Kabul Dhamakoun Ka Ankhoun Dykha Haal – Aizaz Syed

41

کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے علاقے میں پہنچا تو ایک بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ عورتوں، بچوں کے رونے چیخنے کی آوازیں، ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس کے سائرن اور گاڑیوں کے ہارن مل کر خوف اور افراتفری کی ایک عجیب سی تصویر پیش کر رہے تھے۔ ائیرپورٹ کے داخلی دروازے سے کم و بیش سو ڈیڑھ سو فٹ کے فاصلے پر موجود میدان چوک پر ٹریفک جام ہو چکی تھی۔ ہر چہرے پر سنجیدگی اور خوف کے گہرے بادل چھائے ہوئےتھے اور سب کی آنکھیں پریشانی اور غیریقینی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ یہ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر 26اگست 2021کی اداس شام کے ڈھلتے سایوں میں ہونے والے پہلے دھماکے کے فوری بعد کے مناظر تھے۔

میرے سامنے ایک برقعہ پوش عورت ایک ننھے سے بچے کو سینے سے لگائے اور دو بچوں کو ساتھ لئے تیزی سے ائیرپورٹ کے علاقے سے نکل کر جان بچانے کی کوشش کررہی تھی۔ ایک آدمی اپنی اہلیہ کے ہمراہ نومولود کو سینے سے لگائے پریشانی سے تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ چار نوجوان لڑکیاں ائیرپورٹ کی طرف اداس آنکھوں سے بار بار دیکھ رہی تھیں مگر بوجھل قدموں کے ساتھ مخالف سمت چلنے پر بھی مجبور تھیں۔ یہ وہاں موجود ان ہزاروں لوگوں میں سے چند تھے جو اس بھگدڑ میں میری محدود بصارت اور یادداشت میں محفوظ ہو سکے۔ یہ وہ تمام لوگ تھے جو طالبان کے حکومت پر کنٹرول کے بعد کسی نہ کسی طرح افغانستان سے نکل جانا چاہتے تھے کیونکہ ان کے مطابق اب ان کا اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں۔

طالبان ایسے ہجوم کو قابو کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے اس لئے ان میں سے کچھ ہوائی فائرنگ کے ذریعے لوگوں کو ڈرا کر علاقے سے نکال رہے تھے تو کچھ ان پر چیخ رہے تھے اور بعض تو لوگوں کو ہاتھ میں پکڑی چھڑی سے ہانک رہے تھے۔ ویسے یہ یہاں کا معمول بن چکا ہے مگر یہ ہنگامی صورتحال تھی۔ طالبان کو پتہ تھا کہ یہاں پر پیدا ہوچکی صورتحال کے باعث کچھ اور دھماکے بھی ہو سکتے ہیں اور ہوا بھی ایساہی۔ ائیرپورٹ کے علاقے میں گزشتہ کئی روز سے آنا ہو رہا تھا، ابھی دو روز قبل ہی ایک طالبان کمانڈر نے مجھے یہ کہہ کر ائیر پورٹ آنے سے منع کیا تھا کہ یہاں داعش حملہ کر سکتی ہے۔ یہاں طالبان کی وجہ سے صحافیوں کے لئے عکس بندی کرنا بڑا مشکل ہے۔ ابھی طالبان حکومت کا باقاعدہ طور پر اعلان تو نہیں ہوا لیکن عوام اور میڈیا نے طالبان کو اصل حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے لہٰذا میڈیا والے ائیرپورٹ پر بھی سب سے پہلے طالبان کے انچارج کمانڈر جسے مسئول کہتے ہیں، کے پاس جاکر عکس بندی کی اجازت لیتے ہیں۔ چھپ چھپا کر بھی یہ رسک لے لیا جاتا ہے۔

میرے ساتھ جیو نیوز کے سینئر کیمرہ مین شاہد احمد حالات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں مگر پھر بھی وڈیوز بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ حالات کی خرابی صحافیوں کے لئے لوگوں کو صحیح صورتحال فراہم کرنے کا بہترین موقع بھی ہوتی ہے۔ بھگدڑ کے دوران ارد گرد پھرتے طالبان سے نظر بچا کر اپنے موبائل پر وڈیوز بنا رہا تھا تو نظر شاہد بھائی پر پڑی جو جیو کا کیمرہ کندھے پر رکھے سرعام عکس بندی میں مصروف تھے۔ ان کی بیباکی پر حیرانی بھی ہوئی اور ساتھ ہی خیال آیا کہ ہم کچھ اور ریکارڈنگ کر لیں۔ کیمرہ دوبارہ آن ہوا تو میں نے حالات بتانے کے لئے بولنا شروع کیا ہی تھا کہ ایک طالبان جنگجو کی ہم پر نظر پڑ گئی اور اس نے ہمیں روک دیا۔ اسے بتایا گیا کہ ہمارے پاس ترجمان طالبان ذبیح اللّٰہ مجاہد کا تحریری حکم نامہ ہے مگر اس نے ایک نہ سنی۔ کچھ ہی دیر میں دوسرا دھماکہ ہو گیا۔ دوسرے دھماکے کے بعد بھی بھگدڑ کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آئی لیکن میں نے غور کیا کہ فٹ پاتھ کے اطراف موجود دیواروں کے ساتھ ابھی تک چند خاندان بچوں سمیت شاید اس امید پر دبکے بیٹھے تھے کہ حالات معمول پر آتے ہی وہ ائیرپورٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اچانک ایک طالبان جنگجو کی ان پر نظر پڑی تو اس نے ان پر چیخنا شروع کردیا جس پر انہوں نے علاقہ خالی کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

طالبان نے سب کو علاقے سے نکالا تو تھوڑی دیر میں اس علاقے میں ٹریفک کھل گئی۔ گاڑیوں کو علاقے میں آنے سے روک دیا گیا۔ ہم ائیرپورٹ سے تھوڑی دور آگئے۔ دفتر میں خبریں ارسال کیں اور کھانا وغیرہ کھایا۔ شاہد بھائی جو صبح سے کام کررہے تھے، سونے چلے گئے لیکن میری نیند اڑ چکی تھی۔ ہم جس جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں، یہ ائیرپورٹ سے کم و بیش ساڑھے 5کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ضروری سامان ہوٹل کی ریسپشن پر رکھا اور پھر باہر آگیا تو وہاں ایک ترک صحافی دوست بھی مل گیا، ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک اور زور دار دھماکے کی آواز سے سارا علاقہ گونج گیا۔ ہم قریبی اسپتال جانے لگے تو سڑک پر تعینات طالب کو بطور پاکستانی صحافی اپنا تعارف کروایا تو وہ بڑی بدتمیزی سے بولا ’’تم پاکستانی ہمارے دشمن ہو، یہاں سے نکل جائو‘‘۔ طالبان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پاکستانیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایسے بھی جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیں ذرہ برابر اچھا نہیں سمجھتے۔ طالبان جنگجو کا رویہ دیکھ کر ترک صحافی دوست نے مجھے نکلنے کا اشارہ کیا اور پھر ہم خاموشی سے نکل آئے اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ رات ڈھائی بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ ہوٹل واپسی کے راستے پر فٹ پاتھ پر جگہ جگہ عورتیں، بچے اور مرد سو رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ ابھی صرف بارہ روز پہلے تک کابل میں اشرف غنی کی حکومت ہمہ وقت طالبان کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے کوشاں ہوا کرتی تھی مگر اب حالات نے ایسی کروٹ بدلی ہے کہ کابل پر حملہ کرنے والے طالبان اب افغانستان میں امن کے داعی بن چکے ہیں۔

طالبان کے کنڑول کے بعد اگرچہ امید ہے کہ امن آئے گا لیکن داعش کے ایئرپورٹ پر کیے گئے ان حملوں میں 90کے قریب ہلاکتوں اور بیسیوں افراد کے زخمی ہونے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ابھی امن بہت دور ہے۔ اب داعش خراسان اور اس کے مئی 2020سے تعینات سربراہ ڈاکٹر شہاب المہاجر افغانستان، طالبان اور امن کے لئے نیا چیلنج بن چکے ہیں۔ افغانستان میں سب کچھ بدل گیا ہے صرف ایک چیز نہیں بدلی اور وہ ہے بےگناہ افغان عوام کی ہلاکتیں۔