Kitne Loog Manto Ko Role Model Banaien Gay | Nusrat Javed

49

Nusrat Javed latest column In Nawaiwaqt newspaper .

جس معاشرے میں دوائیاں،دودھ اور کھانوں کو ذائقہ دار بنانے والے مصالحے بھی خالص نہ ملتے ہوں،وہاں کرپشن کے خلاف دہائی بہت واجب سنائی دیتی ہے۔ اس دہائی کا آغاز مگر قیامِ پاکستان کے چند ہی ماہ بعد شروع ہوگیا تھا۔ وجہ اس کی بنیادی طورپر بھارت منتقل ہوئے ہندوﺅں اور سکھوں کی متروکہ املاک تھی جسے وہاں سے آئے مہاجروں میں تقسیم کرنے کے لئے ”محکمہ بحالیات“ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ہمارے کسی محقق نے دن رات کی محنت سے ٹھوس اعدادوشمار جمع کرکے ہمیں یہ بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ محکمہ بحالیات کے افسروں کی مہربانیوں سے ”ککھ کو لکھ“ بنانے کے عمل نے کیا گل کھلائے۔ اجتماعی اخلاقیات کو کیسے تباہ کیا۔

متروکہ املاک کو مالِ مفت سمجھ کر لوگوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو سمجھنا ہو تو یاد کرلیجئے کہ قدرت اللہ شہاب، جنہیں ہم میں سے اکثر لوگ ولیوں کا درجہ دینے کو بے چین رہتے ہیں،بحالیات کے ایک طاقت ور افسر کے طورپر سعادت حسن منٹو کو بھی ایک برف خانہ الاٹ کرنا چاہتے تھے۔ نیت ان کی اس ضمن میں یقینا بہت نیک تھی۔
اُردو زبان کو اپنی ذہانت سے عالمی ادب کے ہم پلہ شاہکاردینے والا منٹو،خون تھوکتا روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنے کو مجبور تھا۔اسے گھر چلانا تھا۔ بچیاں پالنا تھیں۔ اپنا ذہن رواں رکھنے کے لئے اسے ایک حرام شے کی بھی مستقل طلب رہتی۔ قدرت اللہ شہاب کو خوب علم تھا کہ منٹو برف خانہ چلانے کے قابل نہیں۔ نہ ہی اسے حاصل کرنا اس کا بطور مہاجر کوئی ”حق“ بنتا تھا۔ منٹو کو برف خانہ الاٹ ہوجاتا تو وہ یقینا اسے کسی کاروباری شخص کو بیچ دیتا۔اسے فروخت کرکے حاصل ہوئی رقم کو بینک میں جمع کرواکر اس سے ملے منافع سے اس کے لئے تھوڑی راحت کا بندوبست ہوسکتا تھا۔

منٹو اگر وہ برف خانہ لینے کو تیار ہوجاتا تو شاید اس کے لااُبالی پن کو ذہن میں رکھتے ہوئے قدرت اللہ شہاب کوئی ایسا شخص بھی ڈھونڈلیتے جو اسے کاروباری انداز میں چلاتا اور منافع کی رقم کا ایک مناسب حصہ ہر ماہ باقاعدگی سے منٹو کی بیوی کو پہنچادیتا۔ منٹو کو فکر معاش سے نجات مل جاتی تو اس کی بدولت نجانے کتنے مزید شاہکار اُردو ا دب کو نصیب ہوجاتے۔ نیت اس حوالے سے بہت نیک تھی مگر اخلاقی حوالوں سے سوچیں تو اس پر عمل درآمد والی سکیم مناسب نہ تھی۔ پارسائی کے کڑے معیار سے جانچتے ہوئے اسے ”حرام“ بھی کہا جاسکتا ہے۔

سوال یہاں یہ بھی اُٹھتا تھا کہ آیا قدرت اللہ شہاب،سعادت حسن منٹو کی معاشی راحت کا بندوبست صرف اس لئے کرنا چاہتے تھے کہ وہ ایک بے وسیلہ مگر شاندار صلاحیتوں کا حامل تھا۔ اس سوال پرغور کریں تو جواب نہیں میں ہے۔
قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے سالوں میں پاکستان کی ریاست اپنا ”نظریاتی“ قبلہ ڈھونڈرہی تھی۔ اس کی تخصیص کے لئے ضروری تھا کہ ہمارے شاعر اور ادیب باہم مل کر کوئی ”قومی بیانیہ“ تشکیل دیتے۔ گڑبڑ مگر یہ ہوگئی کہ 1936کے بعد سے شہرت صرف ”ترقی پسندوں“ کو نصیب ہوئی تھی۔ اگرچہ ان ”ترقی پسندوں“ نے تحریکِ پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ سٹالن کے بتائے ”قومیتوں کے حقوق“کی بنیاد پر دو قومی نظریے کو بھی درست قرار دیا۔ اس کی حمایت میں طویل مضامین لکھے۔ ریاستِ پاکستان کی نظر میں لیکن وہ ”دہرے،کمیونسٹ اور روس کے ایجنٹ“ ہی تصور کئے گئے۔ اپنی مقبولیت اور حلقہ اثر کے زعم میں ”انجمن ترقی پسند مصنفین“ نے بھی ادیبوں کو ”رجعت پسند“ اور ”ترقی پسندوں“ میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ منٹو کو ان کے بنائے معیار کے مطابق ”فحش نگار“ اور ”خودپرست“ ٹھہرادیا گیا۔
اناپرست منٹو اپنے خلاف آئے ”فتوے“ سے خارکھاگیا۔ انتہائی ڈھٹائی سے ”توں آخو آخو کہہ“ والا رویہ اپناتے ہوئے ان جریدوں کے لئے لکھنا شروع ہوگیا جو اپنے تئیں ”خالصتاََ“ پاکستانی ادب تشکیل دے رہے تھے۔ شیریں ممتاز اور محمد حسن عسکری اس ادب کو فروغ دینے میں نمایاں تھے۔ قدرت اللہ شہاب نے ان افراد کی سرپرستی کا ذمہ اٹھالیا۔ سعادت حسن منٹو جیسادیوقامت ادیب ان کی صفوں میں آنے کو تیار ہواتو اس کی کفالت کے لئے برف خانہ الاٹ کرنے کی سکیم ذہن میں آئی۔ یہ سکیم لہذا ایک ذہین وفطین ادیب کی محض سرپرستی نہیں ”رشوت“ تھی جو ریاست کی جانب سے طے کئے ”قومی بیانیے“ میں حصہ ڈالنے کے عوض دی جانی تھی۔
منٹو جیسے قد آور ادیب کی ”ترقی پسندوں“ کے خلاف بغاوت نے صرف قدرت اللہ شہاب جیسے افسروں ہی کو موم نہیں کیا تھا۔ لاہور میں موجود امریکی قونصل خانے کو بھی کمیونزم کے خلاف ایک مو¿ثر آواز کی خبر ہوگئی۔ اس کے نمائندے نے منٹو سے رابطہ کیا اور تحریروں کے معاوضے کے نام پر بھاری رقوم فراہم کرنے کا جھانسہ دیا۔ اناپرست منٹو اس پیش کش کو بھی برداشت نہ کرپایا۔ طیش میں آکر ”انکل سام کے نام“ خطوط لکھنا شروع ہوگیا۔ آج بھی وہ خطوط پڑھیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ بظاہر سیاست سے نفرت کرنے اور عالمی سیاست سے قطعاََ نابلد منٹو نے کسی بصیرت سے اس وحشت کو 1950ءکی دہائی سے بھانپ لیا تھا جو بالآخر 1980ءکی دہائی میں امریکہ نے ”افغان جہاد“ کے نام پر اس ملک میں مسلط کی۔

اگرآپ میرا یہ کالم ابھی تک برداشت کرتے پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچ ہی گئے ہیں تو ذرا رُک کر اپنے دل پر ہاتھ رکھیں۔ خوب سوچنے کے بعد ایمان داری سے یہ بتائیں کہ ہم میں سے کتنے لوگ سعادت حسن منٹو کو اپنا رول ماڈل مانیں گے؟ کیا ہماری اکثریت بہت غور کرنے کے بعد یہ کہنے کو مجبور نہیں ہوجائے گی کہ ”فحش نگار“ منٹو اپنی ناک سے آگے دیکھنے کے قابل ہی نہیں تھا۔ صرف اپنے دل میں آئے ”سچ“ کو بیان کرنے کے لئے بے چین ایک ”سفاک“ اور ”خودغرض“ شخص جس کو یہ خیال ہی نہ رہا کہ اس کی بیوی ہے۔بچیاں ہیں۔ اسے اپنے زیرکفالت لوگوں کی خاطر قدرت اللہ شہاب کا دیا برف خانہ لے لینا چاہیے تھا۔ امریکی قونصل خانہ کی خواہش کے مطابق چند تحریریں لکھ دیتا تو کونسی قیامت آجاتی۔کم از کم اس کے بچوں کو تھوڑی راحت تو نصیب ہوجاتی۔

”موقع“ کو ہاتھ سے گنوانا بے وقوفی تصور کی جاتی ہے اور ہم میں سے کوئی فاترالعقل شخص ہی منٹو کی طرح خون تھوکتا اپنی موت کا انتظار کرنا چاہتا ہے۔اس دعوے کے ساتھ کہ وہ صرف ”سچ“ لکھے گا۔ ستائش اور صلہ کی تمنا کئے بغیر۔ کرپشن کے خلاف دہائی مچانا بھی مگر ضروری ہے کیونکہ رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔