Mashal Bhi Sazish Ki Nazar Ho Gya| Tayyaba Zia

52

Tayyaba Zia Latest Article in Nawaiwaqt ..

Mashal Bhi Sazish Ki Nazar Ho Gya| Tayyaba Zia

اسے کہتے ہیں خدا کا انصاف ، خدا کی قدرت، جسے مذہب کے نام پر مارا، آج وہ مر کر بھی شہرت اور عزت کی بلندیوں پر زندہ مسکرا رہا ہے اور مارنے والے اپنی جان چھپاتے پھر رہے ہےں۔اگر اتنا ہی پختہ ایمان تھا تو کھڑے رہتے میدان میں اور اپنے ایمان کا امتحان دیتے۔۔مشال توہین رسالت کے الزام میں نہیں بلکہ چند اوباش لونڈوں کے ذاتی عناد کی نذر ہوا۔مذہب کو بدنام کرنے کے لئیے ایسے ایک دو اوباش کافی ہیں۔

مذہبی ڈسکشن کے دوران اکثر لوگ کہتے ہیں آپ لوگ باہر کے ملک میں رہ کر پاکستان کی اتنی فکر کیوں کرتے ہیں ( یہ سوال طنزیہ ہوتا ہے جب ان کے پاس لوجیکل آرگومنٹ کا کوئی جواب نہیں ہوتا)..ان حاسدین کو کیسے سمجھائیں کہ مغرب کے مسلمان زیادہ اچھے اور عملی مسلمان ہےں اور اپنے وطن کے زیادہ خیرخواہ ہیں۔کثیر زرمبادلہ بھیجنے والے محنت کش۔اکثریت علامہ اقبال اور محمد علی کی طرح روشن خیال اور متوازن مسلمان ہے۔کھل کر بولنے اور لکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔مغرب میں آباد مسلمان مذہبی روایات کے خلاف ہیں۔ رسم رواج کو مذہب کا نام دینے والے کم علم کم عقل مافیا کے خلاف ہیں۔سمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین کو یاد ہو گا کہ

ایک فون کمپنی Blackberry بہت مشہور ہوتی تھی، ابامہ اور امریکہ کا ہر بڑا آدمی یہ فون استعمال کرتا تھا مگر یہ کمپنی اپنے غرور میں اور وقت کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ نہ کرنے پر فارغ ہے۔آج Apple اور Android نے پوری مارکیٹ پکڑ لی ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں اپنے ہارڈ ویر کے ساتھ ساتھ سافٹ ویر update۔ اور جدید تقاضوں سے اپنی Sustainability برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں میں غرور نہیں بلکہ یہ اسمارٹ کمپنیاں ہیں جو اپنے consumer کی ضرورت کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔

جس مقام پر مسلمان کو ہونا چاہئے تھا غیر مسلم پہنچ چکا ہے۔غیر مسلم آج سائینس ،ٹیکنالوجی اور جدید دنیا میں اپنا نام پیدا کر رہے ہیں۔ ہم کیوں ضدی اور غرور میں مبتلا ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک ہزار سال میں مسلمانوں کا دنیا کی ترقی میں کوئی نمایاں کردار کیوں نہیں ، کیا ہم نے کبھی اس پر کوئی کانفرنس بلائی یا کسی کے سر پر جوں رینگی؟ کیا ہمارے علما کے لیے خوبصورت فلم ایکٹریس کی طلاق نہیں امت کا اصل مسئلہ ہے؟

آج کا مسلمان کیوں اس جدید دنیا میں اپنا نام پیدا کر رہا ہے؟ مشال خان جدید درسگاہ کا ہونہار طالب علم جس بے حسی و بے دردی کے ساتھ مارا گیا ، اس کے پیچھے صرف مذہب نہیں بلکہ حسد اور سیاسی رقابت ملوث ہے۔ مذہبی جنونیت کو بطور ہتھکنڈا استعمال کیا گیا قابل اور دلیر افراد سے منافقین اکثر خائف رہتے ہیں۔ پاکستان کے ہر شعبے اور ادارے میں نڈر بیباک اور با صلاحیت افراد کے خلاف گروپ بندی عام دکھائی دے گی۔ خدا کی قسم یہ ملک پروردگار چلا اور بچا رہا ہے ورنہ تکبر ، کرپشن ، حسد اور منافقت الا ما شا اللہ یہاں لوگوں کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔ مشال بھی حسد اور عناد کی نذر ہو گیا۔ اس کے جسم کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا اس سے انتقام اور رقابت صاف جھلک رہی ہے۔ توہین رسالت کے جواز کو بطور دہشت گردی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مشال جیسے کربناک واقعات دہشت گردی کی جدید اور خطرناک صورتحال ہیں جسے سوشل میڈیا وائرل کا نام دیا گیا ہے۔ فیس بک پر عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی طلبہ تنظیم پختون ایس ایف کے کچھ کارکنان کے مابین مذہب اسلام زیر بحث تھا، اور اِس دوران مبینہ طور پر کہے گئے کچھ متنازعہ کلمات کو بنیاد بنا کر اگلے دن پی ایس ایف کے ہی ایک کارکن کو ا±سی تنظیم کے دیگر کارکنان نے ہاسٹل سے نکال کر بربریت اور حیوانیت کا نشانہ بنایا، ایسے واقعات یونیورسٹیوں میں نئے نہیں، کئی نوجوان اِن طلبہ تنظیموں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ، لیکن کیونکہ یہاں اللہ اکبر کے نعروں کا سہارا لیا گیا، معاملے کو مذہبی رنگ دے دیا گیا تو معاملہ توہین رسالت کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔کھلے عام درندگی ہوتی رہی اوریونیورسٹی کی روشن خیال انتظامیہ کہیں سو تی رہی ؟

کیا یہ واقعہ کسی مدرسہ یا دارالعلوم کی چہار دیواری میں پیش آیا؟ کیا یہاں کسی مذہبی سیاسی جماعت نے اپنی طاقت و قوت کا استعمال کرکے توہین کا الزام عائد کرکے وحشت و بربریت کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل کی؟؟

یہ واقعہ تو الحاد کی دہلیز پرپیش آیا کہ جہاں لارڈ میکالے کا سیکولر تعلیمی نظام رائج تھا۔۔۔۔

اس واقعے کے متاثرین اور ذمہ داران تو وہ ہیں کہ جو کارل مارکس کے روحانی مریدین ہیں، خود کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ عقائد کا حامل گرداننے میں فخر محسوس کرنے والے اگر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرکے اپنے مذموم مقاصد پر عمل پیرا ہوں تو اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دین اسلام یا ا±س سے متعلق ہر مذہبی مسلمان کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ایف آئی آر کے مطابق مشال کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا۔ مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور حملے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔سوشل میڈیا کے عاشقین اس پیغام پر بھی توجہ فرمائیں کہ پاکستان کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کے لیے لوگوں کو توہین مذہب کے نام پر جان بوجھ کر اکسایا جارہا ہے۔ اگر کل کوئی میرے یا میرے کسی دوست یا عزیز کے نام پر جعلی اکاو¿نٹ بناکر توہین مذہب کرے یا پیغمبر اسلام کی توہین والی پوسٹ کرے، قرآن و سنت اور فرشتوں وغیرہ کی توہین کرے تو ان باتوں پر تب تک یقین مت کیجیے جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ یہ واقعی میرا یا میرے کسی دوست یا عزیز کا ہی اکاونٹ ہے کیونکہ دشمنان اسلام کچھ مخصوص لوگوں کے نام پر جعلی فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز بناکر گستاخانہ پوسٹس لگاکر مذہبی جنونیوں کے ذریعے توہین رسالت کے نام پر قتل عام کرواکے وطن عزیز پاکستان کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔

اللہ فرماتا ہے ”اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو اس بات کی خوب تحقیق کرلیا کرو، یہ اس لیے کہ کہیں انجانے میں تم ایک دوسرے کا نقصان نہ کردو۔“۔

اس لیے اگر میرے یا آپ کے نام پر یا ہمارے کسی دوست یا عزیز کے نام پر اچانک کوئی نئی آئی ڈی نظر آئے جس سے گستاخانہ مواد پوسٹ کیا جارہا ہو تو پہلے اس دوست سے فیس بک کے علاوہ فون، ای میل کے ذریعے یا ذاتی طور پر گھر جاکر بات کریں اور اگر وہ کہے کہ وہ میری آئی ڈی نہیں ہے تو خوامخواہ اندھوں کی طرح اس پر گستاخ رسول ہونے کا فتویٰ مت لگائیں۔ بلکہ اس دوست کے ساتھ مل کر قریبی رینجرز آفس یا پولیس سٹیشن کو فون فوراً مطلع کریں کیونکہ رینجرز یا پولیس کی مدد نہ لینے سے آپ کے دوست کو کچھ جاہل جوش میں آکر قتل ہی نہ کردیں