Istanbul Say (II) – Irshad Bhatti

16

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار سے نکلا،کالے بادل، اندھیرا، بارش، ہوا، کچھ سجھائی دے رہا تھا نہ سمجھائی، سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ بارش، طوفانی ہوا، چھتری کھول کر اوپر کی، لمحہ بھر میں چھتری ہاتھ سے چھوٹی اور یہ جا وہ جا، اندھیرے جیسی دھند میں اندازے سے چلتا چلتا کسی نہ کسی طرح ٹیکسی اسٹینڈ پر پہنچا۔

ایک بھی ٹیکسی کھڑی نہ ملی، مرتا کیا نہ کر تا، برستے آسمان تلے دس منٹ تک طوفانی ہوا میں کھڑا ہونا پڑا، اِن دس منٹوں میں جو بیتی، لگ پتا گیا، ٹیکسی آئی، اندر بیٹھا، سر سے پاؤں تک پانی پانی، چند لمبی لمبی سانسیں لیں، ٹشو سے سر، منہ خشک کرنے کی ناکام کوشش کی، ترکی زبان میں لکھا ہوا ایڈریس جیب سے نکالا، ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑایا، ایڈریس پڑھ کر چند لمحے وہ زیرِ لب بڑبڑا کر بولا، اوکے۔ ٹیکسی چلی، جان میں جان آئی۔

استنبول میں ایک مشکل یہ بھی، جتنی مجھے ترکی آتی ہے اتنی ٹیکسی ڈرائیوروں، دکانداروں، راہ چلتے لوگوں کو انگلش، لہٰذا دو چار جملوں کے بعد اشاروں کی زبان شروع، اِس لئے جہاں جانا ہوتا ہے وہ ہوٹل منیجر کو انگلش میں بتاتا ہوں وہ ایک کاغذ پر ترکی زبان میں لکھ دیتا ہے،یہی کاغذ ٹیکسی ڈرائیور کو تھما دیتا ہوں، کام چل جاتا ہے۔

اِس وقت میری منزل حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت سفیان بن عنینہ ؓاور حضرت وہب بن عشیرہ ؓکے مزار مبارک، میں اب تک یہی سمجھتا رہا کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کا مزار مبارک مصر میں، کچھ عرصہ پہلے پتا چلا قاہرہ(مصر) میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے کا مزار، حضرت عمرو بن العاصؓ کا مزار ترکی میں، اپنے صحافتی برادری کے کولمبس، 86ملکوں کا چپہ چپہ، کونہ کونہ چھان چکے۔

سینئر دوست جاوید چوہدری سے پوچھا اُنہوں نے بھی تصدیقی مہر لگائی کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کا مزار استنبول میں، چوہدری صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ ترکی کے شہر ازمیر کیساتھ Ephesusمیں وہ گھر بھی ضرور دیکھنا جہاں حضرت مریمؑ نے قیام کیا،

بقول چوہدری صاحب جب حضرت عیسیٰ ؑکو مصلوب کیا جانے لگا (بعد میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو اوپر اُٹھا لیا) تو عیسیٰ ؑنے اپنے گیارہ حواریوں میں سے خاص حواری جان سے کہا کہ میری والدہ حضرت مریم ؑکا خیال رکھنا، بعد میں حضرت مریم ؑحضرت عیسیٰ ؑ کے معتقدِ خاص جان کے ہمراہ ہجرت کر کے ازمیر کیساتھ Ephesus میں آکر رہیں اور وہ انتقال سے قبل فلسطین لوٹیں۔

ٹیکسی چلتی رہی، میں کپڑوں سے پانی خشک کرتا رہا، تقریباً 40منٹ بعد ساحلِ سمندر پر جدید عمارتوں کے پیچھے ایک تنگ گلی کی نکڑ پر گاڑی روک کر ڈرائیور نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ وہ سامنے مسجد کے اندر مزار مبارک،

ٹیکسی ڈرائیور کو اس کی من مرضی کا کرایہ دیا، بیس، پچیس قدم چل کر تین چھوٹے چھوٹے میناروں والی گھر نما مسجد کے دروازے پر پہنچا، جوتے اُتارے، وضو کیا اور سرخ قالین، مدہم روشنیوں، زمین سے 6ساڑھے چھ فٹ اونچی چھت والی مسجد میں داخل ہوا اور ایک کونے میں سبز لائٹیں دیکھ کر چند قدم چلا تو سامنے صحابی رسول سفیان بن عنینہؓ کا مزار،مسجد کے اندر لوہے کا سبز جنگلا، ارد گرد سبز دیواریں، سبز چادر میں ڈھکی قبر مبارک، سبز تیز لائٹیں، مزار کے اندر داخل ہوا، ایک طرف بیٹھا، آنکھیں بند کیں اور پھر سے وہی دعائیں، التجائیں۔

یہاں سے اُٹھا، باہر آ کر مسجد میں قالین کی صفائی کرتے شخص سے حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار کا پوچھا، اُس نے مسجد کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا، پچاس ساٹھ قدم چلنے کے بعد حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار پر پہنچا،

یہاں بھی حضرت سفیان بن عنینہ ؓکے مزار جیسا منظر، سبز روشنیاں، سبز لوہے کا جنگلا، سبز قالین، سبز رنگ کی دیواریں، بس فرق اتنا، یہاں ساتھ جڑی ہوئی دو قبریں، ایک حضرت عمرو بن العاصؓ، دوسری وہب بن عشیرہ ؓکی، یہاں بھی ایک کونے میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھا اور تب تک بیٹھا رہا جب تک مغرب کی اذان نہ ہوئی،

مغرب کی اذان ہوئی، الوادعی سلام کیا، نماز پڑھی اور مسجد سے باہر نکل آیا، بارش آہستہ اور ہوا رک چکی تھی، اس بار باہر نکلتے ہی ٹیکسی بھی مل گئی، ڈرائیور کو اپنے ہوٹل کا نام بتایا اور سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں،

دل خوش، دماغ پُرسکون، یہ مشن امپاسیبل کے پاسیبل ہونے کا سکون اور خوشی۔استنبول میں چار دن، کیا نہ کیا، میٹرو میں بیٹھا، کم گہرے سمندر میں کشتی چلائی، فیری نما جہاز میں بیٹھ کر ایشین استنبول، یورپین استنبول کے درمیان دو گھنٹے مر مر سمندر کی سیر کی،

آبنائے باسفورس جی بھر کر دیکھا، ون پونے ترکش کھانے کھائے، استنبول کی صبحوں شاموں کے نظارے کئے، آپ ذرا ملاحظہ فرمائیں یہ منظر،

اونچے اونچے شاپنگ پلازے، ساتھ تاریخی عمارتیں، ساتھ موٹر وے نما سڑکیں، ساتھ درختوں میں گھرے فٹ پاتھ، ساتھ پارک، ساتھ نیلے پانیوں والا سمندر، ساتھ سمندر میں کشتیاں، بوٹیں، فیری، ساتھ پانی میں تیرتے، اُڑتے رنگ برنگے پرندے اور ساتھ سمندر کے دوسرے کنارے پر دھندلی دھندلی عمارتیں، بےذوق سے بےذوق بھی اِن مناظر پر مر مٹے۔

یہاں یہ بھی بتاتا چلوں استنبول جو ترکی کا سب سے بڑا شہر، رومن سلطنت کے دور میں اسے قسطنطنیہ کہا جاتا تھا لیکن 1453میں جب مسلمانوں نے اس پر قبضہ کیا تو ا س کا نام ’اسلامبول‘ رکھ دیا، جس کا مطلب ’اسلام کا گھر‘، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نام ’اسلامبول‘ میں تبدیلیاں آتی گئیں اور بالآخر یہ استنبول بن گیا، بعض مورخین یہ بھی کہیں کہ ’اسلامبول‘ ترکی نہیں یونانی زبان کے دولفظ جن کے معنی ’جانبِ شہر‘، لیکن مسلمان مورخین کی اکثریت اس بات پر متفق کہ اسلامبول ترک زبان کے دو الفاظ جن کے معنی ’اسلام کا گھر‘ ہیں۔

اِن چار دنوں میں طیب اردوان سے محبت کرنے والے بھی ملے، ان سے تنگ آئے لوگ بھی ملے،

ترکی کے مسلم اُمّہ میں کردار پر خوشی سے پھولے ہوؤں سے بھی ملاقات ہوئی، ترکی کی گرتی معیشت، بڑھتی بیروزگاری اور غربت پر دکھی لوگوں سے بھی ملاقات بھی ہوئی،

کئی لوگوں نے ترکی کے حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں سنائیں تو اپنے پاکستان کے گاڈ فادر، سسلین مافیا یاد آ گئے، جب ایک طبقے سے انتقامی کارروائیوں کی داستانیں سنیں تو دکھ ہوا کہ یہ سب مسلم ممالک میں ہی کیوں،

ہم ابھی تک اسی میں کیوں پھنسے ہوئے،بہرحال آج جدید،قدیم میں جھولے مائیاں لیتے 80لاکھ کاروں والے استنبول میں میرا آخری دن، اگلی منزل، میلان، روم، فلورنس مطلب اٹلی، اب ملتے ہیں اٹلی میں۔ (جاری ہے)