو مردِ مومن مردِ حق ضیا الحق کو بھی کوئی بھلائے تو کیسے؟

ایسے میں ہمارے خوبرو کپتان کی قاتلانہ مسکراہٹ پہ کوئی فدا نہ ہو تو کیا اپنی انگلیاں کاٹ کر رہ جائے۔ لیکن جو آج کہیں ’’کوئی متبادل نہیں‘‘ کا راگ الاپتے نہیں تھک پا رہے، کل کو یہی ریکارڈ پلٹے جانے پہ کسی نئی دُھن پہ رقصاں نظر آئیں گے۔

پرانے چلن کی حکمرانی کے اینٹی کلائمکس کا اینٹی کلائمیکس جیسے ہوا اور جس سرعت سے صبح شام ہو رہا ہے اُس پر شرمندگی کے علاوہ ذوقِ خدائی والوں کے ہاتھ لگا بھی تو کیا۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ خلا کو پُر کرنے کیلئے مستعد عناصر کو ہر سو ’’قومی ذمہ داریاں‘‘ پوری کرنے کیلئے وسیع تر مواقع دستیاب ہو گئے۔ حکومت نہ سہی، کمان تو مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ترکش کے تمام تیر ایک ایک کر کے آزمائے جا چکے، لیکن کوئی شکار ہاتھ نہ لگا۔ کرپشن کی غضب کہانیوں کے جو پُل باندھے گئے تھے اور احتساب کے جو بے انت ڈونگرے برسائے گئے تھے وہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی سے محتسبوں کے چہروں کی کالک بن گئے ہیں۔

کرپشن کی گنگا ایسی اُلٹی بہی کہ ذاتی شرافت کے دبیز پردے میں ہر طرح کی مافیاز کو کھل کھیلنے کا سنہری موقع مل گیا۔ چینی مافیا، دوائی مافیا، تیل مافیا، آٹا مافیا، کھاد مافیا، پاور مافیا، تیل مافیا اور جانے کون کون سی مافیائوں کے سرغنوں کو پناہ ملی بھی تو احتساب کے پردے میں براجمان طفیلی حکمرانی میں۔

اب اُلٹے بانس بریلی کے مصداق محتسب ہی قابلِ احتساب ٹھہرے۔قصور احتساب کے متوالوں کا بھی نہیں اور نہ احتساب کے نعرئہ حق کا ہے۔ مملکتِ خداداد کی بنیاد ہی ایسے بعد از نوآبادیاتی سیاسی و معاشی نظام پہ رکھی گئی تھی کہ جہاں ریاستی سرپرستی میں گماشتہ سرمایہ داری کو ہر طرح کے چور دروازوں سے کھڑا کیا گیا تھا۔

آغاز تو گورنر جنرل کے عہدہ اور بعد ازاں صدارت کے نوکرشاہی کو منتقل ہونے اور پھر سلسلۂ مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز کے طفیل چار ستاروں کا مقدر بننے سے ایک طرح کا عجیب الخلقت سیاسی نظام وجود میں آیا جس کا کہ کوئی ثانی نہ تھا۔

پھر ریاستی مدد، لائسنسوں اور پرمٹوں کی بارش میں ایسی تجارتی و صنعتی بورژوازی پیدا کی گئی جو دونوں ہاتھوں سب کچھ سمیٹ لینے کی فکر میں تھی۔ جبکہ جاگیردارانہ ورثے کو برقرار رکھ کر ایک رعیتی باجگذار سیاست کو دوام بخشا گیا۔

ایوب خان کے جس سنہرے ترقی کے عشرے کا ذکر کرتے ہمارے وزیراعظم نہیں تھکتے وہ یہی تو تھا جس میں ترقی کی بوندیں کبھی عوام کے خشک ہونٹوں کو تراوٹ نہ بخش سکیں۔

اب مافیائوں کا رونا رونے میں بہت دیر ہو گئی ہے، جو ہر طرف چھا گئی ہیں۔ ہمارے احتسابِ اعظم جب کسی پہ ہاتھ ڈالتے ہیں تو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ چینی مافیا اور تیل مافیا سے پنجہ آزمائی میں حکومت اپنی ہی ناک کٹوا بیٹھی، اکیلا چنا بھاڑ جھونکے بھی تو کیسے؟ لیکن بڑھکیں ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں۔ بڑھکوں سے نظام سنورنے ہوتے تو بازاری مجمع باز کبھی کے لنکا ڈھا چکے ہوتے۔ دو برس گزر چکے، بندر تماشہ دیکھتے۔

وکٹیں گرتی جاتی ہیں اور اسکور بورڈ پر انڈے ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں۔ ایمپائر کی انگلی کے انتظار میں بیچارے حزبِ اختلاف والے جانے کس خلجان میں مبتلا ہیں۔ پرانے سماج کی پرانی سیاسی نسلوں میں دم خم نہیں تو لاثانی کا ثانی بنے تو کون؟ تاریخی اعتبار سے پرانی سیاست اگر ٹریجڈی بنی تو کامیڈی کا موجودہ دور تو مقدر ٹھہرنا ہی تھا۔

بس فرق یہ ہے کہ پرانے کھلاڑیوں کو پرانا کھیل آتا تھا، جونہی کہیں چُوک ہوئی تو سجدئہ سہو سے واپسی بھی ہو جاتی رہی۔ لوگ بھی اس پرانے تماشے سے عاجز آ گئے تھے، خاص طور پر ہماری پوتر مڈل کلاس اور وہ ملینیئم جنریشن جس نے شعور کی آنکھیں شوکت خانم ہسپتال کیلئے چندہ اکٹھا کرتے کھولی تھیں اور وہ تارکینِ وطن جو اپنی ثقافتی بیگانگی کو مملکتِ خداداد کو اسلاف کی پاکیزگی سے دھونا چاہتے تھے۔

لیکن انقلابی جذبے رجعتی نظریئے سے مل جائیں تو فسطائیت اپنا رنگ جماتی ہے جس کیلئے لفانٹروں کی بہتات کی نہیں نظم و تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کی فوجِ ظفر موج آئی نہ کوئی کل سیدھی ہوئی۔ جو ڈھونگ سجایا گیا، وہ اصل سجانے والوں کے کام آیا۔ جونہی اس لایعنی کھیل کا مزا کرکرا ہوا تو تماشہ گروں کو پھر سے تلاش شروع ہوئی۔

لیکن وہ پری کہاں سے لائوں جسے دُلہن تیری بنائوں۔ شاید دو برس کی ہمہ طرف خجالت ابھی کافی نہیں۔ مگر اس کی طوالت کی کوئی دُعا کرے تو کیسے؟

اور ایسے وقت میں جب کورونا کی تباہ کاریوں میں سب کچھ دھندلا گیا ہو تو کوئی اگلے تین برس میں بھلائی کی اُمید کرے تو کیسے؟ لگتا ہے کہ مخالفین پر بائونسر مار مار کر کپتان کے پٹھے چڑھ گئے ہیں اور حیلے بہانوں کی گگلیوں سے بھی کام نہیں چل پا رہا۔

پرانے کھلاڑیوں کی واپسی بھی آسان نہیں۔ اور اگر ہوگی بھی تو اُس قیمت پر جس سے معذرت ہی بھلی۔ ایسے میں لاثانی کا ثانی وہی ہوگا جس کا کہ کوئی وارث نہیں ہوگا۔

چہرے تو بہت بدلے ہیں اور آتے جاتے رہے ہیں۔ بات اصل میں چہرے نہیں نظام کو بدلنے کی ہے جس کا کہ پرانے اور نئے کھلاڑیوں کو یارا نہیں۔ کالم ختم ہوتے ہوتے خیال میں آیا بھی تو قبر کا ایک کتبہ جس پر لکھا تھا:’’میں بڑا اہم تھا، یہ میرا وہم تھا‘‘۔