Malala Say Nafrat Ki Teen wajuhat | Yasir Pirzada

50
Yasir Pirzada Today’s column in Jang Akhbar
ہم حسد کے مارے لوگ ہیں ، نفرت اور کدورت پالنے والے ، زندگی میں کسی کوآگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے ، خاص طور سے اُن لوگوں کو جو کبھی ہم پلہ رہے ہوں ، مسلسل محنت یا ذہانت کے بل بوتے پر جو لوگ ہم سے آگے نکل جائیں اُن سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے ، کوئی بچپن کا دوست ہمارے سامنے ترقی کرکے زندگی میں کچھ بن جائے ،ہمیں منظور نہیں ’’ارے یہ تو ہمارے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلا کرتا تھا آج بڑا افسر بنا پھرتا ہے ‘‘ گویا اسے آج بھی گلی ڈنڈا ہی کھیلتے رہنا چاہئے تھا ۔کسی ایسے شخص کو اگر ہم دیکھ لیں جو اپنے شعبے میں بہتری کے لئے کام کر رہا ہو تو پہلا خیال یہ ذہن میں آئے گا کہ ہو نہ ہو اس کا اپنا کوئی فائدہ ہوگایا پھراس نے کوئی ٹھیکہ اپنے سالے کو دیا ہوگا!ہر بڑے آدمی کے بارے میں ہماری رائے منفی ہوتی ہے ، کوئی ثبوت یا دلیل ہو یانہ ہو پتہ نہیں کیوں ہمیں وہ کرپٹ لگتا ہے ،ہر کامیاب آدمی کو ہم نے یہاں متنازع بنا دیا ہے ، ہمارا کوئی رول ماڈل نہیں ،ہر ماڈل کو ہم نے ’’رول ‘‘ کے رکھ دیا ہے ، ہمارے نزدیک کوئی مغرب کا ایجنٹ ہے تو کوئی صہیونی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے (کوئی صاحب اگر
صہیونی ایجنڈے پر روشنی ڈال سکیں تو اس فقیر پر احسان عظیم ہوگا ) ۔لوگو ں کے بارے میں ہماری ڈیفالٹ ویلیو منفی ہے یعنی ہر شخص کے بارے میں ہم خواہ مخواہ ایک منفی رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھریہ منفی رائے اُس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک ہم اسے اپنے ہاتھوں سے چھ من مٹی تلے دفنا نہیں دیتے۔ آج آپ پاکستان کے دس غیر متنازعہ بڑے آدمیوں کی فہرست بنانے کی کوشش کریں تو نہیں بنا پائیں گے کیونکہ ہر شخص پر ہم نے کیچڑ اچھال کر اس کا چہرہ مسخ کردیا ہے ۔ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ بھی اس ملک کا ایک طبقہ یہی کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر الحمد للہ ملالہ کو دنیا نے اتنی عزت دی ہے کہ اب یہ لوگ سوائے پیچ و تاب کھانے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ ملالہ سے اِن loosers کی نفرت کی تین وجوہات ہیں ۔
ملالہ کا پہلا قصور یہ ہے کہ اس نے زندگی میں ایک اسٹینڈ لیا ، ملالہ نے اُس وقت طالبان کے خلاف آواز اٹھائی جب وہ اُس کے اپنے شہر سوات پر قابض تھے، ایک ایسے ملک میں جہاں اچھے خاصے طرم خان اپنے علاقے کے ایس ایچ او سے بنا کر رکھنے کو زندگی کا حاصل سمجھتے ہوں، وہاںملالہ کا طالبان کے خلاف اسٹینڈ لینا جب وہ محض بارہ چودہ سال کی بچی تھی بہادری کی اعلیٰ مثال تھی ،اسی جرم کی پاداش میں طالبان نے ملالہ کو گولیاں ماریں جب وہ وین میں اسکول جا رہی تھی اور اُس کے بچ جانے پر یہ بیان دیا کہ اگر موقع ملا تو وہ پھر اسے گولیاں ماریں گے۔اب ہم ٹھہرے ڈرپوک اور بزدل ، ہم کیسے مان لیں کہ ایک بچی ہم سے زیادہ بہادر ہو سکتی ہے ، بس لٹھ لے کر اُس معصوم کے پیچھے پڑ گئے ،کسی نے کہا کہ گولیاں ہی نہیں لگیں ،ملالہ ڈرامہ ہے ، یار لوگوں نے انٹرنیٹ پر ڈائیگرام بنا کر ’’ثابت ‘‘ کیا کہ اسے گولی نہیں لگی کیونکہ اگر گولی لگی ہوتی تو وہ زندہ نہ بچتی ۔یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہے ۔ان دو ٹکے کے دانشوروں سے بندہ پوچھے کہ ملالہ کو گولیاں لگنے کے بعد ملک کا صدر، وزیر اعظم ، آرمی چیف ، ہسپتال کے ڈاکٹر، نرسیں ، عملہ ،کیا سب ملالہ کے علاج کا ڈرامہ کررہے تھے!
ملالہ کا دوسرا قصور یہ ہے کہ اس کی بہادری کے اعتراف میں دنیا نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا ، اسے نوبل انعام سے نوازا ، کینیڈا نے اسے اعزازی شہریت دی ، اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا گیا ، امریکہ کے صدر سمیت دنیا کے سربراہان ملالہ سے ملنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں، بین الاقوامی میڈیا میں اسے شاندار خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ، آکسفورڈ میں اسے داخلہ دیا گیا، دنیا بھر میں اسے لیکچر دینے اور کانفرنسوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، گویاملالہ اب بہادری کا استعارہ ہے۔مگر ہم جیسے loosersکو یہ سب قبول نہیں، سو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملالہ مغرب کی ایجنٹ بن چکی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اسے غیر معمولی پذیرائی ملتی ہے ورنہ جن ممالک کو ہمارا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہو ، جو اسلام کو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوںاورجواچھے خاصے ’’کارناموں‘‘ پر ہمیں گھاس نہ ڈالتے ہوں ،اگر وہ ملالہ کو اتنے تمغے دے رہے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ملالہ اُن کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور کل کو وہ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کریں گے۔ یہیں سے نفرت کی تیسری وجہ شروع ہوتی ہے ، سازش۔ملالہ ایک بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہے۔ امریکہ ، اقوام متحدہ ، مغربی دنیا ، بین الاقوامی میڈیا ہمیشہ ایسے شخص کو پروموٹ کرتے ہیں جو اُن کے ایجنڈے پر پورا اترتا ہوورنہ ہمارے یہاں ملالہ جیسی ہزاروں بچیاں ہیں جو دہشت گردی کی وجہ سے سکول نہیں جا سکیں ، سینکڑوں لائق فائق بچے ہیں جنہوں نے اے گریڈز لینے کے ریکارڈ توڑے ہیں اور ہزاروں ایسے بہادر جوان ہیں جو طالبان کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں مگر ان میں سے کسی کی پذیرائی مغرب میں نہیں ہوتی ، تو یقیناً ملالہ ایک بین الاقوامی سازش میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے جس کا مقصد پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنا ہے ۔ان نودولتیے دانشوروں سے بندہ پوچھے کہ اسلام اور پاکستان کا نام اکیلی ملالہ یوسفزئی نے جتنا روشن کیا ہے اتنا پوری امت مسلمہ مل کر نہیں کر سکی ، ملالہ جہاں جاتی ہے وہاں بطور پاکستانی اور مسلمان جاتی ہے ، اس سے زیادہ نیک نامی ہماری کسی اور طریقے سے ہوئی ہو تو بتادیا جائے!بات صرف اے گریڈ لینے کی نہیں ہوتی ،ملالہ سے کہیں زیادہ لائق نوجوان اس ملک میں موجود ہیں مگر ان میں سے کسی کو طالبان نے سکول وین سے نکال کر، نام پوچھ کر گولی نہیں ماری ، ملالہ کو اس لئے گولی ماری کہ اس نہتی لڑکی نے اُن کے خلاف اُس وقت آواز اٹھائی جب کوئی اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔دہشت گردی کی جنگ میں بے شک ہم نے ہیرے جیسے جوان کھوئے ہیں ، ہم انہیں تمغوں اور اعزازات سے نوازتے ہیں ، کیا دنیا کی باقی قومیں بھی یہی نہیں کرتیں ! ہاں، ملالہ پر خدا کی خاص کرم نوازی ہوئی ہے توکیا ہم محض اس لئے اس لڑکی سے نفرت شروع کر دیں کہ مغربی دنیا نے ہمارے کہنے پر باقی کے نوبل انعام ہماری جھولی میں کیوں نہیں ڈالے؟ اور پھرمغرب سے گلہ کرنے کی کیا ضرورت، اسلامی دنیا اپنا ایک اعزاز بنائے اور عافیہ صدیقی سے لے کر ڈاکٹر عبدلقدیر خان تک جسے دل چاہے سب کو دے ، کس نے روکا ہے !مگر یہ عجیب منطق ہے کہ وہ اپنا اعزاز ہم سے پوچھ کر دیں ، یا اگر انہوں نے ملالہ کو دیا ہے تو پھر ہماری مرضی کے مطابق وہ فلاں فلاں بچی کو بھی دیں!ایک سانس میں ہم دنیا سے یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے کارناموں کی قدر نہیں کی جاتی ، بین الاقوامی اعزازات میں ڈنڈی ماری جاتی ہے اور پھر اسی سانس میں ہم اپنی بچی کو ملنے والے اعزاز کو سازش سے تعبیر کرتے ہیں۔ کون لوگ ہیں ہم!
ملالہ یوسفزئی چھ برس بعد پاکستان آئی ہے ، اپنی تقریر میں اُس نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ کیسے وہ اپنے ملک کو ،اپنی دھرتی کو ،اپنے وطن کی مٹی کو دیار غیر میں یاد کرتی تھی ۔ملالہ اب بیس برس کی ہو چکی ہے ، اب وہ بچی نہیں رہی ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا ہر لفظ ناپ تول کر بولے ، وہ کیا پہنتی ہے ، کیا کھاتی ہے، کیا پڑھتی ہے ، کس کے ساتھ پڑھتی ہے ، تمام باتوں میں احتیاط لازم ہے،اس کی ایک ایک حرکت نوٹ ہوتی ہے ، ایسے میں اُس پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جانے ان جانے یا معصومیت میں ایسا کوئی بیان نہ دے جو اُس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔اِس شہرت اور کامیابی کی بھاری قیمت ملالہ کو چکانی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ