Mera Pakistan Kaisa ho, Afghanistan jeesa ho? – Yasir Pirzada

18

افغانستان پر اتنے کالم اور مضامین لکھے جا رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے اگر میں نے اِس موضوع پر کالم نہ لکھا تو لوگ سمجھیں گے کہ میں ’افغان امور کا ماہر‘ نہیں ہوں۔ جبکہ ایک سکہ بند کالم نگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ موٹر مکینک کا کام بھی جانتا ہو اور افغانستان کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتا ہو۔بد قسمتی سے میں اِن دونوں باتوں میں ہی کورا ہوں۔ وہ تو بھلا ہو طالبان کا جن کے کابل پر قبضے کے بعد سے موضوعات کی گویا بہار آ گئی ہے اور مجھ ایسوں کو کالم لکھنے کے لئے موضوعات مل گئے ہیں۔ آ ج بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال درپیش ہے۔

میرا دل کرتا ہے کہ میں افغان جنگ کے خاتمے کا جشن مناؤں یا کم از کم امریکہ کی شکست پر ہی بھنگڑا ڈال لوں مگر جونہی میں بھنگڑا ڈالنے کا ارادہ کرتا ہوں میری نظروں کے سامنے وہ مناظر گھومنے لگتے ہیں جن میں لوگ جہازوں سے لٹک کر بھاگنے کی کوشش میں ہلاک ہو رہے ہیں ، برقع پوش عورتیں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ در بدر ہیں جن کاکوئی پرسان حال نہیں اور اپنے مستقبل سے بے خبر لوگ جہاز میں مرغیوں کی طرح بیٹھے ہیں تاکہ انہیں افغانستان سے کسی دوسرے ملک منتقل کیا جا سکے۔ مجھے اِس بات کا بھی اندازہ ہے کہ جو کچھ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے وہ اُس تکلیف اور اذیت کا عشر عشیر بھی نہیں جس سے افغان عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے گزر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی اُن کے حالات تبدیل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔وجہ اِس کی یہ ہے کہ افغانستان کو ایک فعال، مربوط اور منظم حکومت کی ضرورت ہے جو جدید انداز میں امور مملکت چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔بظاہر یوں لگتا ہے جیسے طالبان کی حکومت میں یہ تینوں خصوصیات ہوں گی ، آخر انہوں نے امریکہ کو شکست دی ہے ،مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دو مثالوں سے اندازہ لگا لیں۔ کابل پر قبضے کے بعد طالبان افغانستان کے مرکزی بینک میں گئے اور وہاں موجود ــ’چوکیدار ‘ سے کہا کہ 9ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر اُن کے حوالے کیے جائیں۔ بینک والوں نے طالبان کو بتایا کہ اُن کے پاس نقد رقم نہیں ہوتی،زرِ مبادلہ کے یہ ذخائر مختلف اثاثوں کی شکل میں فیڈرل بینک نیویارک کے پاس ہیں اور یہ اثاثے امریکی صدر پہلے ہی منجمد کر چکا ہے۔ مرکزی بینک کے گورنر کو یہ بات مختلف ٹویٹس سے واضح کرنی پڑی جو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکا تھا۔یہ واقعہ روزنامہ ڈان کے لکھاری خرم حسین نے اپنے کالم میں لکھا ہے۔ دوسری مثال میڈیا کی ہے۔ ایک چھوٹا سا وڈیو کلپ میں نے ٹویٹر پر دیکھا ، خدا جانے اصل ہے یا پیروڈی ، اس میں ایک ٹی وی اینکر طالبان کا انٹرویو کر رہا ہے اور اس کے ارد گرد مسلح جنگجو رائفلیں تانے کھڑے ہیں۔ کسی ستم ظریف نے اس پر اچھا تبصرہ کیا کہ یہ طالبان کا آزاد میڈیا کا تصور ہے۔ اِن حالات میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ طالبان افغانستان کو باقاعدہ ایک ایسے ملک کی طرح چلائیں گے جس میں ٹیکس کا نظام ہو گا ، تنخواہیں بینکوں سے ادا کی جائیں گی،سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لئے انجینئرز بھرتی کیے جائیں گے اور ملک میں امن امان کے لئے تربیت یافتہ پولیس ہوگی نہ کہ طالب جو خود ہی موقع پر جج بن کر سزا سنا دیتا ہے تو میری نیک تمنائیں ایسے خوش فہم لوگوں کے ساتھ ہیں۔ فی الحال حالات یہ ہیں کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں طالبان کے قبضے کو اور کابل میں بم دھماکے بھی شروع ہو گئے ہیں ،جواب میں امریکہ نے ڈرون حملے بھی داغ دیے ہیں ،دہشت گردوں کا تو پتا نہیں البتہ بچے ،عورتیں اور بےگناہ لوگ ضرور مارے گئے ہیں۔ پاکستان پر بھی اِس کے اثرات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ پندرہ روز میں دہشت گردی کے تیرہ واقعات ہو چکے ہیں جن میں تیرہ سویلین اور سات سیکورٹی کے جوان شہید جبکہ گیارہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ اِن حالات میں بندہ کس بات کا جشن منائے !

میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ کم از کم اِس بات کا ہی جشن منا لو کہ طالبان نے سپر پاور کو شکست دی ہے اور اُن کا جذبہ ایمانی دیکھ کر لگتاہے کہ وہ اپنے ارادوں میں مضبوط ہیں لہٰذا وہ ایک آئیڈیل اسلامی مملکت بھی بنا لیں گے۔ اِس بات کا سوائے اِس کے اور کیا جواب دیا جا سکتا ہے کہ آج کی تاریخ میں عوام سے ریفرنڈم کرواکے پوچھ لیں کہ کیا یہ بات ممکن ہے اور کیا وہ افغانستان جیسا پاکستان چاہتے ہیں ؟شاید ہی کوئی بند ہ ہو جو یہ چاہتا ہو کہ ہمارا ملک ویسا بن جائے جیسا طالبان افغانستان کو بنانا چاہتے ہیں۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ آخر اتنی باریکی میں جانے کی کیا ضرورت ہے ، ملک کے سیانے بیانے لوگ جشن منا رہے ہیں تو مجھے بھی منا لینا چاہئے۔جشن منانے کے لئے تو ایک سپر پاور کی شکست ہی کافی ہے۔اِس پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک غریب آدمی نے کسی رئیس کی شاندار کوٹھی دیکھی تو بے ساختہ بولا ، چاہے جتنی بھی مضبوط بنا لو ، اگر کہیں سے بم آ گرا تو آخر کھنڈ رہی بن جائے گی! ایسا ہی حال ہمارا ہے۔ امریکہ جیسے ملک امرا کی طرح ہوتے ہیں جو زندگی میں مختلف ایڈونچرز کرتے رہتے ہیں ، انہیں اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُن کے کتنے کھرب ڈالر کہاں خرچ ہوئے ، کتنے جہاز اور کتنی گاڑیاں مالِ غنیمت میں چلی گئیں۔امیر آدمی جیف بیزوز کی طرح سوچتا ہے۔مسٹر بیزوز نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ذاتی خلائی جہاز میں ’اسپیس ‘ کا ایک چکر لگایا ، پانچ منٹ کا یہ چکر اسے ساڑھے پانچ ارب ڈالر میں پڑا مگر اس نے یہ پیسے یوں خرچ کیے جیسے کوئی ہاتھ سے مکھی اڑاتا ہے۔بس یہی فرق ہے امریکہ کے ایڈونچر میں اور ہم جیسے غریب غرباکی سوچ میں۔ امریکی اِس بھیانک غلطی کے باوجود اپنے نرم گرم بستروں میں لمبی تا ن کر سو رہے ہیں ، انہیں دنیا کی گالیوں کی پروا ہے اور نہ کسی کا ڈر خوف۔ دوسری طرف افغان عوا م ہیں جو روزانہ اِس خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ نہ جانے آنے والا دن اُن کے لئے کیسا ہوگا!یہ خوف بے حد اذیت ناک ہوتا ہے ، دنیا میں اُس شخص یا قوم سے زیادہ مجبور اور مظلوم کو ئی نہیں ہوتا جس کے پاس آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع ختم ہو جائیں۔ہمارے ہمسائے میں ظلم کی تاریخ رقم ہو رہی ہے ، باقی کسی کا تو پتا نہیں ، کم از کم میں اِس پر جشن نہیں منا سکتا۔