Madaris, Grammer School Aur Yaksaan Nizam e Taleem – Yasir Pirzada

25

آٹھویں جماعت کے تین اوسط ذہانت کے طلبا کو ایک ساتھ بٹھائیں، ان میں سے ایک مدرسے کا طالب علم ہو، دوسرا مہنگے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتا ہو اور تیسرا سرکاری اسکول میں،

اِن تینوں کو مختلف مضامین کے پرچے حل کرنے کے لئے دیں، پھر یہ حل شدہ پرچے چیک کریں اور دیکھیں کہ کون سا بچہ زیادہ نمبر حاصل کرتا ہے، غالب امکان ہے کہ مہنگے اسکول والا بچہ باقی دونوں سے بہتر نمبر لے گا۔

ابہام دور کرنے کے لئے یہ تجربہ مختلف بچوں پر ایک سے زیادہ مرتبہ آزمایا جا سکتا ہے مگر اِس ککھیڑ کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ لوگ اِس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مہنگے انگریزی اسکولوں کا معیار باقی اسکولوں اور مدرسوں سے بہتر ہے۔

یہ اور بات ہے کہ معیار کا تعین ہم انگریزی سے کرتے ہیں اخلاقی تربیت سے نہیں۔ سو مہنگے اسکولوں کی بگڑی ہوئی اولادیں چاہے اندھا دھند گاڑی چلائیں یا فیشن کے طور پر منشیات کا استعمال کریں انہیں سات خون معاف ہیں، باقی رہ گئے سرکاری اسکول تو انہیں ہم نے Ghettosبنا دیا ہے جہاں خاکروبوں، ملازموں اور کچی آبادی والوں کے بچے پڑھتے ہیں۔

ہم میں سے جو شخص ذرا بھی استطاعت رکھتا ہے وہ اپنا بچہ سرکاری اسکول میں نہیں بھیجتا اور اگر کسی کا بچہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ حقیقت میں غریب ہے۔ اِس گمبھیر مسئلے کا حل ہم نے ایک دلفریب نعرے کی صورت میں دریافت کیا ہے کہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج ہونا چاہئے۔

دلچسپ بات مگر یہ ہے کہ جس قسم کا یکساں نظام تعلیم ہم چاہتے ہیں ویسا پہلے ہی یکساں قومی نصاب کی شکل میں پورے ملک میں نافذ ہے (اب یہ اختیار صوبوں کے پاس ہے)۔

اس نصاب میں پوری تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس جماعت میں پڑھنے والے بچے کا کس مضمون میں کیا learning outcome (حاصلات تعلم) ہوگا، تدریسی مقاصد کیا ہوں اور کیسے پڑھایا جائے گا، مثلاً پانچویں جماعت کی ریاضی پڑھنے والے بچے کو اِس قابل بنایا جائے گا کہ وہLCMیا HCFنکال سکے،

یہ بچہ چاہے ٹاٹ کے اسکول میں پڑھتا ہو یا گرامر اسکول میں، اس بچے کی استعداد یہ ہونی چاہئے مگر اصل صورتحال اِس کے برعکس ہے۔ مہنگے اسکول کے بچے کے لئے یہ بالکل حلوہ ہوگا کیونکہ اسکول میں وہ سنگاپور کی کتابیں پڑھتا ہے اور شام کو ٹیوشن کے لئے جاتا ہے۔

یہاں پہنچ کر ہم ایک اور نعرہ لگاتے ہیں کہ بچوں کو نصابی کتب بھی ایک جیسی پڑھانی چاہئیں۔ یہ بات بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کیونکہ صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ کے ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ قومی نصاب کے تحت اپنی کتب شائع کروائیں یا پھر نجی اداروں کی شائع شدہ نصابی کتب منظور کریں،

ہوتا یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں زیادہ تر ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع شدہ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کیونکہ وہ سستی ہوتی ہیں جبکہ گرامر اسکول مہنگی امپورٹڈ کتابیں پڑھاتے ہیں مگر ہوتی وہ بھی منظور شدہ ہیں۔

اب ہمیں مزید کچھ نہیں سوجھتا تو ہم کہتے ہیں کہ تمام اسکول ایک جیسے کردو یہی یکساں نظام تعلیم ہے، بس، اور ہم کچھ نہیں جانتے!

دراصل مسئلہ نظامِ تعلیم کا نہیں طبقاتی تفریق کا ہے۔ نئی دہلی میں حکومت نجی اداروں کو اسکول بنانے کے لئے زمین الاٹ کرتی تھی، دہلی میں زمین بہت مہنگی ہے، بعض علاقوں میں تو اِس کی قیمت نیویارک اور پیرس سے بھی زیادہ ہے سو اِن مہنگے اسکولوں کی چاندی ہو گئی جہاں صرف امیروں کے بچے پڑھتے۔

اِس ماڈل پر بہت تنقید ہوئی کہ یہ اسکول اتنی قیمتی اراضی اینٹھنے کے بعد معاشرے کے غریب طبقات کے لئے کچھ نہیں کر رہے سو فیصلہ کیا گیا کہ دہلی کے یہ بہترین مہنگے اسکول اِس بات کے پابند ہوں گے کہ BPLیعنی Below Poverty Lineوالے بیس فیصد بچوں کو نہ صرف داخلہ دیں گے بلکہ ان کا مکمل خرچ بھی اٹھائیں گے

چنانچہ اب اِن اسکولوں میں داخلے کے لئے غریب قابل بچوں میں سخت مقابلہ ہوتا ہے اور کامیاب ہونے والے بچے امرا کے بچوں کے ساتھ وہی تعلیم حاصل کرتے ہیں جو پہلے صرف اشرافیہ کے لئے مخصوص تھی۔

ہم نے بھی بڑے بڑے شہروں میں قیمتی زمینیں نجی اسکولوں کو مفت میں دے رکھی ہیں، ایک مثال لاہور سے لے لیں، یہاں کے سب سے مہنگے گرامر اسکول کی اراضی آمریت کے دور کی اسمبلی کے اسپیکر صاحب نے یہ کہہ کر الاٹ کروائی کہ یہاں نظریہ پاکستان کی ترویج کی جائے گی، کروڑوں روپوں کی زمین لینے کے بعد موصوف نے ایک معروف کاروباری خاندان سے معاہدہ کیا کہ آپ یہاں اسکول کھول لو جہاں میں نظریہ پاکستان کا ایک مضمون پڑھانے آ جایا کروں گا،

اِس کے عوض مجھے سالانہ پچھتّر لاکھ دے دیے جائیں، یہی نہیں بلکہ اِس کے بعد جناب نے وہاں پرنسپل کی دو کنال کی رہائش گاہ بھی بنوائی اور قیام فرمانے لگے۔

اسی اسکول کے ساتھ ایک اور اسکول بھی ہے جو ڈالروں میں فیس لیتا ہے، اسے بھی سرکاری اراضی الاٹ ہوئی تھی، اسلام آباد میں بھی ایسے کئی اسکول ہیں۔ دہلی کی طرز کا ایک قانون پنجاب حکومت نے بنایا تھا اور ان اسکولوں کو پابند کیا تھا کہ وہ بیس فیصد غریبوں کے بچے پڑھائیں گے مگر اِس قانون پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ یہ ہے اصل مسئلہ جسے جڑ سے پکڑنے کی ضرورت ہے مگر یہ چونکہ مشکل کام ہے اس لئے ہم نے یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگایا ہوا ہے،

اِس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ مدارس جو اِس کی سب سے زیادہ حمایت کر رہے ہیں انہیں اپنا نصاب تبدیل کرنا پڑے گا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو قومی نصاب نہیں پڑھا رہے۔ دوسری طرف پاکستان کے تمام مہنگے اسکول ملک کے طرم خان خاندان چلا رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہر حکومت میں حصہ دار ہوتے ہیں اور خود کو ایک مسیحا کے روپ میں پیش کرتے ہیں، حال مگر ان کا یہ ہے کہ اپنے اسکول میں ایک بچہ بھی غریب کا برداشت نہیں کر سکتے لہٰذا یکساں نظام تعلیم کا نعرہ سب سے زیادہ انہی کو سوٹ کرتا ہے